Asad Shehzad meets renowned Pakistani journalism columnist and professor Taufeeq Butt
30 نومبر 2020 (22:39) 2020-11-30

میں عام سا اِک بندہ ہوں، میرا یہ اعزاز ہے میں آج بھی زیادہ لوئرکلاس ہی میں رہنا پسند کرتا ہوں اور انہی کے نظریات پر زندہ ہوں، الحمدللہ میں آج جس مقام پر ہوں اور جتنی میں نے محنت کی ہے اور جس قدر کام کیا جو جاری وساری ہے اس سے کہیں زیادہ عزت کما چکا ہوں۔ میری زندگی بہت سے حادثات کے گرد گھومتی ہے۔ ایک اَن پڑھ باپ کا بیٹا ہونا میرا سب سے بڑا فخر ہے اور میں نے تمام عمر جتنی عقل، جتنی دانش خصوصاً کسی کو عزت دینا اور عزت لینا سیکھا وہ انہی کا مرہون منت ہے۔ اگر آئیڈیل ازم کی بات کروں تو پھر میرے والد ہی میرے آئیڈیل باپ، آئیڈیل کردار، آئیڈیل زندگی اور آئیڈیل خواب ہیں جن کی تعبیر ان کے دیئے اصولوں پر چلتے ہوئے پاچکا ہوں۔ یہ الفاظ ہیں کالم نگار اور پروفیسر توفیق بٹ کے۔

میں اس توفیق بٹ کو نہیں جانتا جو اپنے والد کی زندگی کو جیتے جارہا ہے البتہ میں اس توفیق بٹ کو ضرور جانتا ہوں جس نے صحافت کے میدان میں کالم کو خوبصورت زندگی دے کر عبدالقادر حسن، منوبھائی، ارشاد حقانی، مسعود اشعر چوہدری کی صف میں خود کو لاکھڑا کیا اور پھر بقول آتش کے:

جو چاہے بیچ لے چھپوا کے اپنے دامن کو

ہمارے پاس سدا اس کے اور مال نہیں

توفیق بٹ نہ صرف وکھری ٹائپ کا بٹ ہے بلکہ وہ انوکھے راہوں کا مسافر ہے جو کسی لمحے زندگی سے لے کر پروفیسری تک اور پروفیسری سے لکھنے لکھانے کے لفظوں تک کمپرومائز نہیں کرتا۔ اُسے لفظ جوڑنے نہیں آتے، وہ دل میں آئی ہر بات کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہے اور عزت واحترام کے دائرے میں رہ کر آئینہ دکھانا اس کا خوب فن ہے۔ میں اس کو ورسٹائل کالم نگار تو نہیں کہوں گا مگر جس سٹائل کو اس نے متعارف کرایا ہے وہ کسی اور کا مقدر نہ بن سکا، بلاخوف بات کرنا، لکھ دینا اور اپنے لکھے کی پاسداری کرنا اس کا فطری عمل ہے۔

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا افسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

طبل وعلم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک ومال

ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

شاید بٹ ہونے کے ناطے بٹوں کی عزت بھی رکھے ہوئے ہے کہ کھلی بات کو کھلے انداز میں لکھ جانا اس کو گڑتی میں ملا ہے، اس کی ایک اور خوبی ہے کہ وہ خود تو مجبور ہوسکتا ہے مگر اس نے اپنے لکھے لفظ کو مجبوری کے حوالے نہیں کیا اور ڈٹ کر اس کا دفاع کرتا ہے، اس فقیر نُما بندے کے بارے میں اپنے ابتدائیہ میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ۔

یہ تو فقیر کا تکیہ ہے مسند تکیہ کہاں

گزشتہ دنوں میری درخواست پر توفیق بٹ سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کا مقصد توفیق بٹ کے اندر کی تلاش کو تلاش کرنا تھا گو تلاش کی ابھی بہت ساری تشنگی باقی ہے کہ اس کے لیے ایک نہیں زندگی کی کئی ملاقاتوں کی آتش کو بجھانا ہو گا تب جا کے بات رُکتی ہے۔

آیئے ذیل کے کالموں میں پاکستان کے خوبصورت کالم نگار توفیق بٹ سے کی گئی ملاقات کا احوال پڑھتے چلیں۔

