بابا ابابیل
30 ستمبر 2018 2018-09-30

بھرتری ہری نے اپنے افکار میں ایک جگہ لکھا:

”جن پر حقیقت کا انکشاف ہوا، جنہوں نے ”برہم“ کو پہچان لیا ان کے لئے دنیا کوئی کشش نہیں رکھتی، کہ سمندر کے پانی میں مچھلی کے تیرنے سے کوئی لہر پیدا نہیں ہوتی“۔

بابا محمد یحیٰی خان دیئے کی لو کی طرح داتا نگری میں ٹمٹماتا نظر آتا ہے اس نے بدن پر رات کی شال اوڑھ رکھی ہے، کون جانے، اس نے اپنی ”بکل“ میں کتنے ستارے ڈھانپ رکھے ہیں؟

پنجاب کے دل لاہور میں داتا جی کے ساتھ جاگنے والا یہ بابا مہکتی ہوا کی طرح، سانسوں کو معطر کرنے کی ڈیوٹی پر کسی ایک جگہ قیام نہیں کرتا.... دنیا بھر میں گھومنے والے بابے کو آنکھوں والوں نے اجمیر شریف کی گلیوں میں بھی ننگے پاﺅں گھومتے دیکھا ہے آج کل اس کی کتابیں بھی دل والوں میں زیربحث رہتی ہیں، وہ خود کتاب نما ہو کر کتاب سینے سے لگائے پھرتا ہے، احباب اسے ”بابائے نثر و دانش“ بھی کہتے ہیں، دل کی کتاب جب اس پر مہربان ہو کر اترتی ہے توہ سطر سطر ”سانبھ“ کر سجا سنوار کر پوری کتاب ایک دلہن کی طرح اپنے ”کاجل کوٹھے“ سے رخصت کرتا ہے اور یوں کتاب کی ڈولی پبلشر کے حوالے ہو جاتی ہے۔

بابا محمد یحییٰ خان اپنے نویکلے اسلوب کا آپ موجد ہے اس کی تحریروں میں ورق ورق پر منصوفانہ خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے، وہ تلذّر یا عریانیت کی سیٹیاں بجا کر توجہ حاصل نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے فکر و اسلوب کی روشنی کے سبب اندھیروں میں دور سے جگمگاتا دکھائی دیتا ہے، میں جب بابا جی کی تحریریں پڑھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی خوشبو جیسی باتیں دل دھرتی پر بارش کی بوندوں کی طرح ”کن من کن من“ برس رہی ہیں، وہ محبت کے استعارے کی طرح ادب و شعور کے آسمان پر ستارہ وار دمک رہا ہے، تفکر و تدبر والوں کے لئے یہ تحریریں سکون اور مسرت کے ساتھ آگہی کی رحمت بن سکتی ہیں یقین نہ آئے تو بابا کی یہ تفسیریں آنکھوں میں اتار دیکھیئے ”چانن“ ہو جائے گا۔

عزیز قارئین! یہ بابا محمد یحییٰ خان کی تصنیف ”لے بابا ابابیل “ کے فلیپ پر درج میری چند سطریں ہیں یہ بھی ایک اعزاز کہ انہوں نے مجھ ناچیز کی رائے بھی اپنی کتاب میں شامل کی۔

بابا محمد یحییٰ سے تعارف ماہانہ تخلیق کے پرانی انارکلی والے دفتر میں ہوا تھا جہاں اظہر جاوید کے ہاں کبھی کبھی وہ تشریف لاتے تھے، بعد میں کئی محافل میں بھی انہیں دیکھا۔

ایک بار داتا جی کے حضور حاضری دی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بابا اپنے مخصوص ”سیاہ لباس“ میں ایک طرف جمگٹھا لگائے بیٹھے ہیں، ان کے اردگرد چند نوجوان بھی کالے ملبوسات میں نظر آتے میں کچھ دیر بیٹھ گیا اور خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔ وہ مختلف لوگوں میں لنگر تقسیم کر رہے تھے۔ نیاز کے ساتھ ساتھ وہ رقم کی صورت میں، بند مٹھی کے ساتھ لوگوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے، ہاتھ ملانے والا مٹھی سے رقم وصول کرتا اور ایک طرف ہو لیتا ہے۔ غالباً ان کے لگے بندھے افراد تھے جو بڑے نظم و ضبط کے ساتھ آتے اور کچھ نہ کچھ وصول کر کے نکل جاتے کافی دیر میں یہ منظر دیکھتا رہا۔ اس طرح کئی بار انہیں انہی ایام میں ان کی رہائش گاہ پر جانے کا اتفاق ہوا ایک بار گیا تو وہ خود بھی ”کریلے گوشت“ بھون رہے تھے ان کے مسکن کی ہر شے پر بھی سیاہ رنگ چھایا دکھائی دیا، زمین پر بچھے گدے ہوں دیوار پر سجی اشیاءسارا ماحول ہی ”اندھیرے“ میں ڈوبا محسوس ہوا آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارا مجھے اپنی کتابیں عنایت کیں اور جب میں نے اپنا مجموعہ کلام پیش کیا تو اس کی باقاعدہ قیمت ادا کی جو زبردستی میری جیب میں ڈال دی گئی، فرمایا یہاں اسی جگہ مظفر وارثی، اجمل نیازی اور کئی دوسرے احباب بھی تشریف لاتے ہیں ان دنوں علامہ اقبال ٹاﺅن میں ان کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا وقت گزرتا گیا درمیان میں مجھے ملک سے پانچ برس کے لئے مصر جانا پڑا۔ اردو چیئر پر تقرر کے سبب لاہور کی سرگرمیوں سے دور رہا واپس آیا تو ایک محفل میں پھر بابا سے ملاقات ہوئی، ایک روز فون آیا بابا کی نئی کتاب آئی ہے کچھ طبیعت بھی زیادہ اچھی نہیں کسی روز بابا کو دیکھتے جاﺅ اور اپنی کتاب لیتے جاﺅ، اب کہ ”کاجل کوٹھا“ میں ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، بارہا ان کی پراسرار شخصیت کے بارے میں سوال کیا جائے مگر ان کی محفل میں ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے، باتیں بھی عجیب اور واقعات تو ان کی کتابوں کے قارئین بھی جانتے ہیں نہایت پراسرار بھید بھرے اوپر سے ان کا اسلوب۔

بابا یحییٰ خان کی پہلی کتاب ”پیارنگ کالا“ تھی جس میں وہ خود کو ”کوا“ کہنے میں بھی عار نہ سمجھتے تھے ان دنوں ” ابابیل “ ہیں 2016ءمیں انہوں نے ”لے بابا ابابیل “ عنایت کی تو میں نے فیس بک پر بھی لکھ دیا ایک صاحب نے کمنٹ کیا بڑے خوش قسمت ہیں آپ، بابا جی نے آپ کو کتاب مرحمت فرمائی کتاب کی قیمت بھی پانچ ہزار روپے تھی کہا یہ تو ان کی محبت اور شفقت ہے کہ انہوں نے ہمیشہ بلا کر اپنی کتاب اس بندہ¿ ناچیز کو عطا کی۔

اس بار ان سے چند سوالات کرنے کی کوشش کی، چند روز قبل میرے کالم پر انہوں نے میسج ریکارڈ کر کے ارسال کیا کہ آپ ایک دوبار وعدہ کر کے تشریف نہیں لائے، میں حاضر ہو گیا، انہوں نے ہمیشہ سفر میں رہنے کی باتیں کیں اور کہا بس یہ سفر نصیب کے ہیں، پھر وہی روایتی ”انکسار“ کہ میں تو ان پڑھ ہوں، بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کیں، (آپ ہمیشہ ہی کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی جگہ تعلیم حاصل نہیں کی اور میرا دل کبھی یہ بات تسلیم نہیں کرتا) کہا : بچپن سیالکوٹ، علامہ اقبال کے ہمسائے میں رہتے تھے وہیں ان کی ولادت ہوئی تو انہیں علامہ اقبال کی گود میں ڈال دیا گیا، اقبال کا ایک آنسو ان کی گھٹی بن گیا، بچپن عجیب و غریب شرارتیں کرتے گزر گیا، محلے میں چھوٹی موٹی چوریاں کرتے، مرغیاں، انڈے قبروں سے پیسے اٹھاتے، لفٹروں میں شمار رہا، بتانے لگے اپنے بزرگ کے جنازے کے دوران ایک صاحب کی جیب سے ”پارکر“ کا قیمتی پین اچک لیا، انارکلی میں بیچنے کی کوشش میں بڑی مشکل سے پولیس سے بچا، پھر قلم نہ بیچا، شاید اسی قلم کا اثر ہے کہ پڑھتے پڑھتے مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہو گیا، لڑکپن ہی میں مختلف شہروں کے سفر کئے کراچی زیادہ وقت گزرا، مجید لاہوری، ابن انشاءاور کئی دیگر مشاہیر کے ساتھ صحافت میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کی، ملک سے باہر ایک عرصہ گزارا، میرے بابا جی اشفاق احمد ہیں بس انہیں کی حوصلہ افزائی سے لکھنے کی طرف مائل ہوا، آج دنیا بھر میں ان کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں کئی جگہ تصوف اور روحانیت پر لیکچر دیتا ہوں، ملکوں ملکوں گھومتا ہوں کہ ایک جگہ ٹک کر رہنا میرے بس میں نہیں،

عزیز قارئین ! بس اسی طرح کی باتیں بابا جی کرتے ہیں فلموں تھیٹروں میں کام کرتے رہے ہیں، کہتے ہیں میں پیر نہیں ہوں نہ ہی میرا کوئی مرید ہے نہ ہی مجھے کسی گدی پر بیٹھنا ہے، میں تو بس محبتیں تقسیم کرتا ہوں، روپے پیسے کی کمی نہیں اللہ نے بہت کچھ عطا کر رکھا ہے یورپ میں بھی رہائش گاہیں اور دفاتر ہیں، فیملی اور بچوں سے آزاد ہوں، وہ سب امریکہ اور دیگر ممالک میں خوش و خرم زندگی بسر کرتے ہیں، سفر میں رہتا ہوں، میری کتابوں سے لاکھوں روپے ملتے ہیں تقسیم کرنے پر مامور ہوں، کہتے ہیں مجھے کسی ملک جانے کے لئے ویزا یا اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑتی سرحدیں میرا رستہ کبھی نہیں روکتیں سو میرے محبت کرنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی فرماتے ہیں مجھے کچھ علم نہیں میں کیا لکھتا ہوں، محسوس ہوتا ہے کہ کوئی طاقت مجھ سے یہ کام لیتی ہے۔ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتا کوئی بھی بلائے چلا جاتا ہوں ابھی کچھ روز قبل میں بارسلونا میں تھا کہ اچانک خیال آیا کہ عرس آ گئے ہیں بابا بلھے شاہ، بابا فرید بلا رہے ہیں بس اگلے روز میرے سفر کا بندوبست ہو چکا تھا میں بروقت قصور میں بلھے شاہؒ کے حضور میں تھا اب داتا جی کا بلاوا ہے۔

بس جی میں تو اپنے دھیان میں چلتا رہتا ہوں۔

ادب کے حوالے سے کہا ”ادب ہر شخص کے لئے نہیں ہوتا اسے خواص پڑھتے ہیں، سو ادب کی کتابیں مہنگی ہونی چاہئیں، شوق و ذوق رکھنے والے ڈھونڈ کر پڑھیں گے۔

دوستو! بابا جی سے میرا اس معاملے میں معمولی سا اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ کتاب خوبصورت اور مہنگی ہونی چاہئے میرا نظریہ ہے کہ کتابیں عام قارئین کے لئے بھی سستی ہونی چاہئیں۔

بابا جی کمال نثر لکھتے ہیں ان کا مطالعہ مشاہدہ ایسا ہے کہ شاید ہی کسی ادیب شاعر کا ہو گا، ان کا اسلوب اپنا ہے مگر یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ ملامتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس پر بھی میرا اختلاف ہے، وہ تو سرتا پیر درویشی کے حلیے میں ہیں، نہ جاننے والا بھی انہیں فقیر درویش سمجھتا ہے جبکہ ملامتی تو اپنے آپ کو فقیر درویش منوانے سے گریز کرتے ہیں، بابا یحییٰ خان ایک بلند پایہ نثرنگار ہیں پراسرار بھی ہیں، وہ ایک آسودہ زندگی گزار رہے ہیں، اللہ نے ان پر خاص کرم کر رکھا ہے وہ دیئے ہوئے مال سے دوسروں کو دے کر خوش بھی ہوتے ہیں لیکن فقیری کا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ کوئی مانے تو یہ اس کی مرضی ہے یہ میرا ذاتی خیال ہے اور اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ باقی ان کو مکمل جاننا بھی مشکل ہے، تاہم انکسار کے جادو سے وہ ہر غیر کو اپنا بنانے کا فن خوب جانتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں وہ خاصے ”دنیا دار“ بھی ہیں۔


ای پیپر