چاچا جی
30 ستمبر 2019 2019-09-30

یہ 1988 ءکی بات ہے میں بطور ڈپٹی کمشنر آف انکم ٹیکس گوجرانوالہ میں تعینات تھا۔ بچوں کی بہتر تعلیم کی خاطر رہائش لاہور میں رکھی ہوئی تھی۔ میں ہفتے کے چھ دن ہر صبح لاہور سے گوجرانوالہ اور شام کو واپس لاہور کے لیے محوِ سفر رہتا تھا۔ تب تک موٹروے معرضِ وجود میں نہیں آئی تھی۔ اِس لیے یہ سفر جی ۔ ٹی ۔ روڈ کے ذریعے کرنا پڑتا تھا۔ گوجرانوالہ میں انکم ٹیکس کے دفاتر بھی اُس وقت تک یکجا نہیں ہوئے تھے۔ شہر کے اندر دس بارہ کوٹھیاں کرائے پر لے کر اُن میں سرکل، رینج اور زون کے افسروں اور عملے کو دفتری سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ میرا دفتر ایس۔پی۔ آفس کے قریب واقع تھا اور ویگنوں کا اڈہ میرے دفتر سے پیدل مارچ کا راستہ تھا۔ گُلشن راوی لاہور میں میرے گھر سے گوجرانوالہ میں آفس کا فاصلہ 75 کلو میٹر کے لگ بھگ تھا جو اپنی کار پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہو جاتا تھا۔ گرمیوں میں یہ سفر میں اپنی کار پر طے کرتا تھا تاہم سردیوں میں کبھی کبھار اپنی کار مینارِ پاکستان کے قریب واقعی لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی پارکنگ لاٹ میں کھڑی کر کے قریبی اڈہ سے بذریعہ ویگن بھی سفر کر لیا کرتا تھا۔ اُس وقت میری عمر 39 برس تھی اور کنپٹیوں کے قریب بالوں میں سفیدی جھلکنے لگی تھی۔ بیگم صاحبہ نے دو ایک بار کہا کہ اب بال ڈائی کرنا شروع کر دیں مگر میں ابھی اس جھنجٹ میں پڑنا نہیں چاہتا تھا اِس لیے بات کو یہ کہہ کر مذاق میں ٹال دیتا کہ ”بالوں کی خیر ہے۔ انسان کا دل سیاہ ہونا چاہئے۔“ مگر عورتوں کے ذہن میں جو بات آجائے وہ نکلتی کہاں ہے۔ ایک روز باقاعدہ ایک اچھی کمپنی کا ہیئر کلر اور اُسے لگانے کا سازو سامان بازار سے خرید لائیں۔ تاہم میں نے ٹال مٹول کے انداز میں اُس کی یہ کوشش مہینوں تک ناکام بنائے رکھی۔ ایک سہ پہر میں ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر براجمان گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب ویگن میں سفر کر رہا تھا کہ کامونکی کے قریب سوزوکی کمپنی کی ایک گاڑی کے آگے جاتی دکھائی دی۔ جس کے پچھلے والے کُھلے حصے میں دو بھینسیں لدی ہوئی تھیں اور دونوں کے برابر میں ایک ایک آدمی دورانِ سفر اُن کی دیکھ بھال کے لیے کھڑا تھا۔ عمریں اُن دونوں کی کوئی چالیس پنتالیس کے قریب ہوںگی۔ شو مئی قسمت کہ سوزوکی کو اوورٹیک کرتے ہوئے ہماری ویگن اُس کے ساتھ معمولی سی ٹکرا گئی جس سے ڈرائیور کی سائڈ والا شیشہ ٹوٹ گیا۔ دونوں گاڑیاں سڑک کی سائڈ پر کھڑی ہوگئیں۔ ہماری ویگن کا ڈرائیور معذرت کرنے کے لیے گاڑی سے اُترا تو سوزوکی کی گاڑی کے ڈرائیور اور بھینسوں کے ساتھ کھڑے دونوں آدمیوں نے اُس کی ایک نہ سُنی اور اُسے دبوچ کر پیٹنا شروع کر دیا۔ اور وہ اُسے اِس بری طرح پیٹنے لگے کہ مجھے لگا کہ وہ ہمارے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کے قابل ہی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ میں نے ویگن سے اُترتے ہوئے باقی مسافروں سے کہا کہ آﺅ اپنے ڈرائیور کو اُن کے چنگل سے چھڑائیں۔ اگر اُسے زیادہ چوٹیں آگئیں تو ہمیں لاہور کون پہنچائے گا۔ ویگن سے تین چار آدمی اُتر کر میرے ہمراہ بیچ بچاﺅ کرانے کے لئے آگے بڑھے۔ میں نے پیٹنے والے ایک شخص کا ہاتھ یہ کہتے ہوئے تھاما کہ ”ہمارے ڈرائیور نے جان بوجھ کر تو ویگن آپ کی گاڑی سے نہیں ٹکرائی۔ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے۔“ اِس پر اُس سِتم ظریف نے میری جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا ” چاچا جی آپ درمیان میں نہ آئیں۔ آج ہم اِس کو غلط ڈرائیونگ کا مزہ چکھا کر ہی رہیںگے۔“ آپ یقین کریں اُس کا ہاتھ بے اختیار میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ مجھے اُن کی مارپیٹ یکسر بھول گئی اور میرا ذہن اُس شخص کے مُنہ سے نکلے ہوئے ”چاچاجی “ کے الفاظ میں اُلجھ کر رہ گیا۔ میں اُسے دیکھتے ہوئے اِس سوچ میں پڑ گیا کہ یا اللہ! کیا میں اتنا بزرگ دکھائی دینے لگاہوں کہ مجھ سے بڑی عمر کا ایک آدمی مجھے چاچاجی کہہ رہا ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ ساری گڑبڑ کنپٹیوں پر آشکار ہونے والے سفید بالوں کی وجہ سے ہوئی ہے جنہیں کالے کرنے کے لیے بیگم کافی عرصے سے کوشش کر رہی تھی۔ بہر حال لڑنے جھگڑنے والوں میں بیچ بچاﺅ ہوگیا۔ ویگن ڈرائیور نے سوزوکی والوں کی اُن کی گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کے پیسے ادا کر کے جان چُھڑائی اور ہمیں لاہور پہنچایا۔ میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی کارپارکنگ سے اپنی کار لے کر گھر پہنچا تو دیکھا کہ بیگم صاحبہ کچن میں تھیں۔ میں نے لاﺅنج ہی سے آواز لگائی۔ ” بیگم صاحبہ مبارک ہو! آپ جیت گئیںاور میں ہار گیا“ اس نے کچن سے نکل کر حیران ہوتے ہوئے کہا ” اللہ خیر کرے! یہ کونسی ہار جیت کی بات ہو رہی ہے؟“ میں نے آج اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مَن و عن سُنایا تو اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اپنی دُور اندیشی کی داد کیسے وصول کرے۔ بس ہنستی جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی ” اچھا ہوا آپ کے ساتھ یہ سلوک ہوا۔ کسی کی مانتے جو نہیں ہو۔“ وہ واپس کچن میں جانے لگی تو میں نے کہا ” باقی کام بعد میں کرنا پہلے وہ ہیئر کلر اور بال ڈائی کرنے والا سامان لے آﺅ۔ میں کل سے گوجرانوالہ چاچا جی نہیں کاکاجی کے روپ میں جانا چاہتا ہوں۔

mail:mb.anjum@hotmail.com


ای پیپر