” بیس برس بعد ۔۔۔“
30 ستمبر 2020 2020-09-30

آج سے بیس ، اکیس برس پہلے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے اپنے شوہر کی حکومت ختم کئے جانے کے بعد ایک تحریک چلائی تھی جس نے اس وقت کی آمریت کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اس پورے خاندان کو ملک سے نکال دے حالانکہ اس وقت خواہش اور منصوبہ بندی یہی تھی کہ سابق وزیراعظم کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزائے موت دے دی جائے۔ مجھے دسمبر کی وہ شام یاد ہے جب شریف خاندان ماڈل ٹاو¿ن سے سامان باندھ کے رخصت ہورہا تھا تو پارٹی کی قربانیاں دینے والی خاتون رہنما افسردہ تھیں اور سمجھ رہی تھیں کہ یہ ایک غلط فیصلہ ہے مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ شریف فیملی کی طرف سے جلاوطنی کا فیصلہ سو فیصد درست تھا ورنہ ایک جج نے جو ہمت نہیں کی تھی وہ کوئی دوسرا جج بھی کر سکتا تھا۔ اسی فیصلے کا نتیجہ تھا کہ نواز شریف ایک مرتبہ پھر پوری جسمانی صحت اور سیاسی طاقت کے ساتھ وطن واپس پہنچے تھے اور انہوں نے ملک کے وزیراعظم کا عہدہ بھی سنبھال لیا تھا ،اسی دور میں انہوں نے ملک سے دہشت گردی،لوڈشیڈنگ اور مہنگائی جیسی بلاو¿ں کا خاتمہ کیا تھا۔

یہ ابھی ایک برس پرانی بات ہے جب میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر علاج کے نام پر ملک سے رخصت ہو رہے تھے تو یہ مناظر میرے اورمیرے ساتھ رپورٹنگ کرنے والے پرانے صحافیوں کے لئے نئے نہیں تھے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ دور میں نواز شریف کے ساتھ کیا اور کتنا برا ہوسکتا تھا مگر ان کی صاحبزادی مریم نواز کے الزامات ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اس وجہ سے گر رہے تھے کہ ان کو خوراک میں زہر دیا جا رہا تھا، اس مرتبہ کہانی صرف اس طرح مختلف ہے کہ جلاوطن صرف نواز شریف ہوئے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ضمانت کے طور پر جس حمزہ شہباز شریف کو ملک میں رکھا گیا تھا وہ اب اس کی سوا برس سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے ضمانت ہی منظور ہی نہیں ہورہی۔ شہباز شریف کابیانیہ اس وقت بھی وہی تھا جو اب ہے اور ان کے ساتھ اس وقت بھی وہی سلوک ہوا تھا جو اب ہو رہا ہے یعنی وہ بھی جیل بھیجے گئے تھے اور جلاوطن کئے گئے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جناب پرویز بشیر، سلمان غنی اور میں ماڈل ٹاو¿ن کے اس گھر کے پچھلے حصے کے ڈرائنگ روم میں محترمہ کلثوم نواز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور اسی روز ذرائع کے حوالے سے اخبارات میں شہ سرخیاں شائع ہوئی تھیں کہ شہباز شریف نے ایک خط چوہدری نثار کو لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کو دیوار سے ٹکر نہ مارنے اورمفاہمت کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جب یہ بات بیگم صاحبہ سے کہی گئی تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ یہ مشورہ اپنے دوست مشرف کو کیوں نہیں دیتے۔ ہمارا خیال تھا کہ بیگم صاحبہ اپنے اس کمنٹ کو آف دی ریکارڈ قرار دے دیں گی اور ہم اس کو رپورٹ نہیں کر سکیں گے مگر انہوں نے پوری ملاقات میں اپنے ردعمل کو آف دی ریکارڈ قرار نہیں دیا۔ دونوں صحافی مجھ سے سینئر تھے اور انہوں نے ہی فیصلہ کیا کہ یہ فقرہ رپورٹ کر دیا جائے گا اور یوں ہم تین صحافیوں نے جب یہ بات رپورٹ کی تو اگلے روز شہ سرخیوں میں تھی۔ اس ردعمل کے شائع ہونے سے جاتی امرا میں بھونچال آ گیا اور میاں محمد شریف مرحوم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔ اس خبر کی تردید جاری کر دی گئی جو اگلی روز کے اخبارات میں شائع بھی ہو گئی کہ تردید کرنا ان کا حق تھا۔

