عالمی عدالت: روہنگیا نسل کشی کیس میں شفافیت کی اہمیت
30 اکتوبر 2020 (08:21) 2020-10-30

رواں ہفتے گیمبیا نے میانمار کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں روہنگیا نسل کشی کے حوالے سے اگلے قدم کے طور پر لگ بھگ 500 صفحات کی درخواست دائر کی ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کے نظام عدل کی کچھ کوتاہیوں کو اجاگر کرتا ہے تاہم یہ قابل تحسین اقدام ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے گیمبیا کی طرف سے اٹھائے گئے قانونی اقدام کے بارے میں مذموم اور طعنہ بھری آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ یہ ایک ایسی کوشش تھی جس کا مقصد کسی بھی چیز سے بڑھ کر تشہیر کرنا تھا اور یہ کہ یہ کسی بھی حتمی انجام تک نہیں پہنچے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گیمبیا کے وزیر ابو بکر تمباڈو، جس نے عالمی عدالت انصاف میں کارروائی کے لئے درخواست دی تھی، نے حال ہی گیمبیا کی حکومت میں اپنی خدمات سے رخصت لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں منصب سنبھال لیا ہے۔

تجزیہ کار ان کی یہ ساری مشق ان کی کیریئر میں اس پیشرفت کے لئے سیڑھی قرار دے رہے تھے۔ تاہم اس نئی درخواست نے ان خدشات کو ختم کر دیا ہے۔ گیمبیا کی حکومت کی طرف سے روہنگیا نسل کشی کے معاملے پر کام بلا روک ٹوک جاری ہے اور اس ابتدائی مرحلے میں بھی عدالت میں جمع کرائے گئے شواہد کی ضخامت سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچنے میں سنجیدہ ہے۔ اس کہانی میں گیمبیا بغیر کسی شک و شبہ کے انسانی حقوق کے ایک حقیقی ہیرو کے طور پر سامنے آیا ہے۔

بدقسمتی سے کہانی یہاں سے ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ ہمیں گیمبیا کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے کسی بھی ثبوت یا دلیل کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی ہم اگلے سال بھی میانمار کے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی دیکھ پائیں گے۔ یہ اقوام متحدہ کے قانونی اداروں کی ایک خصوصیت ہے کہ اس طرح کے معاملات میں شواہد، کم از کم اس مرحلے میں، صرف ان فریقین کو ہی دستیاب ہو سکتے ہیں جو براہ راست قانونی عمل میں حصہ لے رہے ہیں، یعنی وہ حکومتیں جو یہ قانونی چارہ جوئی یا اس کا دفاع کر رہے ہیں۔

یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کوئی بھی غیر سرکاری تنظیم یا نسل کشی کا شکار ہونے والی خود روہنگیا اقلیت کو ثبوتوں پر نظر ثانی کرنے یا اپنی شہادت، تجربات اور متعلقہ دستاویزی وسائل کو دیکھنے اور اس پر رائے دینے کا موقع نہیں ملے گا۔ میانمار میں ملک کی وفاقی فوج کے ذریعہ ظلم و تشدد اور نسل کشی کا شکار دوسرے اقلیتی گروہ بھی عدالتی کارروائی کا فائدہ لے سکیں گے نہ ہی اس کے دوران اپنی مشکلات عدالت میں بیان کر سکیں گے۔

ہم سب کو بس اندھا اعتماد کرنا ہو گا کہ یہ سارا عمل چاہے جتنا بھی پوشیدہ کیوں نہ ہو، اس کے باوجود مکمل طور پر منصفانہ ہے۔ دوسری طرف یہ طے شدہ حقیقت، قطعاً غیر معقول نہیں ہے کہ عدالت کے ذریعہ قصوروار ثابت ہونے تک مدعا علیہ کو بے گناہ تصور کیا جائے اور عدالتی کارروائی کے باعث اس کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے جو مبصرین کی طرف سے استغاثہ کے ذریعہ دائر الزامات سے ہو سکتا ہے۔

اگرچہ یہ اصول درست ہے لیکن بیشتر ممالک میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سے معاملات میں اس سے روگردانی بھی کر لی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر تب ہوتا ہے جب مبینہ مجرم نے دوسروں کو نشانہ بنایا ہو یا جب یہ سمجھا جاتا ہو کہ متاثرین کو اب بھی ملزم یا ان کے کچھ ساتھیوں سے خطرات لاحق ہیں تو متاثرین کو ہمت دینے اور تحفظ کا احساس دلانے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔ ان معاملات میں، جرم کی نوعیت کے حوالے سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے تمام پہلوئوں کو عام کیا جانا چاہیے تا کہ مشتبہ متاثرین کو مزید جارحیت سے بچایا اور ملزمان کے جرائم سے متعلق ثبوت اکٹھے کیے جائیں۔

یہ دونوں معیار اس نسل کشی کیس میں واضح طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ میانمار میں بے گھر افراد کے کیمپوں میں انتہائی خطرناک حالات میں تقریباً 3,00,000 روہنگیا باقی رہ گئے ہیں۔ میانمار کی فوج ایک لمحہ کے نوٹس پر ان لوگوں کا قتل عام شروع کر سکتی ہے۔ روہنگیا کے علاوہ بہت سے دوسرے اقلیتی نسلی گروہ، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں پناہ گزین ہیں، جو اس وقت فوج کی طرف سے گولہ باری کے نتیجے میں اپنے دیہات اور قصبوں کو تباہ ہوا دیکھ رہے ہیں اور اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح روہنگیا دیہات کو تین سال قبل تباہ کیا گیا تھا۔

ان بنیادوں پر یہ ایک مضبوط مقدمہ بنتا ہے کہ کیوں عالمی عدالت کو زیادہ سے زیادہ شواہد اور کارروائی جتنی جلدی ممکن ہو منظرعام پر لے آنی چاہئے۔ آخر میں، انصاف کیا ہی نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔ اسی لئے ہمیں اس مقدمہ کی عدالتی کارروائی کو عام کرنے اور شفاف بنانے کے لئے عالمی عدالت انصاف سے درخواست کرتے رہنا چاہیے۔

(بشکریہ: عرب نیوز۔ 29-10-20)


ای پیپر