دیکھنا تقریر کی لذت کو…!
30 ستمبر 2019 2019-09-30

وزیر اعظم جناب عمران خان نے جمعتہ المبارک کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا۔ پاکستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے شروع ہونے والا یہ خطاب تقریباً پچاس منٹ جاری رہا۔ جناب وزاعظم کا خطاب جہاں انتہائی جامع ، مدلل ، شاندار اور زبان و بیان کا اعلیٰ شاہکار تھا وہاں اس کے ساتھ خوب صورت ، بر موقع ، بر محل اور متاثر کن کے سابقے اور لاحقے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ اس میں جناب وزیر اعظم نے چار اہم معاملات پر جن سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک بالخصوص عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان دو چارہے بڑے بھرپور، انتہائی موثر اور جامع انداز سے عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کیے۔ ان میں جہاں انھوں نے بھارت کی مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور تقریبا ً دو ماہ سے وہاں لاک ڈائو ن کی کیفیت ، کرفیو کے نفاذ اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور کب سے وہاں جاری بھارتی ظلم و استبداد کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھا وہاں اسلامی ممالک کے خلاف اسلامو فوبیا کے منفی پروپیگنڈے اور مغرب کی طرف سے دانستہ توہین رسالت کے واقعات سے مسلمانوں کے دلوں کو پہنچنے والے دکھ اور درد کا شدت سے اظہار کرنا بھی ضروری سمجھا۔ اس کے علاوہ جناب وزیر اعظم نے بڑے موثر انداز میں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات بالخصوص پاکستان کے ان سے متاثر ہونے اور ترقی پذیر ممالک میں اشرافیہ کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ اور مغرب کے بعض ترقی یافتہ ممالک کے بینک اکائونٹس میں ان رقوم کی منتقلی اور بالواسطہ ان ممالک کی طرف سے منی لانڈرنگ کی حوصلہ افزائی جیسے اہم معاملات و نکات کو بھی اپنے خطاب کا حصہ بنایا۔ جیسا اوپر کہا گیا ہے جناب وزیر اعظم کا خطاب بڑا متاثر کن اور جامع تھا ۔ مجھے ذاتی طور پر یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جناب وزیر اعظم نے اپنے اس خطاب سے اپنی حکومت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے مختلف قومی حلقوں کی طرف سے اس پر وارد کیے جانے والے اعتراضات اور تحفظات کے منفی اثرات اور اپنی مقبولیت میں آنے والی کمی کا مداوہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

وزیر اعظم جناب عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھیں انگریزی زبان میں اپنے مافی الضمیر کے اظہار میں اپنے پیش رئووں کے مقابلے میں زیادہ عبور حاصل ہے۔ سابقہ وزرائے اعظم میاں نواز شریف ہوں، یوسف رضا گیلانی ہوں یا شاہد خاقان عباسی، اس خوب صورتی اور روانی کے ساتھ انگریزی زبان میں اظہار خیال کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ جناب یوسف رضا گیلانی نہایت قیمتی برینڈڈ سوٹ اور ٹائیاں پہنتے تھے ، انگریزی بولتے ضرور تھے مگر چند جملوں کے بعد ان کی انگریزی زبان میں بولنے کی مہارت جواب دے جاتی تھی۔ میاں نواز شریف کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ وہ کاغذ کی پرچیوں پر لکھے نوٹس سے کام چلانے کی کوشش کرتے تھے لیکن یہ کوئی متاثر کن انداز گفتگو نہیں ہوتا تھا۔ جناب شاہد خاقان عباسی کو البتہ انگریزی زبان پر بہتر عبور حاصل تھا۔ ستمبر 2017میں بطور وزیر اعظم انھوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا اور امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت کچھ دوسرے نشریاتی اداروں کو بڑے پر اعتماد انداز میں انٹر ویو دیے تاہم ان کا درویشانہ انداز اور دیسی سراپا کچھ زیادہ گہرے نقش نہ جما سکا۔ اس کے مقابلے میں جناب عمران خان کو انگریزی زبان اور انگریزی بول چال پر زیادہ عبور حاصل ہے۔ اس کی وجہ ان کا لاہور کے ایچی سن کالج اور لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا ، لندن کی اعلیٰ سوسائٹی میں ان کی جان پہچان اور سیتا وائٹ جیسی مغربی دوشیزائوں میں ان کی مقبولیت اور لند ن کے ارب پتی گولڈ سمتھ خاندان کی چشم و چراغ جمائما خان سے ان کی شادی ہو سکتی ہے۔جمائما خان سے عمران خان کی علیحدگی کو کئی سال بیت چکے ہیں لیکن ان کے دونوں صاحبزادوں قاسم اور سلمان نے کب سے لندن میں اپنے نانا ، نانی اور ماں جمائما کی آغوش میں پرورش ہی نہیں پائی ہے بلکہ وہی وہ تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ خیر جناب عمران خان کی انگریزی زبان پر مہارت کی وجہ کچھ بھی ہو ان کا خطاب بہر کیف متاثر کن تھا۔