آج بیس برس بعد بھی ہم اسی جگہ کھڑے ہیں کہ نواز شریف مزاحمت چاہتے ہیں اورشہباز شریف مفاہمت۔ نون میں سے شین نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے مگر شہبازشریف ستر برس کی عمر میں قید میں چلا گیا ہے مگر اس نے نون سے شین کو الگ نہیں کیا۔ آج بیس برس کے بعد میں جب مریم نواز کو بولتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے بیگم کلثوم نواز یاد آجاتی ہیں۔ وہ بھی پرویز مشرف کے خلاف اسی بہادری اور جرا¿ت کے ساتھ بولا کرتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے دوست صحافی اسرار بخاری صاحب نے بیگم صاحبہ کی تقریریں لکھنی شروع کیں تو وہ چھوٹے فونٹ میں سات سات صفحوں کی تقریریں ہوا کرتی تھیں اوران میں کوئی واقعہ اور کوئی بات نہیں چھوڑی جاتی تھی جس پر تبصرہ نہ ہو۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ مریم نواز بہت ہمت، جرات اور بہادری سے کام لے رہی ہے تو مجھے بیگم کلثوم نواز یاد آجاتی ہیں۔ یہ مارشل لا کے ابتدائی دن تھے اور پورا گھرانہ ماڈل ٹاو¿ن میں قید تھا۔ ہم صحافیوں کو کہا گیا کہ بیگم صاحبہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے تو ہمارا سوال تھا کہ یہ کیسے ہو گا۔ہمیں کہا گیا کہ ہم فیروز پورروڈ کے ساتھ میلوں لمبے ماڈل ٹاو¿ن پارک کے ایک کونے میں پہنچیں، ہمیں ان کے گھر کی سڑک کے پار پودوں کے پیچھے چھپا کر بٹھا دیا گیا اور ایک موبائل فون کے ذریعے ان سے سوال جواب شروع ہو گئے۔ بیگم صاحبہ اپنے گھر کی چھت پر پہنچ گئیں ۔ وہ موبائل فون سے سوال سنتیں اور میگا فون پر جواب دیتیں۔ پولیس کی دوڑیں لگ گئیں مگر کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور یوں ہم نے ایک منفرد اور خطرناک قسم کی پریس کانفرنس رپورٹ کی مگر ا سکے بعد ان کے گھر کے اندر بھی مسلح اہلکار بٹھا دئیے گئے۔ اسی طرح بعد میں خواجہ عمران نذیر جو بہت نوجوان کارکن ہوا کرتے تھے ہمیں خفیہ اطلاع دیتے تھے کہ فلاں جگہ مظاہرہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم وہاں پہنچتے تھے تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا مگر آناً فاناً گلیوں سے لیگی کارکن نکلتے تھے اور پولیس کے آنے کے پہلے مظاہرہ کر کے غائب ہوجاتے تھے اور وہ اس کی تصویریں یا فوٹیج بنوالیتے تھے۔ اس کے مقابلے میں شہباز شریف سیکرٹریٹ والے کارکن بہت خوفناک مظاہرے کرتے تھے ان کی قیادت پہلے جاوید اشرف شہید کیا کرتے تھے اور پھر نوشاد حمید میدان میں آ گئے تھے۔ مشرف مارشل لا کے خلاف یہ انوکھے اور خطرناک ترین مظاہرے ہوتے تھے کہ کبھی مال روڈ پر خود کو تالوں ،زنجیروں سے باندھ لیا ، پنجروں میں بند کر لیااور نعرے بازی شروع کر دی، کبھی نواز شریف کی تصویریں لے کر نہر میں کود گئے کہ پولیس تالے توڑے گی تو گرفتار کرے گی یا نہر میں کودے گی تو پکڑے گی۔ نوشاد حمید کو پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی لفٹ نہیں کروائی۔

ایک مرتبہ بیگم کلثوم نواز نے تحریک تحفظ پاکستان میں بڑا جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا تو پولیس نے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔ وہ گھر سے نکلیں مگر ایک آدھ ناکہ کراس کرنے کے بعد ہی پولیس نے ان کی گاڑی کا محاصرہ کر لیا۔عجیب منظر تھا کہ نہر پر ان کی گاڑی کو ایک لفٹر سے آگے سے اٹھا کے جی او آر پہنچایا گیا۔بیگم کلثوم نواز، تہمینہ دولتانہ کے ہمرا ہ رات گئے تک اس گاڑی میں رہیں مگر سرنڈر نہ کیا اور یوں انٹرنیشنل میڈیا کی ہیڈلائنز بنتی رہیں۔ میں نے مریم نواز کو پریس کانفرنس کرتے دیکھا تو مجھے ان میں ان کی ماں کا عکس نظر آیا۔ یہ درست ہے کہ شریف فیملی کو جلاوطنی اورقید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے مگر اس دور میں ناظم اور اب کے رکن اسمبلی ملک وحید گپ شپ کرتے ہوئے درست کہہ رہے تھے کہ وہ دور بہت سخت تھا ، یہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ مریم بی بی جب نیب ہیڈکوارٹر گئیں تو ہمیں چپیڑیں پڑ گئیں تو ہم نے بہت رولا ڈالامگر پہلے تو میجر سیف کا سامنا کرناپڑتا تھا اور ان کے بارے تو سب ہی پرویز رشید سے کئے گئے سلوک کے حوالے سے جانتے ہیں۔

میں سوچ رہا تھا کہ بیس برس سے زائد گزر گئے مگر سیاست وہاں کی وہاں ہی ہے، ہاں، اب عمران خان وہاں ہیں جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف نے سیاست شروع کی تھی مگر ان دونوں نوجوانوں کے سامنے تو زندگی پڑی تھی جبکہ عمران خان تو پہلے ہی ستر برس کی عمر کو چھو رہے ہیں۔مجھے لگتاہے کہ اگلے بیس برس بعد اگر میں زندہ ہوا تو پھر اسی طرح کا ایک کالم لکھ رہا ہوں گا ورنہ میری جگہ کوئی دوسرا اسی قسم کے حالات میں آج کے وقت کو یاد کر رہا ہوگا۔


ای پیپر