گرے لسٹ کا مخمصہ
30 اکتوبر 2020 (07:41) 2020-10-30

گذشتہ ہفتے کے دوران ، پیر س میں ہو نے وا لے ایف اے ٹی ایف کے اجلا س میں جمعہ کے رو ز پا کستان کا گرے لسٹ میں رہنے یا اس سے نکلنے کا فیصلہ ہو نا تھا۔ فیصلہ آ نے سے کئی رو ز پہلے سے ہما ری وز ارتِ خا رجہ کی جانب سے نو ید سنا ئی جا نے لگی کہ پا کستا ن اب گر ے لسٹ سے نکل جا نے میں کامیاب ہو جا ئے گا۔قو م کو اس خوشخبر ی سے ہمکنا ر کر نے کے لئیے جمعہ کے روز کا بے تا بی سے ا نتظا ر کیا جا نے لگا۔ مگر سب جا نتے ہیں کہ جو فیصلہ آ یا اس کے مطا بق پا کستان کو گر ے لسٹ میں بر قرا ر ر کھا گیا۔ چا ہیے تو یہ تھا کہ حکو مت اس پہ ز یا دہ نہ سہی، تھوڑا فسوس کا اظہا ر کر تی۔مگر ہو ا یہ کہ حکو مت نے ایف اے ٹی ایف کے اس فیصلے کو اپنی کا میا بی قرا ر دیا۔

حکو مت نے مو قف اپنا یا کہ ہماری محنت کے نتیجے میں پا کستان بلیک لسٹ میں د ا خل ہو نے سے بچ گیا۔حکو مت کا کہنا تھا کہ بھا رت کی تما م کو شش تھی کہ پا کستان کو بلیک لسٹ میں دھکیل دیا جائے۔ جبکہ امرِ وا قعہ یہ ہے کہ بھا رت کی کو شش تھی کہ پا کستا ن کو گر ے لسٹ میں ہی شا مل رکھا جا ئے۔یو ں دیکھا جائے تو بھا رت اپنی کو شش میں کا میا ب ہو گیا۔ مگر کیا کہیے کہ ہما ری وزا رتِ خا رجہ اسے اپنی کا میا بی قرا ر دے رہی ہے۔ بہر حا ل اب اس امر کا فیصلہ آئندہ سا ل فروری میں کر دیا جا ئے گا۔یہ اجلا س بھی پیر س ہی میں ہو گا۔ پا کستان کو جو ن 2018 میں گرے لسٹ ، یعنی وا چ لسٹ میں شا مل کیا گیا تھا۔ گر ے لسٹ میں شا مل ہو نے سے پاکستان کو دنیا کے مشکوک ممالک میں شا مل سمجھا جا نے لگا۔ یہ ایک بڑا نقصا ن ہے۔ دہشت گر دی کے خلا ف مسلسل قربانیا ں دیئے جا نے کے با وجو د اگر پا کستا ن کو اس سلو ک کا مستحق سمجھا جا ر ہا ہے تو اس کی و جہ حکو مت کی کمز ور خا رجہ پا لیسی ہے۔

مگر ہما ری حکو مت کے اربابِ اختیا ر ہیں کہ اپنی ہر نا کا می کو اپنے لمبے چوڑے بیا نا ت سے کا میا بی کے طو ر پہ پیش کر تے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے تین اہم ممبر ان ، امریکہ،فر انس اور بر طا نیہ میں سے اگر کسی ایک کی حمایت حا صل ہو جا ئے تو بہت حد تک امید کی جا سکتی ہے کہ پا کستان کو گرے لسٹ سے نکا ل دیا جا ئے۔ ان تین مما لک میں سے پہلے اگر ا مر یکہ کی با ت کی جا ئے تو وہا ں جب تک الیکشن مکمل نہیں ہو جا تے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فرا نس کے بارے میں اس کے اسلا م کے خلا ف رویے کی بنا پر با ت کر نا ہی بے کا ر ہے۔ لے دے کر پا کستا ن اپنی کچھ امید بر طا نیہ ہی سے وابستہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے پا کستا ن کو اپنی خا رجہ پالیسی کی خا میو ں کو دور کر نا ہو گا۔مگر ہما ری حکو مت تو بر طا نیہ کے با رے میں اپنی تما م تر کو ششیں وہا ں سے نو از شر یف کو واپس لا نے پہ صر ف کر رہی ہے۔

پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا دارومدار دو یا تین ممالک سے گرم جوش دوستانہ تعلقات پر ہے جبکہ دنیا زیادہ بڑی اور دیگر امکانات بالخصوص یورپی ممالک سے تعلقات کی نئی جہتوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یورپ میں ابھرتے نئے تجارتی مواقعے پاکستان کے حق میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے بارے میں پہلے سے لائحہ عمل تشکیل دے دیا جائے، مجموعی طور پر تغیر پذیر عالمی تناظر میں نئے اتحادیوں کی تلاش اور انہیں ہمنوا بنانے میں حرج نہیں بلکہ خارجہ تعلقات کی مضبوطی و پائیداری اسی میں ہے کہ دوسروں کا اتحادی بن کر پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

