بات بڑھ گئی
30 اکتوبر 2020 (07:50) 2020-10-30

پشاور میں بم دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک ساتھ کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر آسکتی ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایسے واقعات کی پیش گوئی پہلے ہی کردی تھی ، واضح طور پر ان کا واحدمخاطب اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم تھا، حکومتی پیغام واضح تھا کہ سڑکوں پر احتجاج تو کیا جلسے بھی روکے جائیں ، اسی لیے کراچی میں معروف عالم دین ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس میں شیخ رشید کو شامل تفتیش کیا جائے۔

اب کوئٹہ اور پشاور میں دھماکوں کے بعد اس مطالبے میں اور وزن پیدا ہوگیا ہے ، دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم اس معاملے کو کیسے اٹھاتا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے دوران یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نہ نکل پانا صرف افسوسناک نہیں ، پوری طرح سے قابل گرفت ہے ، اس حوالے سے بلند بانگ دعوے کرنے کے ساتھ انتہائی سخت قانون سازی کی گئی۔

اپوزیشن جماعتوں نے نجانے کس کے کہنے میں آکر حکومت کا ساتھ دیا ، نئے قوانین اس نوعیت کے ہیں کہ انہیں بنیادی حقوق کی پامالی قرار دیا جاسکتا ہے ، اس کے علاوہ بھی بعض ایسے اقدامات کیے گئے جو پہلے سے برباد ملکی معیشت کو مزید سمیٹنے کا سبب بنے ، مقام افسوس تو ہے کہ منگولیا اور آئس لینڈ جیسے ممالک گرے لسٹ سے نکل گئے ، پاکستان کی باری آئی تو ووٹنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔

چنانچہ متفقہ طور پر طے پایا کہ ہم گرے لسٹ میں ہی رہیں گے ، انتہائی شرم کی بات ہے کہ وفاقی وزیر حماد اظہر ایف اے ٹی ایف کے اس پاکستان مخالف فیصلے کو عظیم فتح قرار دیتے رہے ،رائج الوقت “مطالعہ پاکستان “کے یہی وہ جھوٹے باب ہیں جو آج ملک و قوم کو ایک گرداب میں پھنسائے ہوئے ہیں ، حکمران ٹولے کی جانب سے ہر بات میں جھوٹ بولنے کے وتیرے نے ساری تاریخ مسخ کر رکھی ہے ، مگر ایسا صرف ان کے لیے ہے جنہوں نے آنکھوں پر پٹیاں باندھ رکھی ہیں ، یا پھر کسی خوف یا مصلحت کے مارے ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں ، ورنہ اس ملک کے ساتھ کب کس نے کیا کیا اور اور اب کیا کررہا ہے پوری دنیا جانتی ہے ، ایک عالمی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ہلیری کلنٹن نے ڈیپ سٹیٹ کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے جو کچھ کہا دنیا کے لیے وہی حقیقت ہے۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ انڈیا نے نہایت آسانی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کو نگل لیا ، کسی نے چوں تک نہ کی ، عالمی برادری خاموش رہی ، ادھر ہمارا حکمران ٹولہ ہے کہ اسے بھی اپنی فتح بنا کر پیش کر رہا ہے ، شاید اسی لیے آج حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ پورا زور لگا کر بھی سچائی چھپانا ممکن نہیں رہا ، پی ڈی ایم کی قیادت نے اسی صورتحال کو دیکھ کر وہاں ضربیں لگانا شروع کی ہیں جہاں کوئی دیکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ، اوپر تلے تین کامیاب جلسوں کے بعد حکومت کی چیخیں نکل رہی ہیں ، گوجرانوالہ کا پہلا جلسہ روکنے کے لیے کینٹنروں کی لائنیں لگا دی گئیں۔ جگہ جگہ چھاپے مارے گئے مگر سب بے سود رہا ، کراچی میں جلسہ روکنا ممکن نہ تھا تو اگلی صبح ہوٹل میں مریم نواز کے کمرے پر دھاوا بول گیا ، جو الٹا گلے پڑ گیا، مقصد تو یہ تھا سندھ پولیس کے افسر خود کو طاقتوروں کے گھیرے میں پاکر کچھ ایسا بیان دینگے کہ جس سے پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑ جائے۔

پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور سندھ پولیس نے سٹینڈ لے کر ساری بساط الٹ ڈالی، کوئٹہ کا جلسہ روکنے کے لیے ناکے لگے ، موبائل فون سروس بند ہوئی ، ڈبل سواری پر پابندی لگی ، انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ، اس کے باوجود شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا اور پرجوش جلسہ منعقد ہوا، اس جلسے کو رکوانے کے لئے دہشت گردی کی کسی ممکنہ واردات سے خبردار کیا گیا ، جلسہ کے دوران شہر کے ایک علاقے میں دھماکہ ہوا بھی مگر سیاسی قیادت اور شرکا کسی دباﺅ میں نہیں آئے ، اس جلسے میں نواز شریف کی گرما گرم تقریر اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے مریم نواز کے اظہار یکجہتی نے حکومتی صفوں میں زبردست کھلبلی مچا ڈالی ، ن لیگی ذرائع کا دعوی ہے کہ نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالوں کے ذریعے خطرناک انجام کی دھمکیاں دی گئیں ، صاف بات ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ نہ صرف انکی اپنی جماعت ، پی ڈی ایم میںشامل پارٹیوں بلکہ عوام میں بھی پھیل رہا ہے۔

اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کا بنیادی موقف ایک ہی ہے ، نواز شریف مکمل طور پر اسی کی نمائندگی کر رہے ہیں ، لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ عدلیہ ، میڈیا ، نیب ، ایف آئی اے ، اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور دیگر اداروں کو کہاں سے چلایا جارہا ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ڈھکے چھپے بات ہوتی تھی اب یہ جھجک دور ہورہی ہے ، حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ سب جماعتیں نواز شریف کے بیانیہ سے متفق نہیں حالانکہ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما ٹاک شوز میں کھلے عام اس کی حمایت کررہے ہیں ، سادہ سی بات ہے کہ پی ڈی ایم میں بھی سب نے اپنا کام بانٹا ہوا ہے ، بیانیہ ایک ہی ہے ، الفاظ کا انتخاب ہر کوئی اپنے انداز سے کررہا ہے ، حکومت کی جانب سے کوئی حماقت کی گئی تو بیانات میں برتی جانے والی احتیاط ہوا ہو جائے گی۔

منصوبہ سازوں کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے اس تحریک میں سب سے آگے پنجاب سے تعلق رکھنے والا وہ لیڈر ہے جو آج بھی بے حد مقبول ہے ، ظاہر ہے اسکی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالا نہیں جاسکتا ، پھر یہ کہ عالمی میڈیا پی ڈی ایم کی مکمل کوریج کررہا ہے ، ملکی میڈیا پر اگرچہ پابندیاں ہیں مگر نواز شریف کی ویڈیو لنک تقاریر مخالفین بھی سن رہے ہیں ، ایسے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کا اعتماد بڑھ رہا ہے ، پیپلز پارٹی سمیت اتحاد میں شامل ہر پارٹی جانتی ہے کہ جتنا زیادہ دباﺅ رکھا جائے گا ہر کوئی ریاستی ہتھکنڈوں سے اتنا ہی محفوظ رہے گا۔

ایسے میں کسی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ الگ سے سودے بازی کرکے پی ڈی ایم کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا ، محض غلط اندازہ اور خوش فہمی ہے ، سیاسی لڑائی جس مقام پر آچکی ہے وہاں اپوزیشن کا باہمی اتحاد سب کی ایک جیسی ضرورت ہے ، سوال تو ہے کہ اب حکومت کیا کرے گی ، اتحاد نہ ٹوٹا تو کریک ڈائون کیا جاسکتا ہے یا پھر ترجمان اعلیٰ شیخ سے جو دھمکی دلوائی گئی ہے ، یعنی اکثر اپوزیشن رہنماوں کو عدالتوں سے نااہل کرادیا جائے گا ، یہ بھی آسان کہاں ہے۔سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی بات مان کر جیسے ہی حکم دیا کہ کرپشن کے مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے تو شور اٹھا کہ حکومتی کرپشن کے تمام معاملات اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ، فیصل ووڈا کی نااہلی ، ڈپٹی سپیکر سوری سمیت انتخابی دھاندلی کے معاملات کی بھی فوری سماعت کی جائے ، پاپا جونز پیزا کی بات بھی اٹھائی جارہی ہے۔

ایسا نہیں کہ اس وقت ثاقب نثار یا ارشد ملک جیسے کردار موجود نہیں ، لیکن اب ماحول زیادہ موافق نہیں ، اس کشیدہ ماحول میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا تفصیلی فیصلہ بہت اہم ہے ، سپریم کورٹ نے فاضل جج کے خلاف ریفرنس کو غیر آئینی قرار دے دیا ، اب وکلا تنظیمیں نظر ثانی کی درخواستیں دائر کرکے اس غیر آئینی کارروائی میں ملوث حکومتی شخصیات کو سزادینے کا مطالبہ کررہی ہیں ، اس بگڑتے ماحول میں عمران خان عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں ، ایک طرف تو یہ اعتراف کر لیا کہ وزرا پی ڈی ایم کے جلسوں سے گھبرا گئے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہہ ڈالا کہ وہ الیکشن کرانے پر تیار ہیں ، وزیر اعظم کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ اب بات صرف نئے الیکشن تک نہیں رہی ، ان دو سالوں میں اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہو گیا اس کاجواب بھی تو دینا ہے۔


ای پیپر