مدرسے پر حملہ اسلام دشمنی
30 اکتوبر 2020 (08:25) 2020-10-30

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مسجد سے متصل مدرسے کے مرکزی ہال میں درسِ قرآن کے دوران دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔درس دینے والے مولانا رحیم اللہ حقانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا جس میں 5 کلو بارودی مواد اور چھرے استعمال کیے گئے تھے۔

16 اکتوبر سقوط ڈھاکہ کے دن دسمبر 2014ءکو اے پی ایس پشاور میں معصوم بچوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔27اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر دشمن نے ایک بار پھر وار کیا۔ دشمن نے سیاہ تاریخ اور مذموم عزائم کو دوبارہ پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ دشمن نے مدرسہ کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا۔ ان بچوں میں افغان مہاجرین کے بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

 چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مدرسے پر حملہ اسلام دشمنی ہے۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مدرسہ، منبر، مساجد، امام بارگاہیں، گرجا، مندر دہشت گردوں کا نشانہ ہیں۔ کل پھر قوم نے دشمن کو مسترد کرکے دہشتگرد نظریے کو شکست دی۔ آج بھی ہم اس جذبے کے تحت ایک ہیں۔ ہمارا دکھ کل بھی مشترک تھا اورآج بھی مشترک ہے۔ دشمن کل بھی وہی تھا۔ دشمن آج بھی وہی ہے۔ انہوں نے پشاور میں ہسپتال کا دورہ میں کہا کہ میں خاص طور پر مدرسے کے ان بچوں، اساتذہ اور خاندانوں کا دکھ بانٹنے آیا ہوں۔

ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک نہ پہنچانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ افغانستان اور پاکستا ن دونوں نے پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کا سامنا کیا۔ پاکستان نے مہاجرین بھائیوں کیلئے اپنے دِل اور دروازے کھول دیے۔ ہم ہمیشہ افغان بھائیوں کے دکھ اور سکھ میں شریک ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا نظریہ دہشت پھیلانا اور معاشرے میں خوف کی فضاپیدا کرنا ہے۔ تعلیمی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معصوم شہری ان کا نشانہ ہیں۔ ہمارے لیے ہمہ جہتی اور اتحاد ہی وقت کی ظرورت ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ آرمی چیف نے سنگلاخ اور دشوار گزار علاقے میں بارڈر فینسنگ پر جوانوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جوان شر پسند عناصر کی حالیہ دہشت گردی کے تناظر میں چوکنا رہیں۔

پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس کیلئے بھرپور تعاون کرتا رہے گا۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بھائیوں کو بھی دشمن قوتوں سے چوکنا اور دور رہنا ہو گا۔ وہ کہیں دانستگی اور نادانستگی میں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال نہ ہو سکیں۔ پاک افغان بارڈر فینس امن کی باڑ ہے۔ یہ صرف دہشت گردوں کی بارڈر کے دونوں اطراف نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بنائی گئی۔

گزشتہ دو تین ماہ سے کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں ، سابق فاٹا میں نسبتاً تخریب کاری کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ روزانہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کی تازہ لہر نے پرامن ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے چند روز قبل پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا ذکر کیا تھا۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردانہ وارداتوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اے پی ایس اور اسی طرح کے دیگر حملوںمیں ملوث بھارتی ہاتھ بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور امن و امان کو سبو تاژ کرنے کےلئے کبھی بلوچستان او ر کبھی کے پی کے میں دہشت گردی کرارہا ہے۔ پشاور مدرسے پر حملے کے تانے بانے بھی افغانستان میں جا کر ملتے ہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف متعدد کامیاب آپریشنز سے دہشت گردوں کی عملاً کمر ٹوٹ گئی اور ملک میں امن و امان کی مستقل بحالی کے امکانات روشن نظر آنے لگے تاہم ہمارے سفاک دشمن بھارت کو پرامن پاکستان ایک آنکھ نہیں بھایا اور اس نے یہاں دہشت گردی پھیلانے کیلئے کابل انتظامیہ کی معاونت سے افغان سرزمین کو استعمال کیا اور ”را“ کے حاضر سروس جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے ذریعے بلوچستان میں اپنا دہشت گردی کا نیٹ ورک بھی قائم کر دیا جس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

بھارت تو شروع دن سے ہی پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اور اس معاملہ میں وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اسکی دہشت گردی اور دہشت گردانہ ذہنیت کے ٹھوس ثبوت ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ہی نہیں‘ سکیورٹی کے عالمی اداروں کے پاس بھی موجود ہیں جن کی بنیاد پر ایک امریکی جریدے نے دو ہفتے قبل اپنی رپورٹ میں بھارت کو عالمی نمبرون دہشت گرد قرار دیا ہے۔

دہشت گردوں نے ایک بارپھر ہمارے بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حکومت ، اپوزیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دوبارہ ہوشیار ہونا پڑے گا کہ دہشت گرد ہماری آئندہ نسلوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ختم یا معذور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ہمیں فوری پر آپس کے جھگڑے چھوڑ کر وقت ضائع کیے بغیر مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا۔آج کل اپوزیشن جلسے کر رہی ہے۔

کوئٹہ جلسے میں بھی دہشت گردی کا خطرہ تھا جس سے اپوزیشن کو خبردار کر دیا گیا تھا مگر انہوں نے یہ جلسہ کیا جس کی وجہ سے انٹیلی جنس اداروں کی توجہ دفاع اور تخریب کاری سے ہٹ کر ان جلسوں کی طرف ہوگئی کہ کہیں یہاں کوئی دہشت گردی نہ ہو جائے۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمنوں نے متعدد حملے کئے اور ہمیں نقصان پہنچایا۔

2014ء میں بھی عمران خان کے دھرنا پروگرام کی وجہ سے انٹیلی جنس توجہ بٹنے کی وجہ سے اے پی ایس پرحملہ ہو گیا تھا مگر اس وقت حکومت اور اپوزیشن نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز شروع کئے اور دہشت گردی کو ختم کیا۔ اب بھی حکومت اور اپوزیشن کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سیکورٹی فورسز کی ساری توجہ دہشت گردوں پر ہو نہ کہ دیگر معاملات پر۔


ای پیپر