کاش عوام بھی لاڈلے ہوتے
30 ستمبر 2020 2020-09-30

پاکستان کی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اب مفاہمت کے بجائے جارحانہ سیاست کا اعلان کر رہی ہیں۔میاں محمد نواز شریف جو کافی عرصے سے خاموش تھے انہوں نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے عوام کے سامنے چارج شیٹ پیش کی اور اب ٹویٹر پر بھی سرگرم ہو گئے۔آصف علی زرداری ،مولانا فضل الرحمن ،مریم نواز ،بلاول سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنما بھی فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔دوسری جانب حکومت بھی اپوزیشن سے بات کرنے کے بجائے احتساب کے نام پر انہیں سبق سکھانے کی راہ پر گامزن ہے۔شہباز شریف کی گرفتاری سے حکومت نے اپوزیشن کو پیغام دے دیاہے کہ وہ ڈیل یا ڈھیل دینے کے لیے تیار نہیں۔سیاست کے بڑے کھلاڑی جو ابھی تک بلائینڈ کھیل رہے تھے ان کی جانب سے کچھ پتے شو کر نے سے سیاسی موسم گرم ہو گیا ہے۔نواز شریف کی چارج شیٹ کے جواب میں دوسرے فریق نے بھی بتا دیا کہ سیاستدان ان سے ملاقات کرتے ہیں، مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے آرمی چیف سے دو ملاقاتیں کیں اور یہ ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہوئیں جس کے بعد نواز شریف کو کہنا پڑا کہ کہ کوئی پارٹی رکن آئندہ عسکری اور ایجنسیوں کے نمائندوں سے نہیں ملے گا۔ قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کے لیے ضروری ہوا تو ایسی ملاقات پارٹی قیادت کی منظوری کے بعدعلانیہ ہو گی خفیہ نہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والے انہیں کی پیداوار ہیں اور کبھی وہ بھی لاڈلے تھے لیکن جب محمد زبیر کی ملاقات سے کوئی ریلیف نہ ملا اور حکومت کی طرف سے بھی اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے اس کے بعد اپوزیشن کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اب وہ لاڈلے نہیں رہے اور ان کے پاس ٹکرانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا ، اگر انہوں نے حکومت کو ٹف ٹائم نہ دیا تو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے استعفوں اور لانگ مارچ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔اپوزیشن احتجاجی جلسوں اور لانگ مارچ کر کے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے لیکن اپوزیشن فی الحال احتجاج کے ذریعے حکومت گرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔پاکستان میں تب تک تحریکیں کامیاب نہیں ہوتیں جب تک انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ ہو اور ابھی ایسا نظر نہیں آتا کہ اپوزیشن کو اسٹیبلشمنٹ سپورٹ کرے۔

سقراط نے کہا تھا فتح طاقت کی نہیں بلکہ سچ کی ہوتی ہے۔میاں نواز شریف اپنی تقاریر میں تین بار کے وزیر اعظم کو نکالنے کی داستان غم تو عوام کو بتاتے ہیں کبھی یہ بھی بتائیں کہ وہ تین دفعہ وزیر اعظم کیسے بنے۔ہماری سیاستدانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ سب اپنی پسند کا سچ بولتے ہیں مکمل سچ کوئی نہیں بولتا تاہم عوام کو سب پتہ ہے سوائے ان لوگوں کے جو شخصیت پرستی میں اندھے ہو چکے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں جن باتوں کی نشاندہی کی اس کے بعد حکومتی رہنماو¿ں کی جانب سے انہیں الطاف حسین کے ساتھ ملایا اور غدار کہا جا رہا ہے جو کسی طور پر بھی درست نہیں۔کپتان اقتدار میں نہیں تھے تو وہ ریاستی اداروں پر تنقید کرتے تھے،چوہدری پرویز الہٰی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے بندے توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کروائے گئے، اب نواز شریف نے سوال اٹھا دیے ہیں۔کل تک جو کسی کو چپڑاسی رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے وہ ان کی حکومت میں وفاقی وزیر ہیں ،جن کو ڈاکو کہتے تھے وہ اتحادی ہیں ،سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑ کر ملکی دولت واپس لانے والے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔سیاست میں کل کے حریفوں کو آج کے حلیف بنتے دیر نہیں لگتی اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کو سیاست تک رکھا جائے اسے ذاتیات تک لے کر نہیں جانا چاہے۔پاکستان اگر ایٹمی قوٹ بنا ہے تو اس میں ان تما م لوگوں کو بھی کریڈٹ جاتا ہے جن کی حکومتیں آئیں اور انہوں نے اس پروگرام کو جاری رکھا اگر یہ غدار ہوتے توکچھ بھی ہو سکتا تھا اس لیے ضروری ہے کہ سیاستدان سیاسی مخالفت میں اس حد تک نہ آگے بڑھ جائیں کہ ایک دوسرے کو غدار یا یہودی ایجنٹ قرار دیں۔ہمارے سیاستدان اگرایک دوسرے کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا اور مذہبی حلقے ایک دوسر ے پر کفر کے فتوے لگانا بند کر دیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔

قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن کے مزید ارکان کی گرفتاری کا قوی امکان ہے یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ آج شہباز اندرگئے ہیں ،کل ہم سب نے جانا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اقتدار کے طاقتور حلقوںکی جانب سے یقین دہانی کروائی گی ہے یہی وجہ ہے کہ بجلی،گیس،روز مرہ کی اشیاءحتی کہ دوائیوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باوجود بھی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں۔جمہوری حکومتیں تو اس بات کا خاص خیال رکھتی ہیں کہ بنیادی استعمال کی چیزیں مہنگی ہونے سے ان کے ووٹ بنک پر کتنا اثر پڑے گا کیونکہ آخر جانا تو انہوں نے عوام کے پاس ہی ہوتا ہے لیکن موجودہ حکومت کو اس کی کوئی پروا نہیں ان کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب کچھ پچھلی حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کوئی مثالی نہیں تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عام آدمی کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا ا تنا مشکل بھی نہ تھا۔تحریک انصاف تو بڑے دعوے کر کے آئی تھی وہ کب تک اپنی نااہلیوں کو پچھلی حکومتوں پر ڈال کر چھپاتی اور لاڈلی بنی رہے گی۔کبھی مسلم لیگ (ن)،مسلم لیگ(ق)اور بعض دیگر جماعتیں لاڈلی ہوتی تھیں آج تحریک انصاف ہے۔کاش عوام بھی کسی کے” لاڈلے “ہوتے۔حکمران کوئی بھی ہو وہ یاد رکھے کہ اگر ماضی کے لاڈلے وقت گزرنے کے ساتھ لاڈلے نہیں رہے تو وہ بھی ہمیشہ لاڈلے نہیں رہیں گے۔ سدا بادشاہی صرف اللہ رب العزت کی ہے کہ و ہی اس شان کے لائق ہے اور دنیا میں وہ ہی کامیاب ہے جو اللہ کی مخلوق سے محبت اور اس کا خیال رکھے۔


ای پیپر