” تبدیلی ابھی دُور ہے“
30 اکتوبر 2019 2019-10-30

ہوسکتا ہے کہ آپ کو بھی میرے ایک بہت محترم دوست کی طرح دیوارپر لکھا نظر آ رہا ہو کہ تبدیلی آنے والی ہے مگرمجھے تو دیوار کم و بیش ویسی ہی نظر آر ہی ہے جیسی گزشتہ برس جولائی ، اگست میں تھی،ہاں، کچھ نئے نقش و نگار ضرور ہیں مگر وہ واضح نہیں ہیں،بہت مبہم ہیں،اتنے مبہم کہ نظرکا دھوکا بھی ہوسکتے ہیں۔ میں جس وقت یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اس وقت تاجر اپنی دوروزہ ہڑتال میں سے ایک روز کی ہڑتال کامیابی کے ساتھ کرچکے ہیں۔تاجروں کے دوست صحافی کہتے ہیںکہ ہڑتال ستر سے اسی فیصد رہی،وہ ہڑتال کوبڑی بڑی مارکیٹوں سے دیکھتے ہیں جو واقعی بند رہیں مگربہت سارے چھوٹے بازاروں میں یہ ہڑتال نظر نہیں آئی تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن ہو یاپچاس ہزارکی خریداری پر شناختی کارڈکی شرط، یہ سب بڑے تاجروں کے مسائل ہیں جن سے چھوٹے دکانداروں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ نعیم میر ، محمد شفیق اور کاشف چودھری پر مشتمل تاجروں کے وفد نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے بھی ملاقات کی جو خودنعیم میر کے ویڈیوپیغام کے مطابق ناکام رہی۔ یہ وہ موقع تھا جب آئی ایم ایف کا وفد بھی حکومت سے مذاکرات کےلئے موجود تھا توکیا تاجروں نے انتیس اورتیس اکتوبرکی تاریخیں اس لئے منتخب کی تھیں کہ وہ اپنے تحفظات آئی ایم ایف تک پہنچاسکیں جو اس وقت اصلاحات کے نام پر تبدیلیوں کا اصل خالق بیان کیا جا رہا ہے۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ حکومت کے دباو¿ میںآنے کا ثبوت یہ ہے کہ حکمران انتہائی اعلیٰ سطح پر تاجروںکے ساتھ مذاکرات پرمجبور ہو گئے مگرمیرا سوال ہے کہ یہ کیسی مجبوری ہے جس میں حکمران ریلیف دینے پر تیار نہیں ہوئے۔ ایک تاجر رہنماکا کہنا ہے کہ ایک دن کی ہڑتال سے حکومت کودس ارب اور تاجروں کوبیس ارب روپوںکانقصان ہوتا ہے یعنی حقیقت کھلی کہ تاجروں کانقصان زیادہ ہوا ہے۔

کالم زیر تکمیل ہے اور مولانا فضل الرحما ن کا آزادی مارچ اسلام آباد جانے کے لئے لاہورکی طرف رواں دواں ہے۔ مولانا ،خان صاحب کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا مولاناکے مارچ کو کچھ خاص لفٹ نہیںکروا رہا اور جوکروا رہاہے وہ کچھ اس قسم کی ہے کہ ایک خبر آتی ہے کہ مولانا کے مارچ میں صرف دس،بارہ گاڑیاں ہیں اورپھردوسری خبر آتی ہے کہ مولانا کے مارچ میں شامل دوہزارگاڑیاں بغیر ٹول ٹیکس ادا کئے ہوئے ٹال پلازہ سے گزرگئیں ، یقینی طورپراس مارچ کی وہ کوریج ہرگز نہیںہے جس قسم کی کوریج جناب عمران خان کے مارچ اوردھرنے کی ہواکرتی تھی اور اسی سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ مارچ کتنا کامیاب ہوسکتاہے۔ آزادی مارچ لاہورمیں رنگ جماسکتا تھامگر مجھے نہیںعلم کہ مارچ کے منتظمین نے لاہورمیں داخل ہونے کےلئے آدھی رات کے وقت کا انتخاب کیوں کیا جبکہ اگلا روز بدھ کا تھا جو ایک ورکنگ ڈے ہے۔ یہ ممکن ہے کہ تاجروںکی ہڑتال کی وجہ سے کچھ چھٹی ، چھٹی والاماحول ہو مگر تمام سکول اورسرکاری دفاتر کھلے ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ غیر حاضر ہوسکتے ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیںکہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد مولانا اپنے مارچ کے شرکا کو پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے پہنچنے کی کال دیں گے یا پشاور موڑ پر ہی رنگ جمائیں گے جس کے بارے میں ان کی مقامی قیادت نے معاہدہ کر رکھا ہے اور ابھی تک اس معاہدے کی پاسداری کے حوالے سے متضاد اطلاعات موصول ہور ہی ہیں۔ ایک دوست کی خبر ہے کہ مولانا فضل الرحمان پشاور موڑ پر ایک بڑا جلسہ کریں گے، حکومت کو ایک اورڈیڈ لائن دیں گے اور اسکے بعد رخصت ہوجائیں گے اوراگر وہ واقعی رخصت ہو گئے تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ دوبارہ آنے میں کم و بیش ایک برس لگ جائے گا۔ میںایک مرتبہ پھر اپنے خیال کو دہرا دیتا ہوںکہ مولانا فضل الرحمان ہرگز،ہرگزنوے کی دہائی والے قاضی حسین احمد نہیں ہیںکہ وہ قاضی آ رہا ہے کے نعرے وہ لگائیں، دھرنے وہ دیں،آنسو گیس وہ کھائیں اور ان کی احتجاجی تحریک کے ثمرات دوسرے یعنی مسلم لیگ نون یا پیپلزپارٹی والے سمیٹ کر لے جائیں۔

ایک اور کام بھی ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی آٹھ ہفتوں کے لئے ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔یہ چودھری شوگر ملز کیس کے بعد ضمانت کا دوسرا مرحلہ ہے جس میں العزیزیہ کیس میںان کی سزا معطل کی گئی ہے۔ نواز شریف حکومت مخالف سیاسی رہنما ہیں اور انکی ضمانت اس طرح کنفرم ہوئی ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدارکو باقاعدہ سنا ہے اوران کی رائے کو نہ صرف اس وقت وزن دیاہے بلکہ یہ بھی قراردیاہے کہ دو ماہ کے بعد وہ یعنی نواز شریف اپنی رہائی کے لئے عدالت کے بجائے پنجاب حکومت سے رجوع کریںگے ۔ ایک سیاسی تجزیہ کار کے طور پر میںسمجھتا ہے کہ قواعد و ضوابط ضرور ایسے ہی ہوں گے مگر سیاسی حقیقت یہ ہے کہ شریف خاندا ن کو نواز شریف کو اپنے پاس رکھنے کے لئے حکومت پنجاب کا احسان لینا پڑے گا۔ ہمارے بعض ایکٹیویسٹس کی رائے کے مطابق جودیشل ایکٹوازم میںیہ ممکن تھاکہ شریف خاندان کو صرف عدالت کے سامنے ہی درخواست گزار رکھا جاتامگر یہاں بہرحال فیصلہ پنجاب حکومت کی آئینی، قانونی اور سیاسی بالادستی کو ظاہر کر رہا ہے۔ نواز شریف کے حامی اپنی انا کے تحفظ میںکہتے ہیںکہ نواز شریف نے توضمانت پر رہائی کی اپیل کی ہی نہیں، ان کے کسی درخواست پر دستخط ہی دکھا دئیے جائیں کہ نواز شریف کے بجائے ہر جگہ حکومت سے مفاہمت سے حامی شہباز شریف کے ہی دستخط ہیں اور یہ شہباز شریف ہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک چلے جائیں مگرنواز شریف سے منسوب فقرہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پوچھاہے کہ کیا موت کا فرشتہ لندن میں نہیں آتا ( واللہ اعلم باالصواب)۔

میرے بہت سارے دوستوں کوگزشتہ نومبر ،دسمبر سے تبدیلی آئی ہوئی تھی ، کچھ کا کہنا تھا کہ مارچ میںوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار تبدیل ہوجائیں گے اور جون میںبجٹ کی منظوری کے بعد عمران خان کی بھی چھٹی کروا دی جائے گی۔ ان دوستوںکی تجزئیے نما خواہش کی بنیاد معیشت کی تباہی کے ساتھ ساتھ ایک برس میں ہونے والی ریکارڈ مہنگائی تھی مگر دوسری طرف جن لوگوں نے تبدیلی کا فیصلہ کرناہے ان کے ساتھ بیٹھیں تو وہ بتاتے ہیںکہ پہلاسال مشکل فیصلوں کاتھا۔ ان لوگوںکے لئے پٹرول اور بجلی کا مہنگا ہونا اہمیت نہیںرکھتا کہ ایسی بہت ساری چیزیں وہ اپنی تنخواہ سے نہیںخریدتے بلکہ ان کی مراعات کاحصہ ہوتی ہیں۔ عمران خان جب یہ کہتے ہیںکہ ان کی حکومت کے ایک برس میں مہنگائی سب سے کم بڑھی ہے تو وہ اعداد وشمار کے بجائے ان کے بیان پریقین رکھتے ہیں۔ یہ ڈاکٹروں کی ہڑتال پر رائے دیتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر کام چور ہیں اور وائے ڈی اے ڈاکٹروںکی نمائندہ نہیں بلکہ بلیک میلروں کاگرو ہ ہے ۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ہر حکومت کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اقتدار کے عادی ہو چکے، اپوزیشن میںرہ کر وہ بلڈ پریشر کے مریض ہو رہے ہیں، وہ یہ بھی سمجھتے ہیںکہ ہڑتال کرنےوالے تاجر کاروبار میںمندے اوربے جا ٹیکسوں کی وجہ سے ہڑتال نہیں کر رہے بلکہ وہ ٹیکس چوری جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا راستہ موجودہ حکومت روک رہی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسی تبدیلی کا فیصلہ کرنا ہے جو ہمارے ہاں اکثر و بیشتر آتی رہی ہے مگر وہ اب تک اس یقین سے بھرے ہوئے ہیں کہ مسائل پیدا کرنے والے ان تمام سیاسی و غیر سیاسی لوگوںکو نتھ ڈال کر ہی ملکی ترقی کی مضبوط اور مستحکم بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

میں دوستوںکے سامنے فیصلہ سازوںکے خیالات رکھتاہوںتو وہ کہتے ہیں کہ ہر مرتبہ حالات فیصلہ سازوں کی مرضی کے نہیں رہے، کیابے نظیر بھٹو اور آصف زرداری دونوں پہلی پہلی مرتبہ اور نواز شریف تیسری مرتبہ فیصلہ سازوںکی مرضی سے اقتدارمیں آئے تھے۔ وہ خوش گمان ہیں مگر مجھے علم ہے کہ فیصلہ ساز ابھی اس طرح نہیں سوچ رہے، عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ تو شائد کبھی نہ آئے مگر جس تبدیلی کا خواب حکومت مخالف دیکھ رہے ہیں وہ تبدیلی بھی کچھ دُور ہے۔


ای پیپر