Image Source: File Photo

حکومت اور تاجروں میں مذاکرات کامیاب ، شناختی کارڈ کی شرط 31 جنوری 2020تک موخر
30 اکتوبر 2019 (19:36) 2019-10-30

اسلام آباد: مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تاجروں کیساتھ معاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط 31 جنوری تک موخر کر دی گئی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد میں تاجر نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا  کہ تاجروں کے لیے کاروبارمیں آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ ان کے مسائل کے حل کے لیےایف بی آر میں خصوصی ڈیسک قائم ہوگا۔ حکومت کی ہر پالیسی کا محور عوام ہیں۔ تاجروں سے جائز ٹیکس وصول کریں گے۔

 

اس سے قبل تاجر رہنما کاشف چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 کروڑ تک سالانہ سیلز والے تاجروں کو ود ہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنایا جائے گا، سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے بجلی کے بل کی حد 12 لاکھ سالانہ ہوگی، 10 کروڑ تک سالانہ سیلز پر ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

 

تاجر رہنما نے مزید کہا کم منافع والے ہول سیلرز کیلئے ٹرن اوور کی شرح کو کم کیا جائے گا، مسائل کے حل کیلئے تاجر نمائندگان کی کمیٹیاں بنائیں گے، نئی رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرن فارم اردو میں مہیا کیا جائے گا۔

 

وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں تاجروں کی مجموعی تعداد 35 لاکھ ہے جبکہ سیلز ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ تاجر 3 لاکھ 90 ہزار ہیں اور ایف بی آر کم از کم 30 لاکھ تاجروں کو دستاویزی معاشی نظام میں لانا چاہتا ہے۔

 

شٹر داؤن ہڑتال کی کال دینے والے تاجروں کے مرکزی لیڈر محمد علی میاں نے کہا ہے کہ جون 2019ء سے اب تک سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے معاملے پر حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے 25 ادوار ہوچکے ہیں اور ایف بی آر چھوٹے تاجروں پر 025 فیصد سے 15 فیصد تک فکسڈ ٹیکس نافذ کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی 50 ہزار روپے سے زائد خریداری کرنیوالے گاہک سے قومی شناختی کارڈ کا نمبر لینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ لاہور میں لگ بھگ 4 لاکھ تاجر ہیں جنہوں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال میں حصہ لیا ہے جس سے حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی کوشش میں وہ ملک کی بحران زدہ معیشت کو مزید تنگ گلی میں دھکیل رہی ہے۔

 

ایف بی آر حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے 30 لاکھ تاجروں کو رجسٹر کر کے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن اس سلسلے میں ٹیکس وصولی کا کوئی ہدف نہیں رکھا گیا بلکہ اصل مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔

 


ای پیپر