سعودی عرب۔۔۔اور اب چین
30 ستمبر 2018 2018-09-30

اور اب سعودی عرب کے بعد دورہ چین کی تیاری ہے۔ دورہ وسط اکتوبر میں ہو گا۔ معاملہ یہ ہے کہ جس طرح ڈور کا پنا ایک دفعہ کھل جائے اور الجھتا ہی چلا جائے تو پھر معاملہ سلجھانے سے بھی نہیں سلجھتا۔ایسے ہی نا تجربہ کار ی کے باعث چیزیں مینج نہیں ہو پا رہیں۔ سعودی عرب کا معاملہ تو یہ ہے کہ سوموار کو جب یہ سطور آپ کے سامنے ہوں گی تو ان کا ابتدائی وفد اسلام آباد میں لینڈ کر چکا ہو گا۔وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری نے تو بڑے خوش کن خواب دکھائے۔لیکن اب تک کا وعدہ تو صرف سر مایہ کاری کا ہے۔ امداد یا بیل آؤٹ پیکج کی کوئی کمٹمنٹ نہیں۔ہاں البتہ کچھ شرائط ہیں وہ پوری کر دی جائیں تو بہت کچھ مل سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ شرائط کیا ہیں۔ برادر اسلامی ملک ایک طویل عرصہ سے پڑوسی ملک کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ یہ جنگ یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان ہے۔ لیکن سعودی شاہی خاندان کا خیا ل ہے کہ ایران اس جنگ کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ لہٰذا سعودی عرب کے نزدیک دوستی،دشمنی کا معیار یہی ہے کہ کون اس جنگ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔کون نہیں۔ جو ملک اس کے ساتھ نہیں یا غیر جانبدار ہے سعودی عرب کے نزدیک اس کی کوئی افادیت نہیں۔ اس جنگ میں امریکہ کھلم کھلا سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ وہ کیوں نہ ہو۔ اس کا اسلحہ دھڑا دھڑ بک رہا ہے۔ سعودی عرب مقروض ہو رہا ہے۔ وہ جتنا بھی مقروض ہو گا اتنا ہی امریکی شرائط کو ماننے کیلئے سعودی عرب کے شاہی خاندان کو جھکنا پڑے گا۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان اپنی بقا کی مشکل،کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ سعودی عرب میں ماضی قریب میں کئی ایسے دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں۔جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ خود کش حملوں کا سعودی عرب ایسے سخت گیر معاشرے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شاہی خاندان کے کئی افراد بھی دہشت گردی کے حملوں میں بال بال بچے۔ سعودی عرب کی معاشی حالت بھی دگر گوں ہو رہی ہے۔ ایسے ایسے ٹیکس عام شہر یوں پر عائد کیے جارہے ہیں کہ وہم و گمان میں بھی نہ ہونگے۔ غیر ملکیوں پر تو ٹیکسوں کا انبار لاد دیا گیا ہے۔ ہزاروں پاکستانی کمپنیاں بند ہونے کی وجہ سے بیروزگار ی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ حج اور عمرہ کا آپریشن ہے جس کے سہارے سے سعودی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو ئی ہے۔اس تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ سعودی عرب سے امیدیں وابستہ کرنے سے پہلے سمجھ لیاجائے کہ وہ خودکن حالات کا شکار ہے۔ سعودی عرب خود اس وقت ستاون بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قرضہ اگلے مالی سال تک بڑھ کر 90 بلین ڈالر ہو جائے گا۔ اب اس صورتحال میں یہ توقع کرنا کہ سعودی عرب فوری طور پر کوئی امدادی پیکج دے سکتا ہے تو بات ناممکن نہیں تو مشکل ضرور لگتی ہے۔ لہٰذا سعودی عرب نے بھی جواب ’’سرمایہ کاری‘‘ کی میٹھی گولی میں لپیٹ کردیا ہے۔ اگر سعودی عرب نے کوئی امدادی پیکج دیا بھی تو اس کی شرائط کڑی ہونگی۔ پاکستان کودومتحارب برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ جو کہ نہ صرف بگاڑ کا سبب ہو گا بلکہ پاکستان داخلی انتشار کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسے مسلکی مسائل پیدا ہو جائیں گے جن کے اثرات بہت دور تک جائینگے۔ لہٰذا مجوزہ شرائط پاکستان کیلئے نہایت مضر رساں ثابت ہو نگی۔ لہٰذا وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ فوری طور پر دورہ سعودی عرب سے واپسی پر قومی اسمبلی سے خطاب کرتے اور دورے کے متعلق قوم کو اعتماد میں لیتے۔ خیر ابھی کچھ بھی نہیں بگڑا۔ یہ قدم اب بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔پارلیمنٹ سے حاصل ہونے والی سپورٹ اور اعتماد یقینی طور پر قومی قیادت کو فیصلہ کرنے میں مدد دے گا۔ کیونکہ جس سرمایہ کاری کا سعودی عرب نے وعدہ کیا ہے وہ اگر متشقل ہو جائے تو وہ ہماری معیشت کیلئے بہت سود مند ہو گا۔ جہاں تک تعلق ہے گوادر آئل سٹی کی تعمیر کا تو یہ نہایت اہم منصوبہ ہے جس کا وعدہ سعودی عرب نے 2015ء میں تب کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں کیا تھا۔ اس منصوبہ پر پیپر ورک ہوتا رہا۔ سابق وزیرا عظم نواز شریف نا اہل ہوئے توان کی جگہ شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔انہوں نے اگست دو ہزار سولہ میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ جس میں ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کی جانب سے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اعادہ کیا گیا۔ جس میں گوادر آئل سٹی کی تعمیر میں دلچسپی بھی ظاہر کی گئی۔ اس دورے کے کچھ عرصہ بعد سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر المالکی نے کچھ میڈیا پر سنز کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا۔ اس ملاقات میں خاکسار بھی شامل تھا۔ سعودی سفیر نے تفصیل سے بتایا کہ گوادر میں سرمایہ کاری سعودی عرب کیلئے کتنی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ گوادر میں سرمایہ کاری کیلئے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان بھی تیار ہیں۔ خاکسار کا خیال ہے کہ دبئی بندر گاہ کے ساتھ ساتھ گوادر پورٹ بھی ڈویلپ ہو جائے گا تو اقتصادی صورتحال کی بہتری کے علاوہ بھی ہمارے کئی ایسے مسائل حل ہو سکتے ہیں جن کا تذکرہ بھی نا گفتنی ہے۔ بہر حال سعودی عرب کا وفد آ رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے کے کیا اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پہلے تین ماہ کسی بیرونیہ دورہ پر نہیں جائینگے۔ لیکن ملکی حالات کو دیکھ کر ان کو جانا پڑا۔ اور سعودی حکام سے بات کرنا پڑی۔معاملہ ملک کی اقتصادیات کا ہو تو کئی دعوے اور ارادے توڑنے پڑتے ہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان کا اگلا دورہ چین کا ہو گا۔ چین کا دورہ پندرہ، سولہ اکتوبر کو متوقع ہے۔ تین دن کے اس دورہ کا ایجنڈا بہت ٹف ہے۔ نو تشکیل شدہ حکومت کے کچھ عا قبت نااندیشوں نے جوش خطابت کا شکا ہو کر کچھ ایسے اشارے دیے جو صبر اور سست روی سے چلنے والے چینیوں کو پسند نہیں آئے۔ اقتدار سنبھالتے ہی بعض بناوٹی دانشوروں، کئی انڈر نائنٹین ماہرین اقتصادیات نے پاک چین سی پیک معاہدوں کو کھولنے کا اعلان کر دیا۔ جیسے یہ بھی کوئی انتخابی حلقے ہیں۔ پھر ایک مشیر بے تدبیر نے کچھ صحافیوں کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی۔ جو غیر ملکی اخبارمیں شائع ہوئی۔ اس خبر نے چین کے دارالحکومت میں بھو نچال پیدا کیا۔ چین کے ساتھ معاہدوں کی از سر نو تشکیل نے بنا بنایا کھیل خراب کر دیا۔ اس خبر کی تردیدیں آج بھی جاری ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ چین میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ چینی فی الحال اس وضاحت سے مطمئن ہیں۔لیکن یہ فضا قائم رہنی چاہیے۔ پاکستان کیلئے سعودی عرب ، چین ، آئی ایم ایف تین آپشن ہیں۔ اگلے چند روز ان تین آپشن کے گرد گھومیں گے۔ امکان ہے کہ ان تینوں آپشن کا کچھ نہ کچھ حصہ استعمال کرنا ہو گا۔ ورنہ حالات کی گھمبیرتا کم نہیں ہو گی۔


ای پیپر