تجارتی جنگ
30 ستمبر 2018 2018-09-30

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تجارت بلکہ دیگر معاملات پر بھی تلخی بڑھ رہی ہے۔ اگر دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی یونہی بڑھتی رہی اور تجارتی جنگ میں شدت آ گئی تو اس سے عالمی سرمایہ داری کو ایک معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان معاملات طے نہ ہوئے تو نیا معاشی بحران حقیقت بن کر عالمی سرمایہ دار حکمرانوں کے سامنے کھڑا ہو گا۔ کیونکہ یورپ اور دیگر علاقائی طاقتیں اور بڑی معیشتیں خاموشی سے کھڑے رہ کر امریکہ اور چین کے درمیان شدت اختیار کرتی تجارتی جنگ کے نتیجے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ وہ اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے اس میں کود پڑیں گے۔ یہ تجارتی جنگ عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے اختتام کے آغاز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

یہ تجارتی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے 50 ارب ڈالر مالیت کی چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی۔ جواب میں چین نے بھی چند امریکی منصوعات کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کر دی۔ عمومی خیال یہ تھا کہ صدر ٹرمپ تجارتی جنگ کے راستے پر زیادہ آگے نہیں جائیں گے مگر وہ کسی حد تک جانے پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے چین کی 200 ارب ڈالر کی درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی عائد کر دی۔ پہلے مرلے میں 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس پر 24 ستمبر سے عملدر آمد شروع ہو چکا ہے جبکہ جنوری 2019ء سے ڈیوٹی کی شرح 25 فیصد ہو جائے گی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر چین نے ان کی شرائط پر نیا تجارتی معاہدہ نہ کیا تو وہ 267 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر بھی ڈیوٹی عائد کر دیں گے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ چین کی امریکہ کو کی جانے والی برآمدان پر مکمل طور پر ڈیوٹی عائد ہو جائے گی جس سے یہ اشیاء مہنگی ہو جائیں گی اور صارفین کے لئے اتنی پرکشش نہیں رہیں گی جتنی کہ اس وقت ہیں۔

چین بھی جوابی اقدامات کر رہا ہے اس نے اب تک امریکہ کی مصنوعات پر 60 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کئے ہیں۔ چین کی قیادت نے اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے طور پر امریکہ سے تجارتی مذاکرات ملتوی کر دیئے ہیں۔ چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاشی تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔ امریکہ کی طرف سے کھڑی کی جانے والی تجارتی رکاوٹیں چین کی معیشت کے لئے سنجیدہ مسائل کھڑے کر سکتی ہیں اور مسلسل تین دہائیوں سے تیزی سے ترقی کرتی چینی معیشت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان چھڑنے والی تجارتی جنگ جو کہ شدت اختیار کر رہی ہے عالمی معیشت، تجارت اور تعلقات کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ یہ صورت حال بڑی طاقتوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ نئی منڈیوں کی تلاش کریں اور مختلف ممالک سے نئے تجارتی معاہدے کریں۔ بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سے مختلف ممالک اور خطوں کو قابو کرنے ان کا غلبہ

