کشمیر پر غاصبانہ تسلط کو طوالت دینے کے بھارتی ہتھکنڈے
30 اکتوبر 2020 (08:05) 2020-10-30

25 نومبر 1947ء کو آئین ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا کہ کشمیری عوام کو اظہارِ رائے کا موقع دیا جائے تو اس کی نگرانی اقوامِ متحدہ جیسے غیر جانبدار ادارے کو کرنی چاہیے۔

دسمبر 1947ء کو سری نگر کے لال چوک میں خطاب کے دوران پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہمارا کشمیریوں کی سرزمین ہتھیانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ہم کشمیریوں کو اپنی مرضی کے مستقبل کی ضمانت دیتے ہیں۔ 15 جنوری 1948ء کو گوبالا سوامی نے اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری عوام کا اپنا فیصلہ ہوگا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق قائم رکھتے ہیں یا ایک آزاد خود مختار ملک کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں۔

12 فروری 1951ء کو پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ کشمیر کوئی محض زمین کا ٹکڑا نہیں ہے جس کا سودا کر لیا جائے۔ یہاں لاکھوں عوام سے مویشیوں کا سا سلوک نہیں کر سکتے۔

ستمبر 1951ء میں بھارت نے دستور ساز اسمبلی کے انتخابی پروگرام کا اعلان کیا تو اس موقع پر پاکستان نے جب اپنے ردِعمل کا اظہار کیا تو سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے برینی گال نے اس امر کی یقین دہانی کرائی لیکن اس کے باوجود 24 جولائی 1952ء کو نام نہاد ریاستی اسمبلی نے کشمیر کے بھارت سے مہاراجہ کے الحاق کی توثیق کر دی اور اس وقت کے ریاستی وزیراعظم نے اس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ توثیق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ماحول میں نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے کیونکہ رائے میں آزاد کشمیر، شمالی علاقہ جات اور مہاجرین جموں وکشمیر پاکستان کی مرضی شامل نہیں ہے۔

27 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان نے جموں و کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط قائم کیا اور 5 اگست 2019ء کو مزید غاصبانہ اقدامات کرتے ہوئے کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور شناخت ختم کر کے خطے کے جغرافیائی ڈھانچے کو بدلنے کی یکطرفہ اور مذموم حرکت کا مرتکب ہوا۔

اب ایک بار پھر گزشتہ روز مودی حکومت نے ایک تازہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کی رو سے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ میں باہر کے لوگ مقبوضہ کشمیر میں فیکٹری، دفتر یا دوکان کے لئے زمین خرید سکتے ہیں، جبکہ اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں صرف وہاں کے باشندے ہی زمین خرید سکتے تھے۔

بھارت کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی بجائے کشمیر پر اپنے تسلط میں بتدریج اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے خلاف خود کشمیر میں کٹھ پتلی بھارتی سیاست دان بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترامیم کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی اراضی کو اس طرح سے فروخت کرنے کا مقصد کشمیر کی شناخت، انفرادیت اور اجتماعیت کو ختم کرنا ہے۔

ہہ سارے اقدامات تنظیمِ نو ایکٹ 2019ء کے تحت کئے جا رہے ہیں، جو جمہوری اور آئینی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمل میں لایا گیا تھا اور اس دوران تینوں خطوں کے عوام کی ناراضگی اور تحفظات کا بھی پاس نہیں رکھا جو پہلے سے ہی اس اقدام کو آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازش سمجھ رہے تھے۔ ایسے اقدامات سے ہہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ نئی دہلی کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ اس کو یہاں کی زمین کے ساتھ مطلب ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو آئینِ ہند سے جو حقوق حاصل ہوئے تھے وہ ایک ملک نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ وعدے کئے تھے اور ان آئینی گارنٹیوں اور وعدوں سے انحراف کیا ہے۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زمینوں سے متعلق نوٹیفکیشن حکومتِ ہند کی طرف سے کشمیر کے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دفعہ 370 منسوخ کرنے اور وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب زمینوں کی کھلے عام فروخت کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے۔

بھارت کی مودی سرکار کشمیر کو ہڑپ کرنے کا اقدام اٹھا کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرات پیدا کر چکی ہے تو مودی سرکار کو اس جنونیت سے باز رکھنے کی عالمی قیادتوں اور متعلقہ عالمی اداروں پر ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اس میں اقوامِ متحدہ کا کردار زیادہ اہم ہے جس کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا قابلِ قبول اور مستقل و پائیدار حل پیش کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں اسی تناظر میں پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کے لئے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کا تقاضا کیا گیا ہے جبکہ کشمیری عوام کے تقاضے کی پاداش میں ہی گزشتہ 73 سال سے زائد عرصہ سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں اور اپنی آزادی کی کاز کی خاطر بھارتی فوجوں کے آگے سے نہ سپر ہو کر اپنے ہزاروں لاکھوں پیاروں کی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک عالمی رپورٹ کے مطابق 90ء کی دہائی سے اب تک مقبوضہ وادی میں ڈیڑھ لاکھ کشمیری شہد ہو چکے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں، 23 ہزار خواتین کے سروں سے سہاگ کی چادریں چھینی گئی ہیں۔

اب یہ بیوہ خواتین زمانے کے رحم و کرم پر ہیں، جن کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی گئی ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ ریڈ کلف کی تاریخی بد دیانتی اور ہندو انگریز گٹھ جوڑ نے اس بڑے اور طویل المدت مسئلے کو جنم دیا جس نے ان وقتی مسائل کو بھی طویل کیا لیکن آج بھی اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ دی جائے تو برِصغیر میں امن قائم کرنے کی قابلِ عمل صورت نکل سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کھل کر کھیل رہا ہے اور عالمی طاقتوں کی خاموشی اور مجرمانہ غفلت اس مسئلے کو مزید الجھا رہی ہے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا خدشہ ہے۔


ای پیپر