ریاست جہاں کے شہری تقریروں کا نشہ کرتے ہیں
30 ستمبر 2019 2019-09-30

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے قبل آزاد کشمیر میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کو وزیر اعظم عمران خان نے پیغام دیا تھا کہ میں آپ کا سفیر ہوں۔ جنرل اسمبلی میں آپ کا مقدمہ بھر پور انداز میں پیش کر وں گا۔اسی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی قوم کو مشورہ بھی دیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کو پار کرنے کی غلطی نہ کر یں۔وجہ انھوں نے یہ بیان کی تھی کہ بھارت کو بہانہ مل جائے گا کہ پاکستان سرحد پار سے دراندازی کر رہا ہے۔لیکن اس سے بھی قبل وزیر اعظم عمران خان نے خود دعا کی تھی کہ انتخابات میں نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کا میاب ہو، تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے پر بات چیت شروع کی جاسکے۔لیکن میں آپ کو اس دعا سے بھی پہلے لے جانے کی زحمت دونگا۔ عمران خان جب وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انھوں نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بات چیت کی دعوت دی۔وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت پر نریندر مودی نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا حکم دیا۔ان کے جہاز ایبٹ آباد تک پرواز کر کے چلے گئے۔دوبارہ انھوں نے جرات کی لیکن اس مرتبہ پاکستانی فضائیہ کی جوانوں نے مذاکرات کی بجائے خوف وہراس اور بالادستی کے زعم میں مبتلا نریندر مودی کے دونوں جہازوں کو مار گرایا۔ایک ہوا باز ابھے نندن کو گرفتار کیا۔بعد میں وزیر اعظم عمران خان نے سب کے ساتھ مشاورت کے بعد نر یندر مودی کے اس مذاکرات کار کو چند دن بعد یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ ہم نے جذبہ خیر سگالی اور امن کی خا طر یہ قدم اٹھا یا ۔جس نر یندر مودی کی کامیابی کے لئے دعا کی تھی کہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے پران سے بات چیت کرنے میں آسانی رہے گی ۔ اس نے پانچ اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کو مکمل بھارت میں شامل کر دیا۔