جناب عمران خان کے خطاب کے اہم نکات کا جائزہ لیں تو انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی کھل کر بات کی انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ آنے کا اہم مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بتا نا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے انھوں نے دنیا کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو ایٹمی ملک آمنے سامنے ہونگے اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ وقت اقوامِ متحدہ کی آزمائش کا ہے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔ جناب عمران خان نے اپنے تقریر میں واضح کیا کہ پاکستان بھارت سے سات گنا چھوٹا ملک ہے اگر جنگ ہوئی تو ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچے گا اور اس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔ اقوامِ متحدہ کو سوچنا ہوگا کہ ایک ارب بیس کروڑ لوگوں کو خوش کرے یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے۔کشمیر میں جس طرح کرفیو نافذ کرکے 80لاکھ لوگوں کو محصورکیا گیا ہے اگر لاکھوں یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا ۔ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11قرادادوں کی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور اضافی نفری بھیجی۔ بھارت نے 80لاکھ کشمیریوں کو کرفیو لگا کر محصور ، سیاسی قیادت اور 13ہزار نوجوانوں کو قید کر رکھا ہے۔ یہ بھارت کا اصلی چہرہ ہے جسے دنیا کو سمجھنا چاہیے۔ بھارت کا وزیر اعظم مودی راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کا رکن ہے جو ہٹلر اور مسولین کی پیروکار تنظیم ہے ۔ آر ایس ایس بھار ت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے۔ دنیا کو اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا۔

اسلامو فوبیا پر بات کرتے ہوئے جناب عمران خان نے کہا کہ 9/11کے بعد اسلامو فوبیا میں خطرناک حد تک اضافہ تشویش ناک ہے اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ کچھ مغربی رہنماوں نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جس کی وجہ سے اسلامو فوبیا نے جنم لیا۔ بنیا د پرست اسلام یا دہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ۔ اسلام صرف ایک ہے جو ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ جو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نے ہمیں سکھایا۔ مغربی لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہین بہت بڑا مسئلہ ہے اس سے ہمارے دلوں کو دکھ اور درد پہنچتا ہے دل کا درد جسم کے درد سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔مغرب کو اس کا خیال رکھنا ہوگا۔

جناب عمران خان نے اپنے خطاب میں اور بھی بہت ساری باتیں کیں انھوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان پر پڑنے والے منفی اثرات کا بطور خاص ذکر کیا اور کہا کہ پانچ ہزار گلیشئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دو چار ہو جائے گی۔اسی طرح جناب عمران خان نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غریب ملکوں کو طبقہ اشرافیہ لوٹ رہا ہے۔ ہر سال غریب ملکوں کے اربوں ڈالرز غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کر دیے جاتے ہیں جو سر از سرزیادتی کی بات ہے۔

جناب عمران خان کے خطاب کے حوالے سے مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اس کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ سے اپنی پھس پھسی، بے جان اور بے نتیجہ ملاقات کا بڑی خوب صورتی اورمہارت سے ازالہ کیا ہے۔


ای پیپر