کیا عمران خان گفتار کا غازی ہو گا یا کردار کا …؟
30 ستمبر 2019 2019-09-30

عمران خان بولے! اور خوب بولے انہیں بولنا بھی چاہیے تھا۔ اور اسی لب ولہجے میں بولنا چاہیے تھا کیونکہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور وہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے ہی گئے تھے۔ عمران خان نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا… کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور بطور مسلمان کتاب الٰہی پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ عمران خان نے نبی اکرم ؐ کی بات کی تو بطور مسلمان عقیدہ رسالت پر ایمان رکھنا بھی ضروری تھی۔ عمران خان نے عورت کے پردے کی بات کی یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں تھی، اسلام عورت کو پردے کا حکم دیتا ہے۔ عمران خان نے مسئلہ کشمیر کا اجاگر کیا۔ کشمیریوں کے حقوق کی بات کی۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کی بات کی… دہشت گردی پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی۔ بندہ پوچھے اگر عمران خان نے ان ہی مسائل پر گفتگو نہیں کرنی تھی تو عمران خان وہاں لینے کیا گئے تھے؟ عمران خان اپنا منہ وہاں دکھانے تو نہیں گئے تھے… پوری عوام اور بے لگام وان پڑھ میڈیا نے عمران خان کو امت مسلمہ کا ہیرو قرار دے دیا۔ بعض جاہلوں نے تو عمران خان کو محمد بن قاسمؒ کے ساتھ تشبیہ دے دی۔ نام نہاد تجزیہ کاروں نے تو مسئلہ کشمیر کو حل کر کے سارے کا سارا کریڈٹ عمران خان کی جھولی میں ڈال دیا۔ آدھی سے زیادہ عوام اس بات کو لیکر خوشی کے لڈو کھا رہی ہے کہ عمران خان نے انگریزی میں تقریر کی اور فی البدیہہ تقریر کی۔ حیرت ہے کہ جو لیڈر فی البدیہہ تقریر نہیں کر سکتا یا اپنے ماضی الضمیر کا اظہار نہیں کر سکتا یا پھر اسے انگریزی زبان نہیں آتی تو اسے لیڈر بننے کا حق ہی نہیں ہے یا پھر اسے ملک کی حکمرانی سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اگر کوئی پرچی سے دیکھ کر اپنا مقصد بیان کرتا ہے یا پرچیاں اس کی جیب میں ہوتی ہیں تو وہ بھی ملکی قومی مفاد کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ سوچتا ہو گا یا اس نے سوچ رکھ رہا ہو گا۔ چلیں! اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ نواز شریف گفتار کا غازی بھی نہیں تھا اور کردار کا غازی بھی نہ بن سکا۔ مگر عمران خان گفتار کا غازی بن گیا۔ وہ اپنی گفتگو اور کثیر المقاصد تقریر سے منظر عام پر تو آ گیا مگر ابھی بہت کچھ باقی ہے اور بہت سے وعدے اور بہت سی امیدیں جو عوام کو دلائیں ہیں ان کا پوراکرناباقی ہے ۔ عمران خان اپنی تقریر سے منظر نامے پر تو چھا گیا ہے مگر عوام کے اندر پائی جانے والے صورت حال جوں کی توں ہے۔ ملک کے اندر پائے جانے والے مسائل ختم ہونے کی بجائے ناسور کی مشکل اختیار کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی عوام کو صحت و تعلیم اور روزگار جیسی تین ضروریات کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے نظم و ضبط، اتحاد، تنظیم اور ملکی آئین کی بالادستی ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں قومی یگانگت اور ملکی و قومی محبت کے لیے فرد کی عزت نفس کی بحالی اور موجودگی ضروری ہوتی ہے۔

جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو ملک میں تعلیم کی صورت حال دگر گوں ہے۔ قومی نصاب، تعلیمی پالیسی، نصاب میں تفریق، پرائیویٹ سیکٹر کی بھر مار اور بد معاشی اور اس طرح کی دیگر قباحتیں تعلیم کی بنیادیں کھو کھلی کر رہی ہیں۔ اساتذہ کی نئی بھرتی کیے بغیر پچھلے کئی سالوں سے کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر صرف چھ یا آٹھ ماہ کے لیے معمولی تنخواہ پر ہزاروں اساتذہ رکھ کر گزارہ عام اور ڈنگ ٹپائو پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ جو استاد صرف چھ یا آٹھ ماہ کے لیے بھرتی ہو گا وہ کبھی بھی ایمانداری، فرض شناسی اور خلوص نیت سے کام نہیں کرے گا۔ اسی طرح ہسپتالوں کی صورت حال ہے اگر مریضوں کو دوائی نہیں دستیاب ہو گی تو وہاں مریض مریں گے نہیں تو کیا کریں گے۔بقول مرزا سکندر بیگ:

خالی ہاتھوں میں دعائیں رہ گئیں

ملبے کے نیچے صدائیں رہ گئیں

اس قدر تھا جان لیوا حادثہ

چیخی بن میں ہوائیں رہ گئیں

تھم گئے گرچہ غم کے سلسلے

سوگ میں ڈوبی فضائیں رہ گئیں

بے روزگاری میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ ڈگری ہولڈر طالب علم رکشہ چلانے اور ڈرائیوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک آسامی پر ہزاروں درخواستیں انبار لگائے بیٹھی ہوتی ہیں جس ملک میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہو گی۔ اس ملک میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہو گی ۔ چوری، ڈاکہ زانی، قتل و غارت ، بے ایمانی، رشوت ستانی، اور فراڈ اس قوم کا طرۂ امتیاز ہو گا۔ لوگ بچوں کو پالنے اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کریں گے۔ آئین اور قانون ملک کے نظم و ضبط اور سکون میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس ملک میں ٹریفک کے قوانین کی پابندی نہ ہو۔ تھانوں میں بدمعاشی ہو۔ عدالتوں میں جج رشوت لیتے ہوں۔ وکلاء بدمعاشی اور شتربے مہار ہوں۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑیاں چلائی جا رہی ہوں۔ انڈر ایج عوام ڈرائیور ہو۔ ون ویلنگ کا رواج ہو۔ بے چینی اوراضطراب کی کیفیت ہو۔ ہر وقت روٹی کے لالے پڑے رہتے ہوں۔ دوائیوں کے بغیر مریض مر رہے ہوں۔ مہنگائی کے ہاتھوں عصمت فروخت ہو رہی ہو۔ بے روزگاری کے ہاتھوں خود کشیاں ہو رہی ہوں تو ایسے میں انگریزی میں تقریر یا بغیر ، چٹوں کے تقریر کوئی اہمیت نہیںرکھتی۔ عوام بھوک سے مر رہی ہو۔ سہولتیں انسانی پہنچ سے باہر ہوں۔ عوام وقت سے پہلے بوڑھی بوڑھی نظر آنے لگے تو ایسے میں حکمرانی کی سادگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر عالمی منظر نامے میں خود کو منوانا ہے تو گفتار سے زیادہ کردار کا غازی ہونا ضروری ہے۔


ای پیپر