Powerful rulers of the Muslim world
30 نومبر 2020 (22:49) 2020-11-30

رضا مغل

 دنیا جب سے اپنے وجود میں آئی ہے امت مسلمہ انسانی تاریخ کا بڑا حصہ رہی ہے ۔ تاہم اس تاریخ میں اتار چڑھائو آئے، بادشاہوں سے لیکر اب تک کے حکمرانوں کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو پھر یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ایک وہ بھی وقت تھا جب مسلم حکمرانوں نے یورپ کے علاوہ غیر مسلم قوتوں کو اپنے حصار میں جکڑ رکھا تھا اور ایک وقت یہ بھی ہے کہ دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔مگر ایک بات طے ہے کہ جتنے بھی حکمران گزرے ان کے بعد نہ کوئی اور ان جیسا حکمران آئے گا کہ اب وہ نہ زمانے اور نہ حالات ۔اب  نہ طارق بن زیاداورنہ محمد بن قاسم پیداہونگے ۔اگر تاریخ کا جائزہ لیں تو ہم مسلم قوتیں آج طاقتورہونے کے باوجود ریت کی طرح کمزور اور چیونٹی کی طرح اڑان کی طاقت سے محروم ہیں۔ تاہم موجودہ دور میںمسلم دنیا کی حکمرانی کرنے والوں میں شاہ فیصل کا نام سرفہرست ہے۔

شاہ فیصل بن عبدالعزیز صفر 1324ھ مطابق اپریل 1906ء کو پیدا ہوئے۔ - 1395 1384ھ مطابق 1964ء کو بادشاہ بنے اور 1975ء تک حکمراں رہے،شہزادہ فیصل مکتب میں غیر منظم طریقے سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے لکھنا پڑھنا سیکھا، قرآن کریم حفظ کیا، حدیث شریف کا علم حاصل کیا۔ اُس زمانے میں نجد میں روایتی تعلیم کا یہی طریقہ رائج تھا تاہم شہزادہ فیصل نے ایک اور امتیاز حاصل کیا جو ان کے معاصرین میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا، اپنے نانا شیخ عبداللہ بن عبداللطیف کے ہاتھوں بحث مباحثہ کی صلاحیت اور متکلم کو قائل کرنے کی مہارت حاصل کی،شہزادہ فیصل نے گھڑ سواری ، تیر اندازی اور نشانہ بازی ایسے لوگوں سے سیکھی جن کا انتخاب اس مقصد کیلئے ان کے والد شاہ عبدالعزیز نے کیا تھا،شہزادہ فیصل اپنے نانا کے گھر میں مقیم رہے ۔ پھر وہ 1337 ھ مطابق 1919 ء کو پہلی بار تعلیم حاصل کرنے کیلئے یورپ گئے، وہاں سے واپسی پر انہوں نے اپنے آبائو اجداد کے گھر میں قیام کیا۔ شاہ عبدالعزیز کی بیگم شہزادی حصہ السدیری نے ان کی دیکھ بھال کی، شہزادہ حصہ السدیری شاہ فیصل کے بھائی شہزادہ فہد کی والدہ تھیں،یہ آگے چل کر بادشاہ بنے،شہزادہ فیصل نے اپنے باپ کے گھر واپس ہوکر سیاسی ماحول اور جنگی سرگرمی کی فضاء میں زندگی گزاری، امن و جنگ کے عالم میں لوگوں سے نمٹنے کے طور طریقے سیکھے، اپنے والد سے ضبط و تحمل اور صبر و احتیاط کے گُرحاصل کئے۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنے بیٹے فیصل میں بہت کم عمری کے اندر لیاقت ، فراست اور ذہانت کی علامتیں پڑھ لی تھیں،ان کے نانا شیخ عبداللہ بن عبداللطیف نے بھی ان کی استعداد محسوس کرلی تھی۔ آنے والے وقت نے ان دونوں بزرگوں کے احساس و ادراک کو سچ ثابت کردیا،شاہ عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شہزادہ فیصل کو بہت کم عمری میں سیاست میں داخل کردیا۔ انہوں نے پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر برطانیہ اور فرانس کے دورے پر انہیں بھیجا۔ اس وقت ان کی عمر 13 برس تھی ، شاہ عبدالعزیز نے مسئلہ فلسطین سے متعلق ہونے والی گول میز کانفرنس میں شرکت کیلئے انہیں لندن کانفرنس کیلئے سعودی وفد کا قائد بناکر روانہ کیا تھا،شاہ فیصل کا عہد صحیح معنو ں میں ٹھوس سائنٹیفک منصوبہ بندی کا دور کہا جاسکتا ہے۔ انہی کے زمانے میں زندگی کے ڈھانچوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور معاشرے کے مختلف شعبوں کو ٹھوس بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے منصوبہ بندی شروع کی گئی، مملکت سعودی عرب کو اسلامی تشخص برقرار رکھتے ہوئے جدید بنانے کا بیڑہ اٹھایا اور اس حوالے سے وہ سرخرو ہوئے،شاہ فیصل  عوام میں خوشحالی لانے کیلئے اپنے فرض کا گہرا احساس رکھتے تھے،شاہ فیصل اپنے ورثے اور وطن کی روایتوں پر نازاں ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سوچ رکھتے تھے کہ یہ سب کچھ عصری ٹیکنالوجی اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے استفادہ کی راہ میں حائل نہیں، اقتصادی ترقی اور سماجی معیار کو بلند کرنے اور مملکت کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ وہ اس بات پر ہمیشہ زور دیتے رہے کہ اسلام ہی ملک کا آئین رہے گا،اعتراضات کے باوجود انہوں نے پہلا گرلز سکول کھلوایا ۔ انہو ںنے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے نیز جامعات کے قیام کا دائرہ وسیع کرنے اور اعلیٰ تعلیم کیلئے سعودی طلبہ کو بیرون مملکت بھیجنے کے حوالے سے اپنے بھائی شاہ سعود کے کارواں کو آگے بڑھایا، 1975 ء میں بھتیجے کے ہاتھوں قتل ہوئے ،اس سانحہ کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ یہاں صدیوں سے نافذ اسلامی سزائوں کا قانون ختم ہو جائے گا لیکن شاہ خالد نے منصب سنبھالا اور اپنے قاتل بیٹے کو بھی وہی سزا دی جو عام قاتل کیلئے تھی ۔

جمال عبدالناصر

جمال عبد الناصر 1954ء سے 1970ء تک مصر کے صدر رہے، وہ عرب قوم پرستی اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف اپنی پالیسی کے باعث مشہور ہوئے،عرب قوم پرستی انہی کے نام پر ناصر ازم کہلاتی ہے۔ ناصر اب بھی عرب دنیا میں عربوں کی عظمت اور آزادی کی علامت سمجھے جاتے ہیں،وہ 15 جنوری 1918ء کو مصر کے شہر اسکندریہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد محکمہ ڈاک خانہ میں کام کرتے تھے، وہ بچپن ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے شوقین تھے اور محض 11 سال کی عمر میں ایک سیاسی مظاہرے میں شرکت کی جہاں پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی اور بعد ازاں گرفتار ہوئے، دوسری جنگ عظیم کے دوران مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے محوری طاقتوں خصوصاً اطالویوں سے رابطہ کیا تاہم منصوبے میں ناکام رہے، بغاوت کے نتیجے میں 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے ہیرو جنرل محمد نجیب مصر کے صدر بن گئے،جمال ناصر 23 جون 1956ء کو مصر کے صدر بنے، ان کے دور صدارت کے کارناموں میں نہر سوئز سے برطانوی افواج کا انخلا اور اسوان ڈیم کی تعمیر قابل ذکر ہیں،صدر ناصر شروع شروع میں ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا تھے جو مغربی ملکوں کے خلاف نہیں تھی لیکن 1954ء کے بعد وہ روس اور اشتراکی ممالک کی طرف زیادہ جھکنے لگے اور اس طرح مصر اور مغربی ممالک کے درمیان براہ راست کشمکش شروع ہو گئی جس کا پہلا بڑا اظہار اسوان بند کی تعمیر کے سلسلے میں ہوا،مصر کی خوشحالی کا تمام تر انحصار دریائے نیل پر ہے، جس کی وجہ سے مصر کو تحفہ نیل کہا جاتا ہے۔ نیل کے پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے مصری حکومت نے اسوان کے مقام پر پرانے بند کی جگہ ایک نیا اور زیادہ بڑا بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ مصر میں مزید زمین زیر کاشت آسکے اور پن بجلی بڑی مقدار میں حاصل ہو سکے، امریکا، برطانیہ اور عالمی بینک نے اس منصوبے کے لیے قرضہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا تھا لیکن ان ملکوں نے جب دیکھا کہ مصر روس اور اشتراکی ممالک کی طرف مائل ہو رہا ہے اور ایک ایسی پالیسی پر چل رہا ہے جو ان کے مفاد کے خلاف ہے، تو انہوں نے جولائی 1956ء میں قرضہ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا،اسوان بند کی تعمیر مصری معیشت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی تھی اس لئے مصر میں امریکا اور برطانیہ کے فیصلے کے خلاف شدید رد عمل ہوا،  صدر ناصر نے فرانس اور برطانیہ کی زیر ملکیت نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے لیا اور اعلان کیا کہ اسوان بند نہر سوئز کی آمدنی سے تعمیر کیا جائے گا۔برطانیہ اور فرانس نے مصر کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کے تحت 29 اکتوبر 1956ء کو اسرائیل کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا جس کے دوران اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ کر لیا۔ اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی نہر سوئز کے علاقے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ برطانیہ اور فرانس کی اس جارحانہ کارورائی کا دنیا بھر میں شدید رد عمل ہوا، امریکا نے بھی پرزور مذمت کی اور روس نے مصر کو کھل کر امداد دینے کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے اس دباؤ کے تحت برطانیہ اور فرانس کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسرائیل نے بھی جزیرہ نمائے سینا خالی کر دیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے دستے مصر اور اسرائیل کی سرحد پر متعین کر دیے گئے تاکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرسکیں،یہ واقعہ "سوئز بحران" کہلاتا ہے۔ غیر ملکی افواج کے کامیاب انخلا سے ناصر عرب دنیا میں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے ابھرے،روس کی مدد سے اسوان بند کی تعمیر یکم جنوری 1960ء کو شروع اور 1970ء میں مکمل ہوئی۔ بند کی تعمیر کے نتیجے میں جو جھیل وجود میں آئی اسے جھیل ناصر کا نام دیا گیا،نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے کر برطانیہ اور فرانس کے حملوں کا جرات کے ساتھ مقابلہ کرکے ناصر نے جس ہمت کا ثبوت دیا اس کی وجہ سے وہ عربوں میں بالخصوص اور دنیا میں بالعموم مصر کا وقار بڑھ گیا لیکن مصر کے وقار میں اس اضافے کے ساتھ ساتھ مصر پر روس کے اثرات میں اضافہ ہو گیا،صدر ناصر چونکہ عرب دنیا کی مقبول ترین شخصیت بن چکے تھے ، براہ راست مداخلت کی وجہ سے نتیجہ یہ نکلا کہ عرب ممالک کے اختلافات پہلے سے زیادہ بڑھ گئے،صدر ناصر کی آمرانہ پالیسی کی وجہ سے متحدہ عرب جمہوریہ کی گاڑی زیادہ دن نہ چل سکی۔28 ستمبر 1970ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث ان کا اچانک انتقال ہو گیا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی 

سید روح اللہ موسوی خمینی المعروف امام خمینی ایران کے اسلامی مذہبی رہنما اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی تھے۔ آیت اللہ خمینی 24 ستمبر 1902کو  ایران کے شہر خمین میں پیدا ہوئے ۔ 1953 میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف ہو گئے اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔آپ کے خاندان نے کشمیر سے ایران ہجرت کی اور خاندان کی نسبت سید علی ہمدانی سے ملتی ہے۔