پانے اور اپنی مکمل اجارہ داری کو قائم کرنے یا رکھنے کی کشمکش اور جدوجہد میں تیزی آسکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں خانہ جنگی، پراکسی جنگوں اور تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بڑی طاقتوں امریکہ ، روس اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ارادے واضح کر دیئے ہیں۔ انہوں نے عالمگیریت کی بجائے حب الوطنی کا نعرہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اب کسی کو اپنی معیشت کی قیمت پر ترقی نہیں کرنے دے گا۔ ہم 800 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے ہم بڑے تجارتی معاہدوں کو ختم کریں گے اور نئے تجارتی معاہدے کریں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ پچھلی چند دہائیوں میں 30 لاکھ امریکی صنعتی ملازمتیں ختم ہوئی ہیں۔ جب سے چین نے عالمی تجارتی تنظیم (W.T.O) میں شمولیت اختیار کی ہے تب سے ایک چوتھائی سٹیل فیکٹریوں کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں جبکہ 60 ہزار فیکٹریاں بند ہوئی ہیں۔ اس عرصے میں امریکہ کو 13 کھرب ڈالر (13 ٹریلین ڈالر) کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ہم یہ سب برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اس مثال سے یہ تو واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً گلوبلائزیشن کو خیرآباد کہہ دیا ہے اور وہ قومی معیشت کے تحفظ اور تجارتی رکاوٹوں کی پالیسیوں کو واپس لا رہی ہے۔ موجودہ امریکی حکومت چین کو ٹیکنالوجی اور جدت کی منتقلی کے عمل کو روکنا چاہتی ہے اس کے لئے انٹیلکچوئل پراپرٹی رائٹس کی خلاف ورزی کو بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ جنگ صرف تجارت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ٹیکنالوجی اور جدت پر اپنی اجارہ داری اور غلبے کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین اس کی ٹیکنالوجی ، سائنسی تحقیق اور علم اور جدت پر قائم اجارہ داری اور غلبے کے لئے سنجیدہ خطرہ بن رہا ہے۔ اس خوف کے باعث امریکہ تجارتی محصولات میں اضافہ کر کے چین کے ٹیکنالوجی اور جدت میں بڑھتے قدم روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین وہی مصنوعات بناتا رہے جو وہ 30 سالوں سے بنا رہا ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی ، سائنسی تحقیق و علم اور جدت کے میدان میں امریکہ کے لئے خطرہ نہ بنے۔

ان حفاظتی تجارتی محصولات عائد کرنے کی دوسری وجہ یہ نظر آتی ہے کہ چینی مصنوعات کو مہنگا کر دیا جائے تا کہ امریکی مصنوعات ان کا مقابلہ کر سکیں اور امریکی صنعت کو فروغ ملے۔ اس پالیسی کا اہم پہلو امریکی صنعت کی دوبارہ بحالی ہے۔ایک اور وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پرکشش ملک بنانا چاہتی ہے۔ اس لئے امریکی حکومت نے ٹیکسوں میں کمی کی ہے۔ 1990ء سے پہلے امریکہ یورپ اور جاپان سرمایہ کاری کے حوالے سے سب سے پرکشش ملک تھے۔ مگر 1990ء کی دہائی میں یہ رجحان بدلنا شروع ہوا۔ 21 ویں صدی کی پہلی دہائی میں چین، امریکہ کی جگہ سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا حامل ملک بن گیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نے چین کی صنعت کو ترقی دی۔ 1980ء میں چین کا صنعتی پیداوار کی عالمی تجارت میں حصہ محض 0.8 فیصد تھا جو کہ 2003ء میں بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گیا اور اس وقت یہ حصہ 13 فیصد تک جا پہچا ہے ۔ یہ وہی سطح ہے جہاں پر امریکہ اپنے عروج کی عمر میں پہنچا تھا۔

اپنے جارحانہ انداز اور تمام تر کوششوں کے باوجود ٹرمپ کو عالمگیریت کے عمل کو ختم کرنے اور قومی تحفظاتی پالیسیوں کو لاگو کرنے میں مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ نیو لبرل ازم کی پالیسیوں کے تحت مالیاتی سرمائے کے غلبے اور طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سٹہ بازی اور فوری منافع کمانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مالیاتی سرمایہ صنعتوں اور پیداواری عمل میں جانے کی بجائے سٹے بازی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس مالیاتی سرمائے اور سٹے بازی کو پیداواری عمل میں تبدیل کرنے کی کوششیں کسی حد تک کامیاب ہوتی ہیں ۔ اس کا جواب تو اگلے عرصے میں مل جائے گا مگر یہ آسان عمل نہیں ہے۔ امریکہ میں صنعت کی بحالی کا خواب اور ارادہ تو اچھا ہے مگر اس پر عملدر آمد اتنا آسان نہیں کیونکہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کی بحالی کے لئے جو اقدامات کرنے ہوں گے اس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور معشیت کو بڑے جھٹکے لگیں گے۔ اس سے شاید چین کی معیشت کو نقصان پہنچے مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکی معیشت ان شدید جھٹکوں سے بچ پائے گی؟ امریکی معیشت کو عالمی معیشت اور تجارت سے کاٹ کر الگ کرنا اتنا آسان نہیں کیونکہ یہ اس سے مکمل طور پر جڑی ہوئی ہے۔


ای پیپر