تبدیلی کہاں آ رہی ہے
30 ستمبر 2018 2018-09-30

تبدیلی ایسے نہیں آئے گی، تبدیلی ایسے کیسے آئے گی؟ 30 دن کی کارکردگی کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بھی کریں گے وہ بھی کریں گے، 30 دن میں جو کیا اس پر 16 قلابازیاں یعنی کم و بیش ہر دوسرے دن ایک قلا بازی، موقف واضح نہیں، لا تعداد ترجمان اِدھر اُدھر بکھرے ہیں جو آئے دن قلابازیوں کی وضاحتیں کرتے رہتے ہیں ،کمیٹیاں اور ٹاسک فورس بن گئیں جو تجاویز اور سفارشات پیش کریں گی، وزیر اعظم نے سفارشات کی تائید کردی تو جانیے ان پر عملدرآمد شروع ، عملدرامدکون کرائے گا ؟کیا عملدرآمد کے لیے بھی ٹاسک فورس بنائی جائے گی؟ اس سارے ٹاسک میں وزیر مشیر کیا کرین گے؟ کچھ کرنے کے لیے تخلیقی ذہن چاہیے وہ کہاں سے درآمد کیا جائے گا برآمد کرنے کو کچھ نہیں پھر بھی خصوصی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے آنا جانا لگا ہوا ہے ، 23 لاکھ میں وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں، کٹے کٹیاں نیلام کر کے گزارہ چل رہا ہے گزارہ کب تک چلے گا ؟آتے ہی شور مچا دیا کہ خزانہ خالی ملا نئی بات نہیں ہر آنے والی حکومت یہی شور و غوغا کرتی ہے روز اجلاس بلکہ کئی کئی اجلاس پریس کانفرنسیں ان میں وہی دعوے وہی وعدے، نبض حیات رکی ہوئی ہے خون کی گردش تیز ہو تو زندگی کا پتا چلے ،آتے ہی جن عوام سے ایک کروڑ 59 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے ان پر شبخون مارا، بجلی گیس بنیادی ضروریات ،دونوں کے نرخوں میں اضافہ، وہی سابقون الاولوں کی شعبدہ بازی کہ 50 یونٹ استعمال کرنے پر بوجھ نہیں پڑے گا، 50 یونٹ کون استعمال کرتا ہے ؟ مزار پر دیا جلے تو 100 یونٹ بل آجاتا ہے ، گیس عطیہ خداوندی اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ،بقول مولا بخش چانڈیو ایک ماہ میں عوام کی چیخیں نکلوادیں عوام کی کمر بوجھ سے دہری ،ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں اضافہ ،ہر رکن اسمبلی کو ایک ایک کروڑ کے واؤچر، اربوں ہیں تو کروڑوں دیے جا رہے ہیں، ایسا بھی نہیں کہ خزانہ بالکل خالی ملا ہو خزانے کا نگراں وزیر آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے مقدمہ میں خوفزدہ ہو کر بھاگ گیا ورنہ افراط زر، شرح نمو اور معیشت کے دیگر معاملات چل ہی رہے تھے دنیا بھر کی موڈیز پاکستان معیشت کو ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں سے جوڑنے ہی والی تھیں کہ ’’ٹٹ گئی تڑق کر کے‘‘ وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا، سابق وزیراعظم کی تاحیات نا اہلی، قید و بند کی سزائیں اڈیالہ جیل پہنچانے کی دیرینہ آرزو پوری ہوگئی، خیر گزری کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی طرح جاتی امرا کی نیلامی کی نوبت نہیں آئی، قومی خزانہ خالی نہیں ملا نگراں حکومت والے اسی پر عیش کرتے رہے، آنے والے بھی دال دلیہ یہیں سے فراہم کر رہے ہیں، دیوالیہ کر گئے ۔

دیکھا لوگ کیا کہتے ہیں لارڈ نذیر کا کہنا ہے کہ 10 لوگ ٹھیک نہیں پھر بھی 3 ماہ دیں گے یہی شب و روز رہے تو تین ماہ کیا 3 سال بھی گزر جائیں گے معاملات کی طرح وقت میں بھی برکت نہیں رہی کتنی تیزی سے دن گزر رہے ہیں،مثبت پوائنٹ کہ تمام ادارے ایک پیج پر، سب کی حمایت حاصل ہے ۔ادھر پیشیوں کا لا متناہی سلسلہ ایک میں ضمانت دوسرا ریفرنس تیار، پائپ لائن میں پڑے کتنے ہی ریفرنس باہر نکلنے کے لیے کلبلا رہے ہیں ،،کوئی ڈیل ہے نہ ڈھیل ،خلق خدا دشمن جا بجا بکھرے خون کے پیاسے، ڈیل کس سے کی جائے اہلیہ محترمہ نے برملا کہہ دیا لیڈر صرف دو ہیں دنیا میں جن سے سارا نظام جاری ہے عمران، اردوان دونوں ہم وزن ہم قافیہ عمران سیاستدان نہیں لیڈر ہیں اردوان دونوں ہیں‘‘ گورنر ہاؤسز کھولنے سے عوام کی تقدیر بدل جائے گی؟ گورنر ہاؤس میں غریب کا کیا کام ،لڑکے لڑکیاں سیر تفریح اور دیگر مشاغل کے لیے آئیں گے اور سیلفلیاں بنائیں گے، عوام کے سروں پر مہنگائی کے بم پھاڑنے سے کس کی تقدیر بدلے گی، رحم میرے آقا رحم ، روزانہ کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں کسی میں پوچھ کر تو دیکھیے کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے ٹیکنالوجی سے کتنی واقفیت ہے خوامخواہ اِدھر اُدھر سے اقربا پروری کا الزام اپنے سر لینے کا فائدہ؟ حق بحقدار رسید کی پالیسی کیوں نہ اپنائی جائے کیا آنے سے پہلے ملکی حالات، بحرانوں اور اقتصادی پریشانیوں کا ادراک نہیں تھا کوئی شیڈ و کیبنٹ یا کچن کیبنٹ نہیں بنائی گئی شاید سوچ رہے ہوں گے کہ کوئی وظیفہ پڑھ کر پھونکیں گے تو بحرانوں کا جن بوتل میں بند ہوجائے گا ،شنید ہے کہ حالات کی تپش چین نہیں لینے دیتی عالی جاہ سخت دباؤ میں ہیں جی چاہتا تھا کہ کسی دن قوم سے خطاب کیا جائے تیاریوں کا حکم دے دیا گیا حکم سر آنکھوں پر تیاریاں مکمل ہوگئیں کسی ’’غیبی طاقت‘‘ نے کان میں پھونکا کہ کیا کہیں گے چھوڑیں کہہ سن کر کیا کریں گے کہنے سننے کی بجائے کچھ کر کے کہا جائے تو دوررس اثرات ہوں گے، خطاب کا ارادہ ترک کردیا یاد آیا پانچ سال سے 300 ارب کی کرپشن کی رٹ لگائی جا رہی تھی عوام 300 ارب کے اعداد و شمار ہی سے متاثر ہوئے جن پر الزام تھا وہ نا اہل ہوگئے جیل کی ہَوا کھا چکے 300 ارب کی کرپشن کے ثبوت نہیں ملے شنید ہے کہ شواہد اور ثبوت تلاش کرنے کے لیے بھرپورمہم چلانے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ثبوت نہ ملے تو لوگ کیا کہیں گے ملک میں تبدیلی آئے نہ آئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تبدیلی کلچر پنپ رہا ہے تم چور ہو تم ڈاکو ہو ڈاکو کو ڈاکو نہ کہیں تو کیا کہیں مگر ڈاک کو ڈاکو کہنے کے لیے مال مسروقہ اور لوٹی ہوئی دولت کی برآمدگی شرط، برآمدگی کا دور دور پتا نہیں ڈاکو ڈاکو کی گردان کی جا رہی ہے ، یہ انداز گفتگو یہ آپ ہیں تو آپ کے قربان جائیے، مگر یہ کلچر کنٹینر یا جلسوں میں تو چل سکتا ہے چلتا رہا ہے مگر ایوانوں میں زیب نہیں دیتا اپوزیشن لیڈروں کو چور ڈاکو کہا گیا تو اپوزیشن کا لاکھ باہم جو تم پیزار کے باوجود بھڑکنا لازمی، واک آؤٹ ہوا تو معافی تلافی،کمال ہے خود حکومت اپوزیشن کو متحد کرنے کی لا شعوری کوشش کر رہی ہے ،یہ بات ہے تو رد عمل میں دو دو اشعار سننے پڑیں گے جنہوں نے سنے یا پڑھے انہیں مزہ آگیا سب کچھ تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ بن رہا ہے تبدیلی کہاں آرہی ہے ۔


ای پیپر