28 اکتوبر 1964  کا ذکر ہے شاہ کی حکومت نے ایک قانون منظوری دی جس کے تحت امریکی فوجی مشن کے افرادکو سفارتکاروں کے ہم پلہ وہ حقوق دیے گئے جو ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو حاصل ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکی جو چاہیں کرتے رہیں ان پر ایرانی قانون لاگو نہ ہو گا ۔ اگلے دن امام خمینی نے مدرسہ فیضیہ قم میں وہ شہرہ آفاق تقریرکی جو ایک عظیم انقلاب کا دیباچہ بن گئی انہوں نے کہا:

’’میرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت کے دن گن رہا ہوں اس شخص ( رضاشاہ پہلوی) نے ہمیں بیچ ڈالا ہماری عزت اور ایران کی عظمت خاک میں ملا ڈالی،اہل ایران کا درجہ امرییکی کتے سے بھی کم کر دیا گیا ہے اگر شاہ ایران کی گاڑی کسی امریکی کتے سے ٹکرا جائے تو شاہ کو تفتیش کا سامنا ہو گا لیکن کوئی امریکی خانساما شاہ ایران یا اعلیٰ ترین عہدے داروں کو اپنی گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے، آخر کیوں ؟ کیونکہ ان کو امریکی قرضے کی ضرورت ہے۔ اے نجف، قم،مشہد، تہران اور شیراز کے لوگو! میں تمہیں خبردار کرتا ہوں یہ غلامی مت قبول کرو، کیا تم چپ رہو گے اور کچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا کر دیا جائے اور ہم زبان نہ کھولیں؟

اس تقریر نے تخت شاہی کو ہلا کر رکھ دیا پورا ایران ارتعاش محسوس کرنے لگا سات دن بعد امام خمینی کو گرفتار کرکے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے جلا وطن کر دیا۔ امام ایک سال ترکی میں رہے اور 4 اکتوبر 1965میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہو گئی تو 6 اکتوبر 1978کو فرانس منتقل ہو گئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔

امام خمینی جب 1 فروری 1979 کو سولہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا کے قبرستان تک لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا۔ آیت اللہ خمینی کے استقبال کے لیے جو ہجوم اکٹھا ہوا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی اجتماع تھا،بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 کروڑ سے بھی زیادہ لکھی ہے یہ بھی عجیب دن تھا ،شاہانہ جاہ و جلال رکھنے والا حکمران اتنی بڑی تعداد دیکھ کر ملک سے فرار ہو گیا۔ امام خمینی کچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمیان کسی سادہ سے گھر میں رہوں گا، حجت الاسلام سید مہدی نے بارگاہ حسینیہ جماران سے متصل اپنا گھر پیش کیا، امام خمینی نے کہا میں کرائے کے بغیر نہیں رہوں گا، تقریباً 650 روپے ماہانہ کرایہ مقرر ہوا ،جنوری 1980 سے 3 جون 1989تک امام اس کواٹر نما گھر میں مقیم رہے یہ وہ دور تھا جب ایران میں ان کی فرمانروائی تھی، ان کے اشارہ ابرو کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہ کرتا تھا، ایران کے انقلاب کی ساری صورت گری اسی حجرے میں ہوئی۔ آپ کا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کے لیے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے ان کے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا۔امام خمینی نے ایرانی شاہی نظام کو ختم کر کے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی۔آپ کاکینسرکی وجہ سے 3 جون 1989انتقال ہو گیا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ آپ کے جنازے میں تقریبا ایک کروڑ لوگوں نے متواتر تین روز تک شرکت کی۔

