محسنِ انسانیت کا دن!
30 اکتوبر 2020 2020-10-30

12 ربیع الاول ایک ایسا دن جو ازل سے ابد تک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سب سے عظیم دن ہے‘ آج کے دن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیامیں تشریف لائے‘ آپ پر نبوت کا سلسلہ بھی تمام ہو گیا‘ اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کا بھی‘ آپ اسلام کے پیغام کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کا وسیلہ بنے اور توحید الٰہی کا وہ چراغ روشن کیا جس نے شرک کے اندھیرے ختم کر دیئے‘ قبل از اسلام اور بعداز اسلام کے عرب پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو انداز ہوتا ہے کہ نبی کے لائے ہوئے انقلاب نے کس طرح معاشرے کی تہذیب اخلاقیات اقدار اور کردار کو یکسر بدل ڈالا‘ قرآن کریم کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ حضور اقدس کا اسوہ حسنہ ایسے سرچشمے ٹھہرے جن سے انسانیت کا نور پھوٹتا اور ساری دنیا میں پھیلتا چلا گیا‘ یہ نور آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے‘ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب کو چھو رہی ہے۔ جو دنیا کا ایک چوتھائی ہے اس وقت عیسائیت کے بعد اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے لیکن یہ سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب بھی ہے مختلف جائزوں میں کہا گیا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا‘ حضور کے ذریعے اللہ کا جو پیغام بنی نوع انسان تک پہنچا اس کی مرکزی روح اللہ کی وحدانیت اور انسانی اقدار ہیں‘ کوہ صفا پر قریش مکہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے اپنے کردار و عمل کو ایک معجزے کے طور پر پیش کیا اور لوگوں نے آپ کی صداقت و امانت کی گواہی دی آپ اسی لئے محسن انسانیت کہلائے کہ آپ نے اپنی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کے ذریعے انسانی اخلاقیات کو سب سے زیادہ اہمیت دی کسی مذہب نے پہلی بار یہ تصور پیش کیا کہ انسانوں کے حقوق خائق کائنات کے حقوق سے بھی ارفع ہیں‘ عبادات کا معاملہ انسان اور اللہ کے مابین ہے ان میں کوتاہی اور جزا و سزا کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا‘ لیکن حقوق العباد کے بارے میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی حق تلفی کو اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جس وقت تک متاثرہ شخص خود معاف نہ کر دے‘ آپ کا خطبہ حجتہ الوداع انسانیت کا عظیم ترین منشور ہے‘ اسی لئے اسلام کو چند عبادات و عقائد پر مشتمل مذہب نہیں ایک مکمل دین کہا جاتا ہے جو معاشرت تہذیب اور تمدن کا ایک پورا نظام دیتا ہے‘ بنیادی انسانی حقوق کاک تصور اسلام ہی نے دیا‘ انسانی جان و مال کی حرمت اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا سبق بھی اسلام ہی نے پڑھایا‘ یہاں تک کہ جنگ میں بھی سختی سے تلقین کی گئی کہ بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کو کوئی گزند نہ پہنچے‘ درخت نہ کاٹے جائیں‘ کھڑی فصلیں نہ تباہ کی جائیں‘ جنگی قیدیوں سے ناروا سلوک نہ کیا جائے۔

اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ اسلام نے دنیا کو کیا کچھ دیا‘ قرآن کریم اور بنی آخر الزمان نے کس طرح انسانیت کی ان اقدار کو پہلی بار متعارف کروایا جو آج مذہب دنیا میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں‘ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم نے یعنی مسلمانوں نے اسلام کو اُس طرح نہیں اپنایا جس طرح اسکی تعلیمات کا تقاضا تھا‘ لیکن ایک بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ بالعموم مسلم معاشرہ‘ دوسرے مذاہب و عقائد کو برداشت کرتا اور ان کے پیروکاروں کے جذبات کا احترام کرتا ہے۔ آج نبی کریم کی ولادت مبارکہ کا بابرکت دن مناتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ فرانس پر مرکوز ہے‘ جہاں کے صدر کی قیادت میں مسلمانوں کی دلآزاری کی ایک مہم جاری ہے اور عمارات کو حضور کے گستاخانہ خاکوں سے سجایا جا رہا ہے‘ یورپی ممالک میں یہ مکروہ واردات کچھ نئی نہیں‘ تازہ ترین واقعہ یہ ہوا کہ اسی ماہ کی سولہ تاریخ کو ایک اٹھارہ سالہ مسلم نوجوان نے ایک سکول ٹیچر کو قتل کر دیا جس نے کلاس روم میں حضور کے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی تھی‘ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن مغرب نے کبھی یہ جاننے کی سنجیدہ کوشش کوشش نہیں کی کہ آخر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے سے کیا حاصل ہوتا ہے‘ قتل کے اس واقعہ کے بعد فرانس کے صدر ایمونیل میکرون کا جو ردعمل سامنے آیا اسے نرم سے نرم الفاظ میں بھی قابل مذمت کہا جاسکتا ہے اس نے اسلام کے بارے میں انتہائی ناروا ریمارکس دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ یہ رائے کی آزادی کا مسئلہ ہے اس لئے اگر ساری دنیا بھی اس طرح کے خاکوں سے تائب ہو جائے تو بھی فرانس یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ فطری طور پر پورے عالم اسلام میں اس کا شدید ردعمل پیدا ہوا‘ کسی فرد کے انفرادی فعل کے بارے میں ایک سے زیادہ آراءہو سکتی ہیں لیکن کسی مہذب ریاست کے انتظامی سربراہ کی طرف سے ایسا رویہ اگر متعصبانہ انتہا پسندانہ اور پرتشدد نہیں کیا ہے؟ ترکی کے صدر طیب اردوان نے بجا طور پر کہا ہے کہ فرانسیسی صدر دماغی توازن کھو بیٹھا ہے مسئلہ یہیں ختم نہیں ہو گیا گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ جاری ہے فرانس میں بسنے والے تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہے ان کی مساجد بند ہو رہی ہیں مدارس پر تالے ڈالے جا رہے ہیں‘ اور انہیں دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ان کے عقائد و نظریات کی توہین کرنا‘ ان کے مذہب کی انتہائی قابل احترام شخصیات کی توین کرنا‘ کس طرح آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتا ہے؟ افسوس ہوتا ہے کہ تعلیم اور سائنس میں بہت آگے نکل جانے والے ممالک بھی اتنی سی بات تک نہیں پہنچ رہے کہ حضرت محمد سے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا عالم کیا ہے‘ ہم آئے دن اس طرح کے توہین آمیز خاکوں‘ فلموں اور کارٹونوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں‘ کبھی سویڈن‘ کبھی ناروے‘ کبھی ڈنمارک‘ کبھی ہالینڈ‘ کبھی فرانس اور کبھی کہیں اور‘ شاید یہ لوگ تمام تر ترقی کے باوجود ذہنی طور پر بیمار ہیں اور ایک ایسی عظیم ہستی کو نشانہ بناتے ہیں جو انسانیت اور احترام آدمیت کے حوالے سے خود ان کی بھی محسن ہے۔

میرے پیارے نبی کے نام تو خالق ارض و سما نے سب سے بالا کر دیا‘ آپ کے اسم مبارک کا اجالا پھیلتا رہے گا‘ محسن انسانیت کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے خود اپنے چہروں پر ہی کالک مل رہے ہیں اور اپنے لئے جہنم کا سامان کر رہے ہیں لاکھوں درود و سلام نبی آخر الزمان پر جن سے محبت و عقیدت کے بغیر کسی کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔


ای پیپر