س:بٹ صاحب پہلے خاندانی تعارف کی طرف چلتے ہیں؟

ج:کوئی لمبا چوڑا خاندانی تعارف نہیں رکھتا، میرا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس خاندان سے ہے۔ میرے والد بالکل ان پڑھ تھے لیکن میں نے جتنی دانش اور عقل اپنے والد محترم سے سیکھی۔ اتنی بڑے بڑے دانشوروں اور عقل رکھنے والوں سے نہیں سیکھی۔ وہ ایک بڑی ویژڈم کے لوگ تھے۔ اگر آج اپنے والد کے کردار پر لکھنا چاہوں تو بیسویوں کتابیں لکھ سکتا ہوں اور ان کے پڑھے لکھے نہ ہونے سے مجھے اشفاق احمد کی ایک بات یاد آجاتی ہے کہ اس ملک کو جتنا بڑا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا اتنا اَن پڑھ لوگوں نے نہیں پہنچایا۔ میں جب اپنے اندر جھانک کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے والد کی گذری زندگی کے اصول، عادات اور جس طرح ان کے رویے تھے اور جس طرح انہوں نے ہماری تربیت کی اور انہوں نے لوگوں کے ساتھ عزت ومحبت کے ساتھ پیش آنا سکھایا اور وہ ایک بات اشفاق احمد صاحب کی طرح زور دے کر کہتے کہ اللہ پاک آپ کو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنادے۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جو میری زندگی کو نکھارنے سنوارنے اور میرے اندر کی کمزوریوں کو دور کرنے میں میرے مددگار ہوتے ہیں۔

س:والد محترم کیا کرتے تھے؟

ج:کپڑے کے تاجر تھے، لوہاری کے اندر ان کا ایک بڑا کاروبار تھا اور بہت محنتی اور باکردار انسان تھے۔ ان کی ایک خاص بات کہ انہوں نے میری دادی اور دادا کی اس قدر خدمت کی شاید خداتعالیٰ نے ان کو اسی لیے بہت عزت سے نوازا اور میں آج جس مقام پر بھی ہوں اُنہی کی خدمات اور دعائوں کے صدقے سے سب کچھ ملا ہے۔

س:ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج:رنگ محل مشن سکول میری ابتدائی درسگاہ تھی۔ آٹھویں کے بعد گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول لوئرمال سے میٹرک کیا۔ پھر گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کی۔ وہاں سے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کی ڈگری لی۔ 1994ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اسی دوران ایف سی کالج لاہور میں بطور لیکچرار میری ملازمت کا آغاز ہوا۔ میں یہاں ایک بات کہوں گا کہ تعلیم تو انسان مکمل کر ہی لیتا ہے مگر اصل بات ’’علم‘‘ ہے۔ علم کا لفظ معلوم کرنے سے نکلا ہے اور یہ ایسا سلسلہ ہے جو قبرتک جاری وساری رہتا ہے لہٰذا علم کے حصول کے لیے اب تک تگ ودو کررہا ہوں۔

س:صحافت کی ڈگری 1994ء میں حاصل کرنے کے بعد کب اس دشت میں قدم رکھا؟

ج:صحافت میں تو اسی وقت آگیا تھا جب میں نے پنجاب یونیورسٹی میں صحافت کے کلاس روم میں پہلا قدم رکھا اور 2001ء پاکستان کے نامور شخصیت اصغر ندیم سید سے میری بہت محبت وپیار تھا۔ ان دنوں کا ایک ڈرامہ ’’ہوائیں‘‘ پی ٹی وی پر چل رہا تھا اور یہ ڈرامہ بھابھی فرزانہ ندیم سید نے تحریر کیا جو اس دور کی بہت مقبول ڈرامہ سیریل تھی۔ ان دنوں اصغر ندیم سید ملک سے باہر تھے۔ ایک دن فرزانہ بھابھی ہمارے گھر تشریف لائیں، بہت دیر تک میری بیگم اور والدین کے ساتھ بہت خوبصورت ماحول میں باتیں ہوئیں۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ کل گائنی کے سلسلے میں میری سرجری ہے آپ لوگ میرے لیے دعا کریں۔ اگلے روز سرجری سے پہلے انستھیزیا زیادہ مقدار میں دینے سے اُن کا انتقال ہو گیا۔ ہمارے لیے یہ خبر نہیں ایک سانحہ اور المیہ تھا۔ اسی غم کی کیفیت میں اُن کے بارے میں چند الفاظ لکھ ڈالے۔ انہی دنوں مجیب الرحمن شامی صاحب سے احترام ومحبت کا ایک سفر شروع ہوچکا تھا۔ وہ اب پختگی میںبدل چکا ہے۔ یوں یہ تحریر میں نے ان کو بھجوا دی۔ انہوں نے میری تحریر کے بارے مجھے فون کیا، مجھے کہا کہ ’’آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ ہم آپ کی تحریر کو ایک کالم کے طور پر شائع کررہے ہیں‘‘۔ پھر انہوں نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے صفحہ اول پر تصویر کے ساتھ اعلان بھی لگوا دیا کہ توفیق بٹ آج سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے لیے لکھا کریں گے۔ حیرانی اور خوشی کے لمحات میں اتنی حوصلہ افزائی نے میرے راستے کھول دیئے۔ دیکھا جائے تو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے ہی میری صحافتی زندگی کا آغاز ہے۔ یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ پہلے کالم کی اشاعت پر مجھے اشفاق احمد صاحب کا فون آیا اور کہا کہ …

’’کاکا توں تے بڑا ودیا لکھ لینا ایں

ہن ایس سلسلے نوں جاری رکھیں‘‘

اس سے پہلے کا ذکر کروں تو ہم نے ’’ہم سخن ساتھی‘‘ کے نام سے ایک ادارہ گورنمنٹ کالج میں بنایا۔ اصل میں یہ ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم،جس میں بڑے رائٹرز شامل تھے۔ اس تنظیم کے بارے میں سید ضمیر جعفری صاحب نے  ہفت روزہ ’’فیملی‘‘ کے پہلے شمارے میں لکھا کہ ’’یوں محسوس ہوتا ہے ملک میں صرف تین ہی قوتیں کام کررہی ہیں ایک نواز شریف کی مسلم لیگ، دوسری بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی اور ایک توفیق بٹ کی ہم سخن ساتھی‘‘۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ’’ہم سخن ساتھی‘‘ کو اللہ پاک کے فضل وکرم سے ایک بہت بڑا علمی، ادبی وثقافتی ادارہ بنادیا تھا۔

س:’’حسب توفیق‘‘ کو توفیق بٹ سے کیسے منسلک کیا؟

ج:نامور شاعر مشتاق احمد یوسفی صاحب کے اعزاز میں، میں نے ایک تقریب منعقد کی۔ جب ان کو ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ ملا وہ لاہور تشریف لائے تھے۔ تقریب کے دوران انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا جب بھی کوئی کتاب، کالم، تحریر یا مضمون لکھو تو اس کو ’’حسب توفیق‘‘ کے نام سے لکھنا۔ کوشش کرتا ہوں کہ ایک بڑے نام کی طرف سے ملنے والے اس اعزاز کو زندگی کے آخری لمحات تک جاری رکھوں۔

س:کیا سچ لکھنا ایک دلیری ہے؟

ج:سچ لکھنا کوئی دلیری اور بہادری نہیں ہے جب ہمارا دین ہمیں سچ بولنے کی تلقین کرتا ہے اور جھوٹ کو آپﷺ نے برائیوں کی ماں کہا ہے تو میرے نزدیک یہ کوئی دلیری نہیں روٹین میٹر ہے۔

س:صحافت میں پہلے چیف ایڈیٹر اور پہلے استاد؟

ج:میرے پہلے چیف ایڈیٹر اور پہلے استاد بھی مجیب الرحمن شامی ہیں اور یہی بات میرے لیے باعث فخر اور مقام اعزاز ہے۔ صحافت میں جو اعتدال پسندی، نظریاتی اور متوازن چیزیں سکھائیں اس میدان میں چلنا سکھایا اب میں ایک نکما سا آدمی ہوں سیکھ پایا یا نہیں یہ میرے قارئین ہی بتاسکتے ہیں۔

س:پہلی تنخواہ جو صحافت کی نوکری کرتے ہوئے ملی؟

ج:ابتدائی طور پر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں لکھتے وقت اندازہ نہیں تھا کہ لکھنے کے پیسے بھی ملتے ہیں۔ ایک دن شامی صاحب نے مجھے بلایا کہ آپ کے کالم اب پڑھے جارہے ہیں لہٰذا آج سے ہم آپ کا اعزازیہ شروع کررہے ہیں۔ پھر عمر شامی صاحب سے کہا کہ ان کی تنخواہ بھی مقرر کردیں لہٰذا میری پہلی تنخواہ 10ہزار روپے مقرر ہوئی تھی۔