انور سادات

انور سادات 25 دسمبر 1918ء کو دریائے نیل کے ڈیلٹائی علاقے کے ایک قصبے میت ابو الکوم کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، وہ 13 بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے والد مصری جبکہ والدہ سوڈانی تھی۔ انور سادات نے 1938ء میں قاہرہ میں رائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور سگنل کور میں بھرتی ہوئے۔ وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور انہیں سوڈان میں تعینات کیا گیا جہاں ان کی ملاقات جمال عبدالناصر سے ہوئی اور انہوں نے برطانیہ اور شاہ مخالف پارٹی تشکیل دی جس کا مقصد مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانا تھادوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی افواج کو مصر سے نکال باہر کرنے کے لیے محوری طاقتوں سے مدد کی کوششوں کے الزامات پر برطانیہ نے انہیں قید میں ڈال دیا، 1952ء کی فوجی بغاوت میں حصہ لیا جس میں شاہ فاروق اول کو اقتدار سے ہٹادیا گیا، اس انقلاب کے موقع پر انہیں ریڈیو پر قبضہ کرنے اور انقلاب کا اعلان کرنے کا ہدف دیا گیا۔

1973ء میں سادات نے شام کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ یوم کپور چھیڑ دی جس میں اولین کامیابیاں بھی حاصل کیں اور 6 روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے جزیرہ نما سینا کو آزاد کرالیا۔ لیکن جنرل ایریل شیرون کی زیر قیادت اسرائیلی فوج کے تین ڈویژن نہر سوئز پار کر کے مصری فوج کا گھیراؤ کر لیا۔

19 نومبر 1977ء کو سادات عرب دنیا کے پہلے صدر قرار پائے جنہوں نے اسرائیل کا باضابطہ دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے وزیر اعظم اسرائیل سے ملاقات کی اور بیت المقدس میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ 1978ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے پایا جس پر سادات اور بیگن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔اس امن معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل نے مرحلہ وار جزیرہ نما سینا خالی کر دیا اور 25 اپریل 1982ء کو پورا علاقہ مصر کے حوالے کر دیا۔6 اکتوبر کو قاہرہ میں "یوم فتح پریڈ" کے موقع پر انور سادات کو قتل کر دیا گیا۔

معمر قذافی :

قذافی نے لیبیا کی ایک بغاوت شروع کی اور دوسری ان پر آ کر ختم ہوئی،1942 میں سرت میں پیدا ہونے والے معمر قذافی بن غازی ملٹری یونیورسٹی اکیڈمی اور برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد لیبیا کی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر بھرتی ہوئے،معمر قذافی پڑوسی ملک مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی بغاوت کو آئیڈئیلائز کرتے تھے، تاہم لیبیا میں بغاوت کا ماحول بنانے کے لیے قذافی کو باقاعدہ مہم چلانا پڑی،شاہ ادریس مصر میں مقیم ہوگئے اور 1983 میں اپنی طبعی موت مرگئے،کرنل قذافی انتہائی طاقتور شخصیت کے طور پر سامنے آگئے،کچھ روز بعد وہ ملک کے سربراہ بن گئے،قذافی 42 برس تک اس عہدے پر رہے اور اس دوران انہوں نے مختلف ادوار کے دوران مختلف نظام کار اپنائے،پڑوسی ملک تیونس سے شروع ہونے والی عرب سپرنگ کے اثرات کو لیبیا پہنچنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا،کرنل قذافی نے اسے سختی سے دبانے کی کوشش کی لیکن امریکہ اور اتحادی ممالک کی پشت پناہی سے یہ تحریک زور پکڑ گئی،2011 میں باغیوں نے معمر قذافی پر تشدد کیا اور پھر انہیں قتل کر دیا

ذوالفقار علی بھٹو :

 ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے، ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے،ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

