فوٹوبشکریہ فیس بک

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی آئی جی وفاقی وزیر کا فون نہ اٹھائے: فواد چودھری
30 اکتوبر 2018 (12:55) 2018-10-30

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ہم کہتے ہیں نہ رو اور وہ کہتے ہیں این آر او، جس پر بھی ہاتھ رکھیں اس پر نیب کا کیس ہے۔ اپوزیشن کے پاس بھی کوئی نیک پاک لوگ نہیں ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ اے پی سی کی ہمیں کوئی سمجھ نہیں آرہی، یہ این آر او لینے کیلئے ہو رہی ہے۔ کرپٹ سیاستدان چاہتے ہیں کہ وزیراعظم اُن کے مقدمات واپس لیں۔ شہبازشریف کو کمیٹی کا چیئرمین بنائیں گے تو کیا وہ اجلاس جیل میں بلائیں گے؟ نواز شریف کی سیاست اتنی رہ گئی ہے وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے اسکولز اور کالجز میں آئس ڈرگ فروخت ہو رہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی آئی جی وفاقی وزیر کا فون نہ اٹھائے ۔ اعظم سواتی غلط ہیں یا صحیح یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر وزیراعظم ہی آئی جی کو ہٹا نہیں سکتا تو پھر الیکشن کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اپنے ایگزیکٹو اختیارات ہیں۔ سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کریں گے۔ بنی گالہ کا گھر جب بنا، تب یہ جگہ سی ڈی اے کی حدود میں نہیں تھی۔ کچھ باتیں ہیں جن پر میڈیا کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین اور پاکستان کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ عمران خان کے دورہ چین سے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ وزیراعظم کی حالیہ کامیابیوں پر لوگوں کا بھرپور اعتماد ہے۔ معیشت کیلئے فضا سازگار ہو رہی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر انویسٹرز کو مکمل اعتماد ہے۔ جو گرداب پچھلی حکومتوں نے چھوڑا تھا اس سے کافی حد تک باہر نکل آئے ہیں۔ پاکستان کا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے جو پورٹل شروع کیا ہے اس پر لگ بھگ ایک لاکھ شکایات آچکی ہیں۔ جو شکایات آئی ہیں اس پر اتوار سے عملدرآمد شروع کر رہے ہیں۔ اس پورٹل سے مختلف محکموں سے متعلق ڈیٹا اکٹھا ہوتا رہے گا۔ پورٹل کے ذریعے وزیراعظم کو پتہ چلے گا معاملات کس طرف جا رہے ہیں۔


ای پیپر