Fearless and fearless Jinnah
30 نومبر 2020 (22:19) 2020-11-30

جناح کا دل ودماغ ہمیشہ اپنے وطن کا اسیررہا...راستے جدا ہوئے  (قسط نمبر2)

جنہوں نے انتھک محنت سے مسلم عوام کو بیدار کیا اور زمینداروں کو اپنی اور عوام کی پیروی پر مجبورکیا

اعتزاز احسن

ہندو کے مقابلے میں مسلمانوں نے بہت سی خامیاں وراثت میں پائیں۔ مثال کے طور پر یہی کہ گاندھی اور نہر و خاندان نے جس پائے کی قیادت ہندوئوں کو فراہم کی، مسلمان ایسی مخلص اور جرأت مند قیادت سے محروم رہے تھے مگر کب تک؟

بالآخر صدی کی تیسری دہائی میں بمبئی کے وکیل محمد علی جناحؒ کی شکل میں ایسی قیادت بھی میسر آگئی لیکن ابھی قوم اور اس کے لیڈر کے درمیان ایک توانا اور مضبوط تعلق استوار ہونے میں کچھ وقت درکار تھا۔ اس مرحلے پر مسلم بورژوازی طبقے کے فروغ اور ترقی کی راہ میں ایک اور رکاوٹ بھی حائل تھی۔ وہ ابھی تک زراعت اور دیہات پر تکیہ کیے ہوئے تھے اور ان کا بیوپار قصباتی منڈیوں اور مضافاتی شہروں تک محدود تھا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلم بورژوا افراد کی اکثریت استاد، صحافی اور وکلاء پر ہی مشتمل تھی اور موثر کارکردگی کے لیے انہیں جاگیردار کے تعاون کی ضرورت تھی کیونکہ مسلم اکثریت کے دیہی علاقے جاگیرداروں ہی کے زیراثر تھے۔ وہ اپنے علاقے میں امن وامان قائم رکھنے کے ذمہ دار بھی تھے اور کسان سے فاضل پیداوار کے حصول میں صرف وہی سرکار سے معاونت کرسکتے تھے۔ نوزائیدہ مسلم بورژوازی کے لیے زمیندار کا تعاون ناگزیر تھا اور صدی کی چوتھی دہائی میں یہی تعاون، جہالت کے خلاف قومی جذبے سے سرشار علی گڑھ کے پُرجوش طلباء کے لیے پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے اور سندھ کے وسیع علاقوں تک رسائی کا ذریعہ بنا۔ یہی طلباء مسلم بورژوازی کا ہراول دستہ تھے۔

لیکن مسلم لیگ کو عوامی مقبولیت اور سیاسی قوت حاصل ہونے تک زمیندار مسلم لیگ اور بعدازاں تحریک پاکستان کی حمایت پر آمادہ نہیں ہوسکتا تھا۔ مسلم لیگ ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتی تو زمیندار اور جاگیردار بھی ساتھ چل پڑتا مگر زمیندار کی حمایت کے بغیر مسلم اکثریتی علاقوں میں مقبولیت کس طرح حاصل کی جائے؟ یہ عقدہ حل طلب تھا۔

اب مشکل یہ تھی کہ وادی سندھ میں عوامی حمایت کے حصول کی خاطر لیگ کو جاگیردار کی اعانت درکار تھی لیکن جاگیردار اس وقت تک تعاون پر آمادہ نہ تھا جب تک کہ مسلم لیگ اپنی عوامی مقبولیت ثابت نہ کردیتی۔ یہ ایک مکمل اور بے ڈھب الجھائو تھا جس کے سلجھنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔

یہ مسئلہ بالآخر حل تو ہوا لیکن زمیندار یا مسلم عوام کی مثبت پیش رفت اس کا وسیلہ نہیں بنی۔ اس الجھائو کو محمد علی جناح کے عزم، استقامت اور مقصد کے حصول میں ان کی یکسوئی نے سلجھایا، وہ مقصد جسے مسلم لیگ نے اپنایا تھا اسے لے کر جناح، جاگیرداروں سے بالا ہی بالا عوام تک پہنچے، اپنی انتھک محنت اور لگن سے مسلم عوام کو بیدار کیا اور آخرکار زمینداروں کو بھی اپنی اور عوام کی پیروی پر مجبور کردیا۔

بے باک اور نڈر جناح

آنریبل سوسائٹی آف لنکنز اِن (Lincoln's Inn) کے بار ایٹ لاء جناب ایم اے جناح اب تک معاشرے میں اپنی ساکھ اور اپنا مقام بنا چکے تھے۔ ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں شاندار کارکردگی اور اصول پرستی ان کی شہرت کا سبب بنی۔ ان کی تقاریر جرأت مندانہ تھیں اور ان میں ابہام نام کو بھی نہ تھا۔ ان کا شمار لندن کے انتہائی کامیاب وکلاء میں ہوتا تھا لیکن وہاں رہتے ہوئے جب کبھی برصغیر کے وسیع تر عوامی مفاد کی بات نکلی تو اپنے قول وفعل میں انہوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ جناح کا دل ودماغ، اپنے وطن کا اسیر تھا۔

محمد علی جناح نے ان گنت اثر انگیز تقاریر کیں۔ ان بے باک تقاریر میں جناب جناح نے ریاست، سیاست اور مذہب کے بہت سے پہلوئوں پر روشنی ڈالی اور اپنے نظریات کو واضح کیا۔ آپ نے سیاسی قیدیوں کے معتوبین کے لیے بھی جدوجہد کی، ان کی وکالت کی اور ان کے حق میں آواز اُٹھائی۔ انہی تقاریر اور مقدمات نے مسٹر جناح کو وہ عوامی حمایت مہیا کی جس نے انہیں قائداعظمؒ تسلیم کروایا، پھر بھی افسوس ہے مسٹرجناح کی سوانح لکھنے والے اکثر کہنہ مشق مصنفین اور مورخین ان کی زندگی کے اس اہم ترین پہلو کو نظرانداز کر جاتے ہیں۔

مسٹرجناح کی ان تقاریر میں پریس کے کردار پر جے ایس کھاپرد کی طرف سے 1918ء میں پیش کی گئی قرارداد اور اسی سال بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ پر ان کی تقاریر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 1919ء میں بمبئی کرانیکل کے ایڈیٹر مسٹر بی جی ہورینمن (B.G. Horniman) کے دفاع میں مسٹرجناح نے گویا اپنی زندگی کا نچوڑ پیش کردیا۔

’’جناب والا! میں ان لوگوں میں سے نہیں جو جرم اور غلط کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن مجھے یہ دعویٰ ضرور ہے کہ میں نے آئین کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی آئینی ضابطے میں شخصی آزادی سب سے زیادہ مقدم چیز ہے جسے اس انداز میں چھینا نہیں جانا چاہیے‘‘۔

1924ء میں دیوان بہادر ٹی رنگا چریئر (T. Rangachariar) نے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کی جس میں ہندوستان کے لیے مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس موضوع پر مسٹرجناح کی تقریر انتہائی پُراثر تھی۔ 1926ء میں انہوں نے آئینی اصلاحات کا دائرہ کار شمال مغربی سرحدی صوبے تک بڑھانے کی حمایت میں ایک اور بامعنی اور پُرمغز تقریر کی۔

ستمبر 1929ء میں چند پنجابی قیدیوں پر سلطنت برطانیہ کے خلاف ہتھیار اُٹھانے کا الزام تھا۔ انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کردی تھی، اس لیے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ مسٹرجناح قیدیوں کی عدم موجودگی میں مقدمے کی کارروائی پر سخت برہم ہوئے خواہ ایسی عدم موجودگی مقدمے کے کتنے ہی مختصر عرصے کے لیے کیوں نہ ہو۔ اسی سال انہوں نے ساردا بِل (Sarda Bill) پر بہت مفصل اور مدلل تقریر کی جس کے بارے میں بعد میں بات ہو گی۔

جناح کی حریت پسندی اور اصولوں کے معاملے ان کی بے لچک فطرت کے حوالے سے ان کی دو تقاریر خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ ایک تقریر تو 1918ء میں رولٹ کمیٹی کی رپورٹ پر اور دوسری سیاسی قیدیوں کے حوالے سے 1930ء میں کی گئی۔

وزیرداخلہ سیڈیشن کمیٹی Sedition Committee یعنی برطانوی حکومت کے خلاف سازشوں کی سرزنش کے لیے قانون تجویز کرنے والی کمیٹی کی صدارت کے لے جسٹس رولٹ کے تقرر کی وضاحت پہلے ہی کرچکا تھا۔ وزیرداخلہ کہہ چکا تھا کہ ’’اس تقرری کے موقع پر ہندوستان کی حکومت کو یہ صورتحال درپیش تھی کہ ہمیں ایک وسیع تر سازش کے وجود کا علم تھا جو ہندوستان اور اس کی سرحدوں سے پرے تک پھیلی ہوئی تھی اور جس کا مقصد برطانوی حکومت کا تختہ اُلٹنا تھا۔ میرا اشارہ محض ان کھلی سرگرمیوں کی طرف نہیں ہے جس کی مثالیں سنگاپور، پنجاب اور کئی دوسری جگہوں کے علاوہ منگال میں جاری انقلابی شورش میں ملتی ہیں بلکہ میں ان زیرزمین سرگرمیوں کا حوالہ بھی دینا چاہتا ہوں جس کی جڑیں پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کے ذریعے سلطنت برطانیہ کے وفاداروں کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی گئی‘‘۔

کمیٹی کی رپورٹ میں کڑی قانون سازی اور انتظامیہ کو وسیع تر اختیارات تفویض کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ کونسل کے ایک رکن نے قرارداد پیش کی جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ اس رپورٹ کو فی الحال التواء میں رکھا جائے اور اس دوران کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے طریقہ کار کے بارے میں ایک اور تشویش کا آغاز کیا جائے۔

مجوزہ اقدامات کے بارے میں مسٹرجناح کے نظریات بہت واضح تھے۔

’’مائی لارڈ! ہر اس شخص کے لیے جو قانون اور انصاف پر یقین رکھتا ہے یہ اقدامات انتہائی تکلیف دہ اور گھنائونے ہیں۔ آپ کے نقطہ نظر سے یہ اقدامات بہت موثر ہوں گے، ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن بے گناہ شخص کی دادرسی کیسے ہو گی؟ پھر آپ کہیں گے، کیا تمہیں انتظامیہ پر بھروسہ نہیں؟ میرا جواب ہو گا کہ ہاں مجھے انتظامیہ پر قطعاً بھروسہ نہیں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کون سی رولٹ کمیٹی کیا تجویز کرتی ہے اور کیا فیصلہ دیتی ہے؟ میں تو اس حقیقت پر ایمان رکھتا ہوں کہ مناسب عدالتی تحقیق کے بغیر ایک منٹ کے لیے بھی کسی شخص کی آزادی سلب نہیں کی جانی چاہیے۔ یہ عوام کی آزادی اور شہری کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ زنی ہے۔ مائی لارڈ! میں یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہو کر برملا کہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو غیرجانبدار اور انصاف پسند ہے، عوام کی آزادی اور خودمختاری پر یقین رکھتا ہے ایسے اقدامات کی توثیق نہیں کرسکتا‘‘۔

جناح اپنے قول کے سچے تھے جب شاہی مجلس قانون ساز نے رولٹ تجاویز کی منظوری دی تو وہ اس کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔

نوجوان بھگت سنگھ نہ تو محمد علی جناح کا پیروکار تھا اور نہ ہی ان کا حامی۔ وہ تو سرے سے اس طرز سیاست کے خلاف تھا۔ لاہور سازش کیس کے تحت دہشت گردی کے الزام میں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں پر مقدمہ چلایا جارہا تھا۔ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان لوگوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کردی۔ ان کا حوصلہ توڑنے کے لیے حکومت نے انہیں ٹریبونل کے سامنے پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ ہی ملزمان کی عدم موجودگی میں مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کوڈ آف کریمنل پروسیجر یعنی ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بِل بھی پیش کردیا ہے۔ محمد علی جناحؒ نے پُرزور انداز میں بِل کی مخالفت کی۔

’’جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے وہ تو محض ایک ٹریبونل میں مقدمہ چلا کر قیدیوں کو سزا دلوانے کی خواہاں نہیں بلکہ ان کے ساتھ آمادہ جنگ ہے۔ اس حکومت نے دراصل یہ تہیہ کررکھا ہے کہ ہم تمہیں پھانسی دلوانے یا عمر بھر کے لیے جلاوطنی کی سزا دلانے کی خاطر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اور اس دوران تمہارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک بھی روا نہیں رکھا جائے گا‘‘۔

نڈر اور بے خوف مسٹر جناح اس بات پر مصر رہے کہ برطانوی حکومت کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے باوجود یہ لوگ سیاسی قیدی ہیں۔ اگرچہ بھگت سنگھ کو قانون ساز اسمبلی پر بم پھینکنے کے الزام میں سزا سنائی جاچکی تھی لیکن جناح اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اپنے دلائل میں انہوں نے کہا ’’جہاں تک لاہور سازش کیس کے نامزد ملزموں کا تعلق ہے تو وہ ہر لحاظ سے سیاسی قیدی ہیں۔ آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ سیاسی قیدی کسے کہتے ہیں؟ سیاسی قیدی کی کوئی واضح اور مخصوص تعریف بیان کرنا دقت طلب ہے لیکن اگر آپ اپنی عقل استعمال کریں، اپنی ذہانت بروئے کار لائیں تو وقوعہ کے حوالے سے آپ یقینا کسی ایک نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ 

آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ لوگ جان دینے پر تُلے رہتے ہیں اور یہ بات کوئی مذاق نہیں۔ میں معزز وزیر قانون سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ ہر کس وناکس، بھوک پیاس کے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاک کرنے پر آمادہ نہیں ہوا کرتا۔ بھوک ہڑتال کرنے والے کا ضمیر بھی ہوتا ہے اور یہی ضمیر اس کے انتہائی اقدام کا محرک ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنے مقصد کی سچائی پر یقین ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭


ای پیپر