س:زیادہ کام کس اخبار میں کیا؟

ج:یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے سب سے زیادہ کام ’’نئی بات‘‘ ہی میں کیا ہے۔ جب میں ’’نوائے وقت‘‘ میں لکھ رہا تھا تو ایک دن مجھے مجید نظامی صاحب نے کہا کہ آج کے بعد آپ نے عمران خان کے بارے میں نہ حق اور نہ مخالفت میں ایک فقرہ بھی نہیں لکھنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا کہ اس کے حق میں تو بالکل نہیں لکھنا۔ میرا چونکہ عمران خان کے ساتھ ایک ذاتی اور پُرانا تعلق تھا دوسرا ان دنوں میرے کالموں کا رُخ پاکستان میں دو خاندانی اقتدار اور اس کی سیاست کے خاتمے کی طرف زور پکڑرہا تھا اور انہی دنوں عمران خان نے پاکستان کے عوام کو ’’نئے پاکستان‘‘ کا نعرہ بھی دیا۔ اس وقت تو وہ ہمارے لیے سہانہ خواب لگا لہٰذا نئی اُمید میں عمران خان کے حق میں زیادہ لکھا جانے لگا لہٰذا میں نے مجید نظامی صاحب کے پی اے کے ذریعے ان تک یہ پیغام بھیجا کہ ’’حکم صرف اللہ کا ہی چلے گا‘‘ پھر نظامی صاحب کو 14صفحات پر مشتمل ایک خط لکھ ڈالا۔ اس میں تین سالہ نوائے وقت کی رفاقت میں جو گلے شکوے اور نوائے وقت ہی میں مجھے لکھنے لکھانے پر اذیت ملی یعنی لکھنے پر دبائو ڈالے جانے کے واقعات تک لکھ ڈالے اور اخبار کو خیرباد کہہ دیا۔ انہی دنوں ’’نئی بات‘‘ بڑے ڈنکے کی چوٹ پر صحافت کے اُفق پر نمودار ہوا اور اس کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے میرے ایک دوست مبین رشید جو نوائے وقت سے یہاں ڈیرے ڈال چکے تھے، انہوں نے چوہدری پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کی طرف سے پیغام لائے کہ میں ’’نئی بات‘‘کے لیے لکھا کروں۔ پھر ایک محبت بھری ملاقات میں یہ پہلے بات طے ہوئی کہ جو میں لکھوں گا وہ یہاں چھپے گا تو میں ’’نئی بات‘‘ جوائن کرنے کے لیے تیار ہوں اور ان کا یہ کہنا کہ اگر کوئی فقرہ ہماری پالیسی کے متصادم ہوا تو ہم آپ سے مشورہ کرلیا کریں گے الحمدللہ مجھے روزنامہ ’’نئی بات‘‘ میں لکھتے ہوئے 8سال ہوچکے ہیں اس سے منسلک ہوئے اور مطمئن ہوں کہ میں یہاں جو لکھتا ہوں وہ یہاں شائع ہو جاتا ہے۔

س:کیا آپ کے لکھے پر دبائو آتے ہیں؟

ج: ’’نئی بات‘‘ میں ایک بار میرے کالموں پر بہت دبائو آیا تھا تو چوہدری صاحب نے فون پر کہا کہ کچھ اس طرح کا سلسلہ جاری رکھیں کہ کالم بھی نہ رُکے اور ہم پر دبائو بھی نہ آئے، بہت خوشگوار موڈ میں انہوں نے اظہار کیا۔ دیکھیں سچ کبھی بھی حکمرانوں کو ہضم نہیں ہوتا چاہے وہ فوجی اور سیاسی حکمران ہی کیوں نہ ہوں لہٰذا ان کی طرف سے مختلف اقسام کے دبائو آتے ہیں اور میں تو 2001ء سے دبائو ہی کا سامنا کررہا ہوں اور اگر میرے دل کی بات پوچھیں تو سچ لکھنے والوں کو اس کی قیمت چکانا ہی پڑتی ہے۔ اس جھوٹے، منافقت اور دوغلے معاشرے میں جو ہم جیسے لوگ چکا رہے ہیں۔

