اگر ہم بگڑ گئے تو تمہارا وہ حال کریں گے جو امریکی فوج کا افغانستان میں ہوا: مولانا فضل الرحمٰن
30 ستمبر 2020 (10:11) 2020-09-30

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم اس ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتے، ہم ریاست میں آزاد شہری کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں اس طرح کے غلامانہ رویے کسی صورت قبول نہیں۔

تفصیلات کے مطابق کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کے آمرانہ رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتے۔ کیا ریاست کا کام شہریوں کی کردار کشی کرنا ہوتا ہے۔ کردار کشی کرنے والے احترام کی توقع نہ رکھیں۔ میڈیا کردار کشی مہم میں شامل ہو کر خود کو گندا نہ کرے۔ نیب متوازی عدالت ہے جسے روز اوّل سے تسلیم نہیں کیا۔ سیاستدانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے ریاستی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت افراتفری کا عالم ہے اور ملک پر وہ ٹولہ مسلط ہے جسے کوئی آئینی اور قانونی اختیار ہی حاصل نہیں، ہم نے آزادی کی تحریکیں اس لئے نہیں چلائیں کہ اس ملک پر آمریت مسلط رہے، گرفتاری سے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سیدھے ہو جاؤں میں اُن کا پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم تو پہلے ہی سیدھے ہیں، وہ ہمیں جانتے نہیں ہیں اگر ہم بگڑ گئے تو اُن کا وہ حال کریں گے جو امریکی فوج کا افغانستان میں ہوا۔ وہ ہمیں دبانے کی کوشش نہ کریں۔

واضح رہے کہ حکومت مخالف بیان دینے کی وجہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) نے مولانا فضل الرحمان کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے اثاثوں کی ابتدائی معلومات حاصل کر لی ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا بنوں روڑ پر بنگلہ اور تین سو کنال زرعی اراضی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی اور ڈیرہ اسماعلیل خان مں بھی سینکڑوں اراضی کے مالک ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چک شہزاد راولپنڈی مں 3 ارب مالیت کی زمین حال ہی میں فروخت کی گئی، جس کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

ادھر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب حکام الزامات سے پہلے نوٹس تو دیں۔ ان جائیدادوں کا پتا بھی تحریر کریں تاکہ ہم ان کا قبضہ تو لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات پہلی بار نہیں لگ رہے۔ ایک بار بھی نوٹس دینے کی جرات نہ ہوئی۔


ای پیپر