ملک کی عوام اوروہ تمام دانشور اور کالم نگار جوتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تقریروں کو سننے کے بعد ان کو وزیر اعظم بنانے پر تلے ہوئے تھے۔وزیر اعظم منتخب ہو نے کے بعد ابھی چند روز ہی نہیں گزرے تھے کہ عوام اوروہ دانشور اور کالم نگار جو عمران خان کو ملکی مسائل کاواحد حل جیسے نظریے پر کامل ایمان لاچکے تھے،ان کا ایمان متزلزل ہونا شروع ہوگیا۔قوم ،دانشوروںاور کالم نگاروں کا خمار اس وقت اتر گیا جب وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کو عثمان بزدار کے حوالے کیا۔عمران خان کی تقریروں کے سحر میں مبتلاعوام، دانشوروں اور کالم نگار وں کا مکمل نشہ اس وقت ختم ہوا جب وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم ہاوس کو نعیم الحق ،افتخار درانی ، یوسف بیگ مرزا اور دیگر غیر منتخب لوگوں کے حوالے کیا۔اگر کچھ اثر باقی تھا تووہ اس وقت کافور ہوا جب وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی ۔اسد عمر کی جگہ عبدالحفیظ شیخ کو نامز د کیا۔ ایف بی آر جیسے اہم ادارے کو غیر سنجیدہ آدمی شبر زیدی کے حوالے کیا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس شخص کے سپرد کیا جس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔وزارت صحت جیسے اہم وزارت کو غیر منتخب ڈاکٹر ظفر مرزا کو دے دیا۔پیٹرولیم کے اہم شعبے کو ایک اور غیر منتخب فردندیم بابرکی جھولی میں ڈال دیا۔ترجمانی کا فریضہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو دے دیا۔گزشتہ کئی سالوں سے عمران خان کی تقریروں کے سحر میں دیوانی عوام، دانشوروں اور کالم نگاروںنے جب ایک سال وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان اور ریاست مدینہ میں بسیرا کیا تو چند مہینوں سے عوام نے کانوں کو ہاتھ لگائے جبکہ دانشوروں اور کالم نگاروں نے اپنی تحریروں میں ندامت کا اظہار کیا کہ یہ وہ سحر نہیں جس کا خواب عمران خان کی تقریروں کو سننے کے بعد وہ دیکھ چکے تھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دھواں دار تقریر کے بعد ایک مرتبہ پھر انہی ما یوس اور عملی طور پر وزیر اعظم عمران خان سے برات کا اظہار کرنے والوں دانشوروں اور کالم نگاروں نے پھر سے ان کے شان میں قصیدے لکھناشروع کر دیئے ہیں۔حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کی دعائوں کے طفیل ہے۔ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ میں بات کرنا نری حماقت تھیں۔لیکن کوئی بات نہیں بات وزیر اعظم عمران خان نے کی ہے اس لئے ہر طرف بلے ہی بلے۔حالانکہ ان دانشوروں کو وزیراعظم عمران خان سے سوال پوچھنا چاہئے تھا کہ ماحولیات اگر اتنا ہی اہم مسئلہ ہے تو یہ وزارت آپ نے کس کے سپرد کی ہے ؟گز شتہ ایک سال میں آپ کی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرز آزما ہونے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟لیکن بات چونکہ وزیراعظم عمران خان نے کی ہے اس لئے سوال پوچھنا غداری ہے۔منی لانڈرنگ کا تذکرہ جنرل اسمبلی کے فلور پر کرنا ہرگز عقل مندی نہیںاس لئے کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔اس کا حل اقوام متحدہ نے نہیں دینا بلکہ منی لانڈرنگ کو روکنے کا حل وزیر اعظم عمران خان نے تلاش کرنا ہے۔گزشتہ ایک سال میں اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت نے کیا اقدامات کئے؟ کون سی قانون سازی کی گئی ؟ کوئی بھی نہیں جانتا۔لیکن تقریروں کے نشوں سے مدہوش دانشوراور کالم نگار سوال اٹھانے کی بجائے ایک مرتبہ پھر تقریر ہی سے مدہوش ہو گئے ہیں۔امید ہے کہ سال بعد پھر ان کا نشہ اتر جائے گا۔

پانچ سال بعد جب عمران خان دوبارہ ان دانشوروں اور کالم نگاروں کو اپنے ڈرائینگ روم تک رسائی دے گا تو پھر یہ تقریر وں کے نشے سے مدہوش ہونگے۔پھر یہ قومی روزناموں میں قوم کو بھاشن دیں گے کہ وزیر اعظم عمران خان کو کام کرنے نہیں دیا گیا اس لئے ایک موقع اور دینا چاہئے۔یہ تو وقت ہی بتا ئے گا کہ ایک اور موقع ملے گا کہ نہیں یا یہ کہ تقریروں کے نشئی دانشوروں اور کالم نگاروں کو دوبارہ یہ تو فیق ملے گی کہ نہیں کہ وہ عمران خان کے حق میں کلمہ حق لکھ سکے لیکن ایک حقیقت کہ جس سے انکار کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے وہ یہ کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ وزیر اعظم عمران خان کی دعائوں سے وزیر اعظم نریندر مودی حل کر چکے ہیں۔یہ دنیا ہے یہاں کسی کی مجبوری ،مظلومیت یا کمزوری کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہاں طاقت کو دیکھا جاتا ہے کہ جو ملک بات کر رہا ہے وہاں سیاسی استحکام ہے کہ نہیں۔تجارتی منڈی میں خرید و فروخت ہو رہی ہے کہ نہیں۔جس ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو ۔جس ملک کی تجارتی منڈی سے دنیا کو فائد نہ ہو وہاں کا وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جتنی بھی دھواں دھار تقریر کرلے دنیا ان کا ساتھ نہیں دیتی۔ہاں اس ملک کی عوام ،دانشور اور کالم نگار جو تقریروں کے نشوں کا عادی ہو ان کو نئی زندگی ضرور مل جاتی ہے۔


ای پیپر