تاہم یہا ں سوا ل پو چھا جا سکتا آ یا ہماری حکومت کے اربا بِ اختیا ر ان تجا ویز کو سنجید ہ لیں گے؟ نہیں ، کیو نکہ حکو مت اپنی تما م تر طا قت تو صرف اپو زیشن کو نیچا سکھا نے پہ صر ف کر رہی ہے۔ ان کے لیڈ ر وں کے بیا نا ت سن لیں۔ لگتا ہے جیسے وہ حکو مت میں نہیں بلکہ اب بھی اپو زیشن میں ہیں۔ مو جو دہ حکو مت تبد یلی لا نے کے وعد ے پہ قا ئم ہوئی تھی۔ مگر کیا تبد یلی آ ئی؟ مہنگا ئی گو ہر دورِ حکومت میں بڑھی۔ مگر اس منہ زور طر یقے سے کبھی نہیں بڑھی۔

یہ ایک ریکا رڈ ہے۔پھر صر ف مہنگا ئی ہی کا رو نا نہیں، بلکہ روز مر ہ استعما ل کی ضر وریا ت کا ما رکیٹ سے غا ئب ہو جا نا با عثِ تعجب ہے۔ انہیں ما رکیٹ میں وا پس مز ید مہنگا کر ینے کی شر ط کے ساتھ لا یا جا تا ہے۔ ادویا ت اسی بہا نے سے چار سو فیصد تک مہنگی کر دی گئیں۔ ملکی معیشت کو کبھی انڈ ے مر غیو ں کے کا رو با ر سے تو کبھی بھیڑ بکریا ں پا لنے سے مر بو ط کیا جا تا ہے۔ بھا رت بے شک پا کستان کا از لی دشمن ہے۔ اسے کسی بھی معا ملے میں اپنا دوست سمجھنا بہت بڑی حما قت ہوگی۔ مگر یہ کیا کہ اپنی ہر نا کا می کا ذمہ دار اسے قرار دیں۔پا کستا ن کو گرے لسٹ میں شا مل رکھنا بھا رت کی کو شش تھی، اور وہ اپنی اس کو شش میں کا میا ب ہو گیا ہے۔ بھارت پا کستان کے خلا ف مسلسل پر و پیگنڈ ا کر تا چلا آ رہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ وہ اس سلسلے میں بر طا نیہ اور فرا نس کی حمایت حا صل کر لینے میں کا میا ب ہو چکا ہے۔ پا کستان جب تک اپنے اوپر لگے اس تا ثر کو ز ا ئل نہیں کر پا تا، اس کا گر ے لسٹ سے نکلنا محال ہے۔

گرے لسٹ میں شامل رہنے کے جو اثرا ت عوام پہ مر تب ہو تے ہیں،انہیں بیا ن کر نے اور سمجھا نے کے لئے ایک کا لم انتہا ئی نا کا فی ہے۔ یا د ر کھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک ہم گرے لسٹ میں ہیں، ہمارے گر ین پا سپور ٹ کو عز ت ملنا مشکل ہے۔ حالا ت و وا قعا ت شا ہد ہیں کہ دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں جس قدر جا نی و ما لی قر با نیا ں پا کستا ن نے دیں، وہ اور کسی بھی ملک کے حصے میں نہیں آئیں۔ اگر اس پہ بھی پا کستا ن کو دہشت گر دی کا ذمہ دار سمجھا جا ئے تو پھر اس پہ ما تم ہی کیا جا نا چاہیے۔

مگر اس ما تم کا ذمہ دا ر ہما ری کمز و ر خا رجہ پالیسی ہے۔ دنیا نے آ گے بڑھنا ہو تا ہے۔ وہ مظلو م کا سا تھ صر ف اسی صو رت میں دے سکتی ہے جب مظلوم یہ ثا بت کر دے کہ اس پہ ظلم ہو ا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ ہم ہر اس طر ح کے محا ذ پہ اپنا د فا ع کر نے میں مسلسل نا کا م ہو ئے جا رہے ہیں۔ اگر بیر ونی قرضوں کی با ت کر یں تو ن لیگ کے گز شتہ دورِ حکومت میں پا کستا ن 95.13ارب ڈا لر کا مقر و ض تھا جبکہ مو جو دہ دو رِ حکومت میں پا کستا ن 113ڈا لر کا مقر و ض ہو چکا ہے۔ گو یا ان دو سا لو ں کے دوران حکومتِ و قت نے 17ارب ڈا لر مز ید قر ضہ لیا ہے۔

دنیا کے مما لک میں قر ضو ںکا لیا جا نا ایک معمول کا عمل ہے۔مگر ضرور ت اس امر کی ہو تی ہے کہ ان قرضو ں کا استعما ل تر قیا تی منصو بو ں پہ ہو۔عجیب بات یہ ہے کہ مو جو دہ دورِ حکومت میں ان قر ضو ں کا کوئی مصر ف نظر نہیں آ رہا۔ ایسے مما لک جو بیر و نی قر ضے برو قت ادا نہیں کر پا تے یا ان کا جا ئز استعما ل نہیں کرتے، ان کی معا شی پا لیسیاں آ ئی ایم ایف طے کر تا ہے۔ تاہم یہی حالات ہیں جن میں رہ کر ہمیں گرے لسٹ سے نکلنا ہوگا۔


ای پیپر