س:بہترین صحافت کہاں کی؟

ج:اس کا کریڈٹ بھی ’’نئی بات‘‘ ہی کو دوں گا کہ یہاں مجھے مالکان کی طرف سے بہت کم دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔

س:آپ صحافت کے علاوہ تدریسی شعبہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں، دونوں میں بہتر چوائس؟

ج:بہتر چوائس تو پڑھانا ہے کہ میں صحافت پڑھاتا ہوں، اخبار کے کسی شعبے میں کام نہیں کرتا، کالم نگاری کرتا ہوں۔

س:زیادہ کس سے متاثر ہوئے؟

ج: سچ لکھنے کا جو صحیح معیار ہوتا ہے وہ بہت کم اور بڑے کالم نگاروں کا مقدر بنا،  موجودہ دور میں میرے سمیت شاید ہی کوئی کالم نویس اس کے معیار پر پورا اُتر رہا ہو۔ بنیادی طور پر یہ معاشرہ دوسروں کو درست کرنا چاہتا ہے اور وہ خود ٹھیک ہونے کی طرف نہیں جانا چاہتا، اس میں ہم سب لکھنے والے شامل ہیں۔ مجھے ایک دفعہ بڑے کالم نگار نے کہا یار ہم کتنا کچھ لکھتے ہیں یہ بتائو لوگوں پر اس کا اتنا اثر کیوں نہیں ہورہا تو میں نے کہا کہ ہماری باتوں کا ہم پر اثر نہیں ہوتا تو لوگوں پر کیسے ہو گا اور یہ بھی دیکھیں کہ جب ہماری تحریریں ہمارے کردار کے برعکس ہوں گی تو لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کون کہاں سے بول رہا ہے کس کے کہنے پر لکھ رہا ہے۔ ہم اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے اوروں کی رائے کو اپنے کالم کا حصہ بنا جاتے ہیں۔ ہمارے کالم میں کیا ہوتا ہے کہ دوسروں کے حکم اور ہدایات سے ہی کالموں کو بھرتے ہیں ہمارے پاس اپنا لکھنے کے لیے تو رہا ہی کچھ نہیں، کبھی دور ہوا کرتے تھے جب دل سے اور خود سے لکھا کرتے تھے۔

س:کس حکمران کے دور میں بحیثیت کالم نگار آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج:ہر دور میں مشکلات کا سامنا ہوا۔ بس خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کے فیصلوں کے نتیجے میں جب مجھے سچ لکھتے وقت مشکل آتی تو خدا تعالیٰ نے میری بہت مدد کی اور بعض اوقات تو بدترین کوششوں کے بعد میں قائم دائم رہا۔ میرے اندر اور ہمت بڑھی اور حالات میرے حق میں ہوتے گئے۔ اگر اس داستان کے پرت کھولوں تو پھر بات بہت آگے چلی جائے گی۔ اگر زندگی نے وفا کی تو میں ’’مجھے ہے حکم اذاں‘‘ کے عنوان سے کتاب میں بہت سے بھید کھولوں گا۔ اس میں میرے اپنے لوگ بھی شامل ہیں کہ کس کس نے چھوٹی ذہنیت کے ساتھ کس کس طرح چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا۔

س:ادوار کے حوالے سے کس کے دور میں مشکل صحافت رہی؟

ج:دور کوئی بھی نہ مشکل اور نہ آسان ہوتا ہے۔ باقیات کا ایک طویل سلسلہ داستان ہے۔ اگر میری رائے لیں تو زرداری کے دور میں بہت کم مشکلات کا سامنا ہوا۔ میں نے بہت کالم ان کے خلاف لکھے اور جب وہ ملاقات کے لیے بلاتے تو دوستوں کی طرح بات کرتے۔ وہ واحد حکمران تھے جن کو اپنی مخالفت میں لکھی تحریروں کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی، ان کاایک ہی جواب آتا تھا کہ ہم نے آپ کو اپنا دوست بنانا ہے۔

س:کس حکمران کو بہترین تصور اور کامیاب گردانتے ہیں؟

ج:کم ازکم میں نے ایک بہترین حکمران کا جو معیار مقرر کررکھا ہے اس پر سوائے قائداعظمؒ کے آج تک کوئی لیڈر پورا نہیں اُترا۔ اگر سیاسی فہم وفراست اور عقل کے حوالے سے بات کروں تو پھر آصف علی زرداری سب سے بہتر ہے۔ جس طرح انہوں نے اپنی سیاست کو آگے بڑھایا۔ سیاست کو نئی طرح کی زندگی دی یہ انہی کا خاصا ہے، یہاں جاوید ہاشمی کا فقرہ یاد آرہا ہے کہ ’’زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی ضروری ہے‘‘۔

س:حکمران میں کس کا دور بُرا اور اچھا رہا؟

ج:بزرگوں سے یہی سنتے آرہے ہیں کہ بابے ایوب خان کا دور بہت اچھا تھا مگر ہم نے جو دور دیکھا جس کے ہم گواہ ہیں وہ مشرف کا دور ہے۔ اُس دور میں کون سا شعبہ ہے جس نے ترقی نہ کی ہو۔ سب سے بڑی بات پاکستان میں میڈیا کو بہت زیادہ ترقی ملی، کہاں ایک پی ٹی وی ہوتا تھا، اب کہاں پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوگئی، اگر ان کے دور کے تلخ واقعات کا ذکر کروں تو لال مسجد، چوہدری افتخار اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے میڈیا نے ان کے خلاف جو کردار ادا کیا، اس کے باوجود وہ باہمت پائے گئے کہ اُن کے سیاسی اور فوجی حوالوں سے کیے گئے فیصلوں کو تاریخ میں بُرا لکھا جائے گا مگر اداروں کے حوالے سے شاندار ترقی انہی کے دور میں ہوئی۔

س:آغا شورش کاشمیری، فیض احمد فیض، نثار عثمانی، میر خلیل الرحمن، ظہور عالم شہید اور زیڈ اے سلہری صاحب سمیت بڑے نام صحافت کے بڑے اساتذہ رہے اور ہمارے یہی سکول آف تھاٹ بھی تھے، ان کے جانے کے بعد ان جیسا کوئی اور نہ آسکا کیا وجہ بنی؟

ج:ان ناموں میں آپ ارشاد احمد حقانی کا نام مس کر گئے۔ انہوں نے بھی سنجیدہ اور باوقار صحافت کو نئی زندگی دی۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے، یہ ہماری بدقسمتی رہی کہ اگر یہ کہوں کہ ہماری محرومی ہے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس طرح کے صحافی اور بڑے ادیب اور معزز لکھنے والے ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اب تو ہر طرف جھوٹ اور منافقت کا راج ہے اور وہ لوگ اس راج کے مخالف ترین لوگ تھے اور نہ ان کو کوئی خرید سکا۔ ان کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ صحافت کے علمبردار ہی نہیں بلکہ وہ اس کا مان تھے تو بے جا نہ ہو گا اور اس سے بڑی بدقسمتی یہ کہ آج کی صحافت کے بہت سے ٹھیکیدار تو ان کے کردار تو بہت دور کی بات ان کے عظیم ناموں سے بھی واقف نہیں ہیں۔

س:کس دور میں صحافت کو عزت نصیب ہوئی؟

ج:جب تک مولانا ظفر علی خان، آغا شورش کاشمیری، احمد بشیر، نثار عثمانی، منہاج برنا، مہرخلیل الرحمن، حمید نظامی، ظہور عالم شہید، ارشاد حقانی، زیڈ اے سلہری بڑے باوقار اور سچ لکھنے والے لوگ تھے، بس وہی دور تھا عزت اور لفظ کا رکھوالا وقت، پھر جس طرح دوسرے شعبہ جات ہماری اخلاقی پستی کا شکار ہوئے تو اس میں صحافت کو بھی رنگ دیا گیا۔ اب تو صحافت کے وہ بڑے بھی نہیں رہے جو اس کو درست کرسکیں۔ صحافت آج کہاں کھڑی ہے اور کس نے اس کو سرراہ ننگا کیا، اس کے لباس تک کو اُتار دیا۔ اس سانحہ پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔

س:کس دور میں صحافت خراب ہونا شروع ہوئی؟

ج:مجھے یوں لگتا ہے کہ 85ء کے بعد صحافت میں کرپشن کا آغاز ہوا اور اخلاقی لحاظ کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا جس طرح 70ء کی دہائی سے پہلے سیاست میں اتنی کرپشن نہیں تھی اور سیاست سے اس کی بنیادوں میں زہر بھرنا شروع ہوا۔ طمع اور حرص اس کی تباہی کی بڑی اور بنیادی وجہ بنی، اب پتہ نہیں ہم قوم ہیں یا نہیں بحیثیت ہجوم جائز ناجائز طریقوں کو جس طرح رواج دیئے گئے اس کے بہت حد تک ذمہ دار شریف برادران ہیں۔

