’’ اوپن یونیورسٹی کا بند آنکھوں والا عملہ ۔۔۔؟؟‘‘
30 ستمبر 2018 2018-09-30

’’اہل قصور‘‘ بابا بلھے شاہ کے حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں؟! کیا سوچتے ہیں؟! اپنے بچوں کو کیا بتلاتے ہیں ؟ ۔۔۔ آئندہ نسل میں کسی ’’بلھے شاہ‘‘ کی دوبارہ پیدائش کی خواہش کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ میں بتانے سے قاصر ہوں لیکن میں یہ بتا سکتا ہوں ۔۔۔ فخر سے کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ کہ اہل سیالکوٹ خواہش رکھتے ہیں کہ کسی شیخ نور محمد کے گھر پھر سے کوئی اقبالؒ پیدا ہو۔۔۔ دنیا بھر میں سیالکوٹ والے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم اُس سیالکوٹ سے ہیں جہاں علامہ اقبالؒ پیدا ہوئے ۔۔۔ وہ اقبالؒ جو پاکستان کے وجود کا باعث بنا وہ اقبالؒ جس نے ہمیں دو قومی نظریہ کی وضاحت و صفات سے آگاہ کیا اور آفاقی شاعری سے ہماری اور ہماری نسلوں کی راہنمائی کی ۔۔۔

میں اقبالؒ کے حوالے سے محبت بھری باتیں، فلسفہ اور خیالات میں محو تھا کہ سامنے ٹیلی ویژن پر ایک خوفناک ’’تباہ کن‘‘ خبر پہ نظر پڑی ’’ہزاروں کی تعداد میں گندے انڈے؟‘‘۔۔۔ مجھے اکبر الٰہ آبادی یاد آ گئے ۔۔۔؂

’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

گویا اُس دور میں بھی ’’فراڈ‘‘ یا ’’دو نمبری‘‘ عام تھی کہ اکبر الٰہ آبادی کو ’’گندے انڈوں‘‘ پر شاعری کرنا پڑی۔۔۔

فیصل آباد کے انگریزی کے پروفیسر اور نامور انعام یافتہ قومی و ملی کتابوں کے مصنف شاعر جناب ریاض قادری یاد آ گئے ۔۔۔ جنہوں نے عادل گلزار کی شاعری پر ہمیں ’’چھوہارے‘‘ پر لکھے اپنے کچھ نہایت ’’تلملاتے‘‘ ہوئے اشعار سنائے اور داد بھی وصول کی اور کھانا ہضم کروانے میں تعاؤن بھی کیا ۔۔۔ ہمارے بچپن میں ہمارے محلے میں ’’پرچون‘‘ کی دوکان پر دو بھائی بیٹھتے تھے ۔۔۔ ایک کو محلے دار محبت سے چھوہارہ اور دوسرے کو چلغوزہ کہتے تھے ۔۔۔ یہ جس دور کی بات ہے اُس دور میں چھوہارے بھی سستے تھے اور چلغوزے بھی ۔۔۔ اب دونوں آسمان سے باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ انڈوں کے بارے میں سنا ہے کہ دنیا میں سب سے مہنگے انڈے جاپان میں ملتے ہیں اور وہاں گندے انڈے ہرگز ہر گز کیک پیسٹری یا بسکٹ میں نہیں ڈالے جاتے ۔۔۔ ہمارے ہاں ۔۔۔ گندے انڈے۔۔۔؟!

گندے انڈوں سے یاد آیا کل ٹیلی ویژن پر یہ خبر پورے پاکستان کے لیے سر جھکانے اور شرمندہ ہو جانے کے لیے کافی تھی کہ کویتی وفد کے ہیڈ کا میٹنگ کے دوران بریف کیس اور اہم قیمتی چیزوں سمیت پرس غائب کر دیا گیا ۔۔۔ اُس وزیر اعظم پر کیا بیتی ہو گی جو سچائی کی بات کرتا ہے ۔۔۔ جو جھوٹ سے نفرت کی کوشش کرتا ہے یاملک کی دولت سے خلوص کی Demand کرتا ہے اُس کی بغل میں بیٹھے ضرار حیدر جو کہ DMG آفیسر ہیں اور اُن کو حکومت وقت نے ہائی اسکیل 20 دے رکھا ہے کاش ضرار حیدر نے مختلف جگہوں پر لگے یہ بورڈ پڑھ رکھے ہوئے ۔۔۔ کہ

’’کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے‘‘ ۔۔۔؟

نہ اپنے منصب کا خیال نہ اُس شخص کی عزت کا خیال جو اچھائی کی بات کرتا ہے ۔۔۔ ہمارے اندر کی کمینگی کھل کر سامنے آ گئی ۔۔۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ حکومت کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے دورِ بینظیر بھٹو میں جب وہ وزیر اعظم پاکستان بنیں اُن کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا اور لاش بیچ سڑک گرا ڈالی ۔۔۔ ہے ناں بے بسی ۔۔۔

It Bed of Thorne

ایسے ہی اب عمران خاں جنہوں نے ہر جلسہ میں کہا، ہر تقریر میں دعویٰ کیا اور ہر تنقید میں گلہ کیا کہ سب کچھ شفاف ہونا چاہئے ۔۔۔ مگر جہاں ضرار حیدر ہوں وہاں یہ سب کیسے ہو ۔۔۔ لاہور میں چند دن قبل ہزاروں من دودھ ضائع کر دیا گیا کیونکہ وہ کیمیکل تھا دودھ کہہ کر عوام کے حلق میں انڈیلہ جا رہا تھا اور معصوم عوام مجبور تھے وہ سب پی جانے پر ۔۔۔؟!

ایسے ہی شیخو پورہ کے قریب ایک ٹرک ایسا پکڑا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں گندے انڈے تھے جو ادارہ نے پکڑ کر تلف کر ڈالے کیونکہ خبروں میں بار بار کہا گیا کہ وہ انڈے کسی بڑی بیکری میں جا رہے تھے جو بسکٹ اور دیگر بیکری Items میں استعمال ہونے تھے اور وہ ’’گند‘‘ کھا کر ہزاروں بچوں اور بڑوں نے ہسپتالوں کا رُخ کرنا تھا ۔۔۔؟!

کیا صرف اُن لاکھوں ’’گندے انڈوں‘‘ کو ضائع کر دینا ہی مسئلے کا حل تھا ۔۔۔ کیوں نہیں وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کا نوٹس لینا گوارہ کیا ۔۔۔ ٹھیک ہے وزیر اعظم صاحب اُس وقت کویتی وفد کے ہیڈ کا ضرار حیدر نے جو بیگ اور پرس چوری کیا تھا اُس معاملے کو Sort Out کرنے میں مصروف تھے اور ملک کی ساکھ کا مسئلہ تھا لیکن افسوس کہ ’’گندے انڈوں‘‘ والا کام اس سے کہیں زیادہ گھناؤنا جرم تھا ۔۔۔ کیوں نہیں اب تک اُس فیکٹری مالک کو گرفتار کیا گیا جس نے یہ گندے انڈے بسکٹ، پیسٹری، کیک میں ڈالنے تھے اور کیوں نہیں اُس ظالم پولٹری فارمر کو گرفتار کیا گیا جس نے یہ گندے انڈے اس نیک کام کے لئے روانہ کئے ۔۔۔ ادھر گندے انڈوں کی ٹرک ضائع (تلف) ہو رہے تھے اُدھر لاہور میں پولٹری فارمرز کا دو روزہ بڑا فنکشن ہو رہا تھا ۔۔۔ کاش اُس اتنے بڑے پروگرام میں ’’کھابے‘‘ اڑانے کے ساتھ ساتھ اُنھیں یہ بھی کہا جاتا کہ دولت لوٹ لوٹ کر پیٹ نہ بڑا کرتے جاؤ ۔۔۔ اِس غریب قوم پر رحم کررو ۔۔۔ مرے ہوئے مرغ نہ کھلاؤ ۔۔۔ یہ گندے انڈے معصوم بچوں کے حلق میں نہ انڈیلو کہ یہ کینسر کا باعث ہیں اور عمران خان اکیلا اس ملک میں کتنے کینسر ہسپتال بنائے گا جبکہ یہاں نیت تو ہم سب کی خراب ہے ۔۔۔؟!

کاش ہماری تربیت پر توجہ دی جاتی ۔۔۔ ایک دوست بتا رہا تھا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ڈاک کا نظام اس قدر ابتر ہے کہ طلبہ و طالبات کبھی کتابوں کے لیے کبھی ٹیوٹر کے لیے کبھی رزلٹ کے لیے دربدر ہو رہے ہیں ۔۔۔

یہ اوپن یونیورسٹی ہے مگر یہاں سب کے کان بند ہیں ۔۔۔ ہمیں خود بھی اپنے کان کھلے رکھنا ہوں گے کھلی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ۔۔۔؟!

کاش ہم نئی حکومت پر تنقید سے پہلے اپنا اپنا قبلہ بھی درست کر لیں ۔۔۔؟!


ای پیپر