انھوں نے زرعی اصلاحات، عوام کو سستی ٹرانسپورٹ اور خوراک سمیت بے شمار دوسری سہولیات فراہم کی، بنیادی مراکز صحت کا قیام اور غریبوں کے لئے علاج کی مفت سہولت، تعلیم اور علاج کے لئے بجٹ کا 43فیصد مختص کرنا، پاکستانی عوام کو شناخت دینے کے لیے قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے قانون سازی اور دیگر اصلاحات شامل ہیں ۔ آئین پاکستان انکا تاریخ ساز کارنامہ تھا ،بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا،ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا کے 77 ترقی پزیر ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور مشترکہ مسائل کو ایک ہی پلیٹ فارم سے حل کرنے کی کوششوں کا انعقاد کیا، لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا نہ صرف انعقاد کیا بلکہ مسلم امہ کے اتحاد کے لئے ایسے گراں قدر فیصلے بھی کروائے جس کے سبب ذوالفقارعلی بھٹو مغربی طاقتوں کے لیے ایک خطرہ بن کر ابھرے،قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا ان کا بہت بڑا کارنامہ تھا،جس پربین الاقوامی طاقتوں کی نفرت بھی مول لی، 5 فروری کو یوم کشمیر کے طور پر مختص کرنا اور شملہ معاہدہ بھٹو کے عظیم کارناموں میں شامل ہیں۔

1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل 1979ء کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

 صدام حسین:

سابقہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جس طرح اپنی انٹیلی جنس کی جھوٹی رپورٹوں کو صداقت پر مبنی مان کر عراق کے مردآہن صدر صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل اور عراق کو تباہ و برباد کرنے کیلئے خطرناک فضائی حملے کئے اور اتحادی فوجیوں کو عراق میں اتارا ،یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے،حملے میںلاکھوں انسانوں کا قتل عام ہوا، اسلام دشمن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ تسلیم کیا کہ امریکہ نے عراق میں فوجی مداخلت کرکے سخت غلطی کی تھی،جبکہ خودجارج ڈبلیو بش نے بعد میں کہا تھا کہ عراق پر حملہ غلط معلومات پرکیا گیا تھا، ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر صدام حسین کے بارے میں غلط انٹیلی جنس رپورٹ فراہم کی کہ ان کے پاس ایٹم بم اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا جو تمام کا تمام غلط ثابت ہوا،اس تمام تر تمہیدکا مقصد یہ کہ کھربوں ڈالر کا نقصان اور امریکی سپاہیوں کی ہلاکت کا توامریکیوں کوغم ہے لیکن انہیں ان معصوم اور بے قصور عراقی شہریوں کی ہلاکت اور عراق کے تباہ و برباد کئے جانے پر کسی قسم کا رنج و ملال نہیں، درندہ صفت امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور برطانوی درندہ صفت وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر جس طرح خطرناک فضائی حملے کرکے چندلمحوں اور گھنٹوں میں عراق کو تباہ و برباد کردیااسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی، صدام حسین جس نے اسلام دشمنوںکے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے موت کو ترجیح دی اور اسلامی پرچم کو سربلندی عطا کرنے کیلئے آخری وقت تک بھی اپنی جبیں پر شکن آنے نہیں دیا۔ جس وقت انہیں سزائے موت دی جارہی تھی، وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنی جانِ آفریں کو خدائے بزرگ و برتر کے سپرد کردی، امریکی انٹیلی جنس کی غلط رپورٹ نے جہاں عراق کو تباہ و تاراج کیا اور لاکھوں عراقی عوام کی جان لی، وہیں عراق کی تاریخ کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی ،سب سے اہم بات یہ تھی کہ صدام حسین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کانٹے بن کر چبنے لگے ، انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر صدام حسین کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا تو وہ مشرقِ وسطی میں ایک طاقتور حکمران کی حیثیت حاصل کرلینگے اور ان دشمنانِ اسلام کو عرب ممالک سے ملنے والاتیل بند ہوجائے گا، اسی لئے امریکہ نے اپنے پالتوممالک کے ساتھ مل کر صدام حسین کو ٹھکانے لگایا،صدام حسین نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم کو عام کرنے کے علاوہ صحت و تندرستی پر خصوصی توجہ دی تھی،سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کب تک دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا شکار ہوتے رہینگے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر