ساس،بہو اورمہنگائی……
30 ستمبر 2020 (11:48) 2020-09-30

ایک مثل ہے کہ جب میں بہوتھی تے میری”سس“پیڑی سی جد میں ”سس“ بنی تے مینوں بہو چنگی نہ ملی کچھ یہی حال تبدیلی سرکارکا ہے نام نہاد دھرنے میں عمران خان چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ مہنگائی ہو تو جان لیں حکمران کرپٹ ہیں چور ہیں ڈاکو ہیں،آج ہر طرف مہنگائی کادوردورہ ہے پہلے کہا جاتا تھا کہ دو وقت کی روٹی ملنی چاہیے آج کہا جا رہا ہے کہ ایک وقت کی ہی مل جائے ہر شخص کو روٹی کے لالے پڑے ہیں حکومت ہے کہ ہم یہ کردیں گے وہ کردیں گے جیسے دعووں سے آگے نہیں بڑھ رہی غربت کا جادوسر چڑکر بول رہا ہے کہ کر لو جو کرنا ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت نے 94 ادویات کی قیمتوں میں 262 فیصداضافہ کر دیا ہے جواز یہ پیش کیا گیا کہ مارکیٹ میں ادویات کی کم دستیابی، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے مجبوراً ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا،اس سلسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ قیمتیں نہ بڑھاتے تو مارکیٹ سے ادویات غائب ہونے کا خدشہ تھا،ادھرفواد چوھدری نے نئی پھلجڑی چھوڑ دی ہے کہ عوام کو تعلیم اورصحت کی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اب دیکھیں یہ ذمہ داری کس طرح نبھائی جا رہی ہے کہ مرے کو مارے شاہ مدارکے مترادف ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے نہ جانے عوام کی کون سی خدمت کی جا رہی ہے ایسے میں جب لوگ مہنگائی کے ہاتھوں زندگیاں ختم کر رہے ہیں مان لیا کہ مافیا 

کا ملک میں راج ہے یہ بھی مان لیا کہ قیمتیں نہ بڑھاتے تو ادویات کی قلت کا اندیشہ تھالیکن کیا”ویلنے“ میں بازوآیا ہواتھا کہ دوسری طرف بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 62 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جس کے مطابق عوام پر 165 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا،بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی کہ یوٹیلٹی سٹورز پرکوکنگ آئل گھی اور دودھ کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں،اس وقت عوام کو غربت، مہنگائی،بے روزگاری جیسے مسائل کا سامناہے اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں نے غریبوں کا سانس لینا بھی مشکل کردیا ہے حکومت نے دو سال میں مہنگا ئی کے سارے ریکا رڈ تو ڑ دئیے ہیں 94ادویا ت کی قیمتو ں میں ہوش ربا اضا فہ غریب عوام کو علا ج سے محرو م کر دینے کے مترا دف ہے، حکو مت نے دو سال کے عرصے میں اشیا ئے خورو نو ش سمیت ہر شے کی قیمت میں کئی گنا اضا فہ کیا ہے اور مہنگا ئی کے پچھلے سارے ریکا رڈ تو ڑ ڈا لے ہیں شہباز شریف کے دور میں پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں دی جانے والی مفت ادویات کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، افسو س کہ حکمرا نو ں کو عوامی مشکلا ت سے کو ئی سرو کا ر ہی نہیں تبد یلی سرکا ر عوام کے حا لا ت میں بہتری لا نے کی بجا ئے مزید ابتری کی جانب دھکیل رہی ہے، غریب عوام کابیمارہوناموت کے مترادف ہے،حکومت کا ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری اپنے منظور نظر میڈیسن کمپنیوں کو نوازنا عوام دشمن اقدام ہے، اشیاء خورونوش، پیٹرول، آٹے، چینی، دودھ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں دوسری طرف زندگی بچانے والی ادویات میں اضافہ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا ہے تاکہ غریب بغیر علاج کرائے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے،کہاں گئے وہ دعوے کہ عوام پر خرچ کریں گے؟جبکہ عوام کی جیب پر روز ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، جس سے ثابت ہو گیا کہ یہ مافیاز کی حکومت ہے، تبدیلی سرکار کی حکومت میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے، وزیرمشیراوردرجنوں کے حساب سے خزانے پربھاری ترجمان سب چین کی بانسری بجا رہے ہیں جبکہ حالات اس نہج پرہیں کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہے سابقہ حکومتوں پر ثواب سمجھ کرنشترزنی کرنے والوں نے ملکی قرضوں میں ریکارڈ 12ہزار865ارب اضافہ کردیا ہے اوسطاً ہر روز 15ارب قرض لیا گیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کیا ہے اور عوام ریاست مدینہ میں کتنے خوشحال ہیں شبلی فراز قیمتوں میں اضافے کا خود جواز مہیا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جن دواؤں کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کے نرخوں میں عشروں سے اضافے نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی تھی،دیکھیں مارکیٹ میں ادویات موجود رکھنے کا کیسا بہترین جواز ہے اللہ ان کے حال پر رحم کرے جوعوام کو بے حال کر رہے ہیں حکومت علاج معالجہ اور ادویات فری مہیا کرنے کی بجائے مہنگائی کرکے غربیوں پر ظلم کررہی ہے، حکومتی اقدامات نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے شہراقتدار کے باسیواپنا کہا ہوا محاورہ خود ہی دہرا دیجیے کہ مہنگائی ہوتو سمجھ لیں کہ حکمران کرپٹ ہیں کیونکہ

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں 

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی 


ای پیپر