س:کیا پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے پرنٹ میڈیا پیچھے چلا گیا ہے یا یہ زوال پذیر ہے؟

ج:میرے نزدیک پاکستان ان بدقسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پڑھنے کے رُجحانات ہمیشہ بہت کم رہے۔ دوسرے ممالک میں امن کا ماحول زیادہ ہے، وہ لوگ پڑھائی کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں کتاب اور اخبار زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں اور اس میں رہتے ہوئے وہ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ ان کے مسائل بہت محدود ہوتے ہیں اور وقت زیادہ ہوتا ہے۔ اب یورپ میں الیکٹرانک میڈیا کا بہت بڑا جال پھیلا ہوا ہے اس کے باوجود وہاں پرنٹ میڈیا کو اتنا فرق نہیں پڑا جتنا ہمارے ہاں دیکھا جارہا ہے۔ اگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پرنٹ میڈیا فارغ ہوگیا ہے تو ایسی بات بھی نہیں، کچھ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ لوگوں کو آج بھی اخبار کی طلب رہتی ہے۔ پُرانے لوگ آج بھی اخبار ہی سے استفادہ کرتے ہیں اور اگر ذرا آگے بڑھ کر بات کروں تو آج آپ کا الیکٹرانک میڈیا کس قدر جدید دور میں داخل ہوچکا ہے اس کے باوجود پوری دُنیا سے ریفرنس پرنٹ میڈیا ہی سے آتا ہے۔ آپ کی تحقیقی رپورٹنگ اخبار ہی میں نظر آتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا جب بھی کسی ریفرنس کا حوالہ دیتا ہے تو وہ تحریر یا اخبار ہی کی بات کرتا ہے۔ جب بھی کوئی بڑی شخصیت بات کرتی ہے تو وہ کسی آرٹیکل کا ریفرنس ہی دیتی ہے۔

س:کیا سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے آنے سے الیکٹرانک میڈیا پیچھے کی طرف چلا جائے گا؟

ج:سوشل میڈیا نہ صرف آگے بڑھ چکا ہے بلکہ اس نے ابھی اور آگے جانا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا کو کھا جائے گا۔ دیکھیں سوائے ہمارے پوری دُنیا ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اب تو وہاں مزید جہتیں نظر آرہی ہیں البتہ ایک بات ہے کہ اب زندگی میں ایک عجیب بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ کیا دیکھیں کیا نہ دیکھیں ،الزامات، گند، بکواس قسم کے پیغامات، گھٹیا تصاویر، نجانے اور کیا کیا یہ نسلیں دیکھ رہی ہیں۔ اس میں ہر طرف ایک قسم کی آلودگی ہے۔ کچھ پتہ نہیں کیا چل رہا ہے، کوئی مکا مارہا ہے، کوئی بداخلاقیاں کررہا ہے، اس سارے ماحول میں ایک بے سکونی سی پیدا ہو گئی ہے۔

س:کیا اس الیکٹرانک میڈیا کی بچگانہ حرکتیں جاری ہیں اور اس کو کب تک میچور ہوتا دیکھ رہے ہیں؟

ج:اگر اسی طرح بدنیت اور بددیانت حکمران ہم پر مسلط ہوتے رہے یا ہم نے خود پر انہیں مسلط ہونے کی اجازت دے دی تو پھر خرابیاں اور بڑھیں گی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اتنے غلیظ سسٹم میں میچور ہو بھی پائے گا کہ نہیں، البتہ اس کو اب تک میچور ہو جانا چاہیے تھا اور آج جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے کم ازکم میں اس سسٹم کا حصہ نہیں ہوں، پیسہ ضرور کمائیں مگر ہماری روایات اور خاندانی عزتوں کو تو نہ لوٹیں۔ اب میڈیا جس انداز سے معاشرے کی تربیت کر رہاہے اس سے تو لگتا ہے کہ آنے والے دس سالوں میں یہ اور بچگانہ حرکتیں کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہماری صحافت کے بڑوں کو یہ سلسلہ روکنے کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

٭…٭…٭


ای پیپر