” الٰہی ظل الٰہی “
30 ستمبر 2018 2018-09-30

بالکل تھوڑی سی مشقت کر کے ذہن پہ زور دینے کی ضرورت ہے، کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تحریک انصاف کو کروڑوں مسلمانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی ذمہ داریاں سونپ ہی دی ہیں، تو وہ تیل گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر اُن کے سینوں میں تلوار سوتنے اور خنجر گھونپنے کی حماقت نہ کرے، پی پی پی اور ن لیگ تو سالوں تک شوقِ حکمرانی پُورا کر چکی ہیں، لہٰذا اُن کی صحت پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑے گا، مگر میرا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے مستقبل پہ اِس کے واضح اثرات مرتب ہونگے اور لوگوں کے دلوں میں حقارت کے داغ دھونے کے لئے نہ تو کوئی تریاق ہوگا اور نہ کوئی مداوا ہوگا اور نہ ہی تلافی

اِس لئے اُن کا مطمح نظر ابھی نہیں، تو کبھی نہیں کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہونا چاہئے، انتخابات سے قبل، چونکہ سینہ کوبی کی صورت انتخابی نعرے بازی ہوتی تھی، اُس وقت کی زبان لعن طعن، اور دوسروں کی مٹی پلید کرنے کی روایت کو دفنا دینا چاہئے کیونکہ نہ تو اندازِ تکلم اسلامی تھا، اور نہ ہی طرز تخاطب پاکستانی تھا، اُوئے فضل الرحمن ،اُوئے اچکزئی، اُوئے زرداری، اُوئے نواز شریف ، کہنے میں کون سی روحانیت کے راز چھپے ہیں؟ کرامت، اور روحانیت آج کل کی ایسی بحث چھڑجانا، اور قربِ الٰہی کی بجائے قربتِ ضلِ الٰہی کی تمنا کرنا قیامت سے پہلے قیامت کی آرزو کے مُترادف ہے۔

حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے ایک مستند دانشور کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت رُوحانیت کی کرامات سے چل رہی ہے، کیونکہ بشریٰ بی بی مکمل روحانی شخصیت ہیں، جو پیدل اور برہنہ پا بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے مزار پہ چلی جایا کرتی ہیں، اور خود اُن کے شوہر عمران خان بھی روحانی شخص ہیں، اُن کے اِس خیال خام کیلئے میں ملفوظات فرید کی ایک جھلک ان کو دکھاتا ہوں، کیونکہ عقلمند کے لئے تو اشارہ ہی کافی ہوتا، اس سے قبل آپ مکمل تاریخ کھنگال لیں، آپ کو تاریخ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف اِمام مالک ؒ ایسے شخص تھے، جنہوں نے ساری عمر مدینہ پاک میں ننگے پاﺅں گزار دی اور وہ ضروریات انسان کے تقاضوں کی وجہ سے مدینہ شریف سے بہت دور چلے جاتے تھے، جہاں تک ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا تعلق ہے کہ وہ بھی مدینے شریف ننگے پاﺅں جہاز سے اُترے تھے، چونکہ یہ بات نیت کی ہوتی ہے، اور کسی بھی انسان کی نیت کے بارے میں انسان نہیں بلکہ اللہ بہتر جانتا ہے۔

مگر جیسا کہ میں نے تحریک انصاف کی حکومت آنے پر کہا تھا، کہ اب ہماری ، تنقید تعریف اور تجویز ساتھ ساتھ چلے گی، تو میرا خیال ہے، کہ عمران خان بے شک وہاں جوتے نہ اُتارتے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتیوں اور اُن کی اولاد کے لئے آسانیاں پیدا کرتے، تو اللہ اور اُن کے محبوب بہت خوش ہوتے، میں بار بار اعتراض کرتا ہوں، کہ ریاست مدینہ کا نام لینے سے پہلے ہمیں وضو کر کے بات کرنی چاہئے، تاہم حضور کے تربیت یافتہ خلیفے حضرت عمر ؓ جیسے بے مثال حکمران کا ذکر ہی کافی ہے، کہ رات کے اندھیروں میں مدینے کی بیواﺅں اور یتیموں کے لئے حضرت عمر ؓ اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ اُن کے گھروں میں راشن اور اجناس کی بوریاں اپنی پیٹھ پہ لاد کر پہنچاتے تھے، اور اپنی شناخت بھی نہیں بتاتے تھے، اور ایک دوسرے سے بھی چھپاتے تھے حتیٰ کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ خلیفہ ہارون الرشید، مامون الرشید، سلطان صلاح الدین ایوبی وغیرہ تک جاری رہا کہ وہ محصول، لگان کو جائز یا ناجائز کوشش کرتے کہ وہ اندرون شہر کے اور مضافاتی علاقوں کا دورہ خود کریں تا کہ اُن کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اُن پر حکومتی ٹیکس بڑھایایا ہٹایا جاسکے، اور ہمیشہ ایسا ہوا کہ اُنہوں نے پہلے سے عائد شدہ ٹیکس میں یا تو بہت زیادہ کمی کی، یا پھر سرے سے ہی ہٹا دیا،

مسلمان حکمرانوں کے دور میں خلیفہ منصور کا دور، اور عوام کی خوش حالی کا اندازہ اِس بات سے لگائیے، کہ اس وقت رائج سکہ درہم تھا، اور ایک درہم یعنی ایک روپے میں سستی اور کھلے عام چیزیں ملتی تھیں، ایک روپے میں مینڈھا یا بکرا، کوئی بار بردار جانور ، ایک درہم میں تیس سیر کھجور ، ایک روپے میں روغن زیتون 8 سیر ایک درہم میں ایک مَن بکری کا گوشت ، ایک درہم میں پانچ سیر شہد وغیرہ ہر جگہ دستیاب تھا۔

جگہ کی کمی کی وجہ سے میں، تقابلی جائزہ پیش نہیں کر سکتا، جیسا کہ ہمارا ایمان ہے کہ جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں، ایسے ہی ہمارا ایمان ہے کہ جیسے عوام، ویسے حکمران اللہ مقرر کر دیتا ہے، اور ہمارے اعمال کی بنیاد پر بعض اوقات مسلط کر دیتا ہے ایسا ہی ہمیں اِس احکام الٰہی پہ بھی ایمان لانا ہوگا، کہ صبح سویرے روزانہ فرشتے چیزوں کی قیمت مقرر کرتے ہیں، اور یہ عوام کے مزاج کے مطابق نیک ہیں، تو سستا کر دیتے ہیں۔ چونکہ اللہ سبحان وتعالیٰ مقلب القلوب اور ستار العیوب ہے وہ چاہے، تو حکمرانوں کے دِل عوام کی بھلائی اور اُن کے لئے آسانیوں کی طرف موڑ دے، اور قیمتیں بڑھانے کے بجائے گھٹانے کی طرف دھیان لگا دے، خدا گواہ ہے ، چالیس سال کے بعد بھی سعودی عرب میں قیمتیں ویسے کی ویسے ہیں، اب ٹرمپ کے آجانے، اور وہاں کے بادشاہوںکے مزاج اور رسم و رواج میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قیمتیں قدرے بڑھ گئی ہیں، حکمران عوام کا سوچتے تھے، اور اللہ اُن کے لیے راحت و خوشحالی کے دروازے کھولتا جاتا تھا، اور اِسی لئے اللہ نے اُن کو عقل بھی بے انتہا دی تھی اگر خدا کی مرضی شامل حال ہوتی، اور اُن پر روحانیت کا اتنا غلبہ ہوتا، تو ہمارے حکمران ساری عمر کرکٹ کھیلنے ، کرکٹ سمجھنے ، اور کرکٹ کے بارے میں سوچنے والے کی وزارتِ عظمیٰ میں ہماری ٹیم شرم ناک طریقے سے بنگلہ دیش ، سری لنکا اور بھارت سے ” دل کھول “ کر ہارتی رہی حالانکہ اسلامی حکمرانوں کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لے کر عباسی حکمرانوں تک کی عقلمندی اور معاملہ فہمی کا یہ عالم تھا کہ وہ لمحوں میں مسئلہ حل کر دیتے تھے، نہ اُنہیں کسی مشیر کی ضرورت تھی، نہ وزراءکی قطاروں کی اور نہ دوستوں کو وزارت میں رکھنے کی۔ ایسے ایک اسلامی حاکم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میرے بھائی نے سو دینار تر کہ چھوڑا، اور وہ مجھے صرف ایک دینار دے رہا ہے، مگر حاکم نے جواب دے کر اُسے شرمندہ اور حیران کر دیا، اُنہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے در اصل مرنے والے کی دو لڑکیاں ، ایک والدہ اور اُس کے بارہ بھائی ہیں، جب عورت نے کہا ، ہاں تو خلیفہ بولا کہ آپ کا حصہ بالکل یہی بنتا ہے۔ آخر میں اتنا عرض کروں کہ اسلامی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی خاتون کسی وَلی اللہ کے مزار پر پیدل ڈھکے سر، اور ننگے پاﺅں گئی ہو، چونکہ یہ غیر شرعی ہے لہٰذا اس کی حمایت کرنے سے پہلے بابا غلام فرید ؒ کے ارشاد پہ غور کریں ، فرماتے ہیں کہ (شاید انہوں نے وفاقی اور صوبائی وزراءکے لئے کہا ہو)

درویشی پردہ پوشی ہوتی ہے۔ اور ذکوة کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

ذکوة ، شریعت ،زکوٰة طریقت، ذکوة حقیقت، پہلی کا سب کو پتہ ہے، دوسری یہ ہے کہ چالیس روپوں میں پانچ اپنے پاس رکھے، باقی دے دے، اور تیسری یہ ہے کہ ساری کی ساری اور سب کچھ دے دے، کیونکہ درویشی ” خود فروشی “ ہوتی ہے۔ اور شاید بشریٰ بی بی نے یہی کیا ہے۔

آخر میں حضرت عمر ؓ کا ایک واقعہ، سینئے قارئین حضرت عمرؓ کی اِس بات نے میری تو آنکھیں کھول دی تھیں، شاید حکمران بھی سن لیں، ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کا بیٹا خربوزے کی پھاڑی کھا رہا تھا، تو آپ نے فوراً اُن کے منہ سے خربوزہ چھین لیا، اور کہا کہ کیا تمہیں یقین ہے کہ رعایا کے ہر فرد کو خربوزہ میسر ہے، آپ کے کھانے میں کبھی ” سویٹ ڈش “ نہیں ہوتی تھی، عربی چونکہ ” سر کے “ کو بھی سالن مانتے ہیں، وہ بھی نہیں ہوتا تھا، ایک دفعہ کوئی میٹھی چیز بنائی گئی تو فوراً اپنے وظیفے یعنی تنخوا میں سے کمی کرا دی.... مگر آج کے دور میں ننگے پیر میاں بیوی پھرتے تھے، مگر ارکانِ پارلیمان کیلئے بزنس کلاس ہوائی جہاز کے سفر کیلئے ایک ارب روپیہ فوری جاری کر دیا۔ شاید حکمرانوں کو یقین نہیں کہ اُوپر والا ایک ایک پیسے کا حساب لے گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر