How did Asif Zardari's Samdhi Bakhtawar Bhutto's father-in-law become a billionaire?
30 نومبر 2020 (22:05) 2020-11-30

بختاور بھٹو کی منگنی امریکہ میں مقیم کاروباری شخص محمد یونس چوہدری کے صاحبزادے محمودچودھری سے ...

۔رم۔

کائنات کی خوبصورتی کا رنگ اگر دیکھنا ہو توباپ اور بیٹی کے رشتے کو دیکھ لیں جس میں نظر آئے گا کہ باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ ہے،ماں سے زیادہ بیٹی کا باپ سے ریلیشن ہوتا ہے کہتے ہیں کہ بیٹی پرایا دھن ہے اور اس نے ایک دن پرایا ہونا ہوتا ہے اور پھر ایک روزڈولی میں بیٹھ کر وہ پیا گھر سدھار جاتی ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے لیکن اکثر کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں بیٹی نہیں اس گھر میں رحمت نہیں اور یہ اللہ سوہنے کا نظام ہے کہ پھر اسی رحمت کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانا ہوتا ہے،پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب 27 نومبر 2020کو کراچی میں بلاول ہا ئوس میں ہو ئی، بختاور بھٹو چیئر مین پی پی بلاول بھٹو کی چھوٹی بہن کی منگنی امریکہ میں مقیم کاروباری شخص محمد یونس چوہدری کے صاحبزادے محمودچودھری سے ہوئی، بختاور کی منگنی کی تقریب منعقد کیے جانے کا دعوت نامہ بھی سوشل میڈیا میں گردش رہا جس میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کی شادی کی تصویر بھی موجود تھی،یہ پہلا موقع ہے کہ دعوت نامے میں کرنا وائرس کی وبا کے باعث ہدایات کی فہرست بھی شامل تھیں ،ہدایت کے مطابق تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کو پہلے اپنا کرونا ٹیسٹ کروانا پڑا، اور ای میل کے ذریعے اپنی منفی کورونا ٹیسٹ کی کاپی ای میل کی گئی اور اس کے بعد ہی مہمانوں کو تقریب میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی،تقریب میں موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں تھی،بلاول بھٹو زرداری کی پیدائش 1988 میں ہوئی تھی، جب کہ بختاور بھٹو زرداری کی پیدائش جنوری 1990 میں ہوئی تھی،تیسری اولاد ان کی بیٹی آصفہ بھٹو ہیں جن کی پیدائش فروری 1993 میں ہوئی تھی، منگنی کی تقریب طے ہونے پر سوشل میڈیا پر مبارکباد پیش کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بہت طویل عرصے کے بعد بھٹو خاندان میں کوئی خوشی کا موقع آیا تھا ،یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو تین بار ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں، جو اپنی شادی کے حوالے سے اپنی کتاب دختر مشرق میں لکھتی ہیں کہ میری ذاتی زندگی میں 29جولائی کو ایک ڈرامائی موڑ آیا جب میں اپنے اہل خاندان کے کہنے پر ان کی پسندکردہ شادی پر رضامند ہو گئی۔ اہل خاندان کی پسند کی شادی ہی وہ قیمت تھی جو مجھے اپنے سیاسی زندگی کے لیے ذاتی پسند پر ادا کرنی پڑی تاہم اسی دوران میں یہ سوچ کر بھی حیران تھی کہ میرا متوقع شوہر میری زندگی کو برداشت بھی کرسکے گا جیسی مصروف زندگی میں گزار رہی تھی۔ جب میں گھر پر ہوتی تھی تو میری سیاسی ملاقاتیں آدھی آدھی رات تک بھی چلتی تھیں اور زیادہ عرصے مجھے گھر سے باہر بھی پاکستان کے طول وعرض میں سفر کرتے ہوئے گزارنا پڑتا تھا۔ کون سا شوہر پسند کرے گا کہ میرا وقت میرا نہیں ہے اور اس کا وقت بھی اس کا نہیں ہو گا۔ کیا ایسے کسی مرد کا وجود تھا جو روایت کو توڑ کر اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گا کہ میری پہلی وفاداری اس سے نہیں بلکہ ہمیشہ پاکستان کے عوام سے رہے گی۔

میں شادی کے سلسلہ میں لوگوں کے احساسات پر بھی متفکر تھی ۔ چونکہ میں جوان تھی، میں نے قید میں کتنے ہی برس گزارے تھے اور میری زندگی میں المیہ پر المیہ چھایا رہا۔ میرے دوستوں کی رائے تھی کہ میں لوگوں کی نظروں میں ’’ولی اللہ‘‘ بن گئی ہوں۔ وہ قربانیاں جو میرے خاندان نے ایک جمہوری پاکستان کے لیے پیش کیں اور جن کی بناء پر مجھے اپنے والد، والدہ اور بھائیوں کی سرپرستی اور چاہت سے محروم ہونا پڑا، انہوں نے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال جاگزیں کردیا تھا کہ وہ سب میرا خاندان ہی تھے۔ پی پی پی کی بنیادی طاقت کا سرچشمہ یہی سرپرستی کا احساس تھا جو لوگوں کو میرے متعلق تھا۔ اگر میں شادی کر لیتی ہوں تو کیا ان کے احساس کو زک نہ پہنچے گی۔

دوسری طرف میں نے اپنے آپ سے حجت کی کہ مجرد زندگی سیاسی طور پر پاکستان کے اندر اور باہر میرے لیے اذیت رساں بھی ہوسکتی تھی۔ ہمارے پدرسری معاشرہ میں، مرد مجرد بھی رہے تو بال بیکا نہیں ہوتا مگر اکیلی عورت پر الزام تراشی معمولی بات سمجھتی ہے۔ ’’تم نے شادی نہیں کی؟‘‘ صحافی مجھے عموماً پوچھتے۔ چڑ کر کئی دفعہ میں ان سے پوچھنے کی خواہش رکھتی تھی کہ وہ یہی سوال کسی مجرد مرد سے پوچھنا پسند کیوں نہیں کرتے مگر میں نے ہمیشہ ضبط کیا۔ روایتی مسلمان معاشرہ میں بن بیاہی یا اکیلی خواتین سے صحافیوں کو کبھی واسطہ نہیں پڑا اور غیرمعمولی سوالات جنم لیتے ہیں۔

مجھے ایک ایسے آدمی کے ساتھ بقیہ زندگی گزارنے پر ذہنی تیاری کے لیے آمادہ کیا جارہا تھا جس سے میں صرف تین دن قبل ملی تھی اور وہ بھی دونوں متعلقہ خاندانوں کے معزز افراد کے ہمراہ۔

میں نے آکسفورڈ کے اپنے چند دوستوں سے اس کا تعارف کرایا۔ انہوں نے اسے پسند کیا۔ میں نے اسے ایک اپنی پاکستانی سکول کی سہیلی سے ملایا۔ اس نے اسے بہت دلکش شخصیت کا مالک بتایا اور مجھے شادی کا مشورہ دیا۔

پاکستان میں اس خبر پر ملاجلا ردعمل تھا۔ میرے بیان کے باوجود حکومت کے گماشتوں نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر افواہیں پھیلانا شروع کردیں کہ میں سیاست کو تیاگ رہی ہوں۔ منظم گروہوں نے شاہراہوں پر چلنے والی بسوں کو روک کر میرے اشتہارات کو اُتارنا شروع کردیا، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اب ان کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ میں شادی کررہی ہوں۔ ’’پی پی پی کے پرچم کو ابھی تک کیوں لہراتے پھر رہے ہو‘‘ پارٹی کے کارکنوں کو طنزاً کہا گیا۔ ’’بینظیر نے تم کو چھوڑ دیا ہے اور الگ ہو گئی ہے‘‘۔ پی پی پی کے حامیوں کے خوف کو مزید مہمیز ملی جب آصف کی والدہ کا ایک جعلی انٹرویو سرکاری اخباروں کی زینت بنا۔ ’’میں جنرل ضیاء کو شادی پر مدعو کررہی ہوں‘‘ ان کی رائے مبینہ طور پر شائع کی گئی لیکن ملک کے لوگوں کی اکثریت خوش تھی کہ میں معمول کی زندگی گزارنا چاہ رہی ہوں۔ تین روز تک شہروں میں مٹھائی کی دکانوں پر خریدوفروخت کی بھرمار رہی کیونکہ لوگ اس واقعہ کا جشن منا رہے تھے۔ ’’دس برس تک رونا دھونا ہی رہا ہے، بالآخر خوشی منانے کا وقت آگیا ہے‘‘ سب جگہ یہی رائے تھے۔ زرداری قبیلہ بہت خوش تھا۔ پندرہ ہزار زرداری نواب شاہ میں آصف کی زمینوں پر گاتے، رقص کرتے اور پی پی پی کے پرچم لہراتے آصف کے استقبال کے لیے اکٹھے ہو گئے۔

جب میں پاکستان واپس لوٹی، میں نے پورے ملک کا دورہ کیا اور لوگوں کو یقین دلایا کہ میں ان کی بہن ہوں اور ہمیشہ ان کی بہن رہوں گی اور یہ کہ میری شادی کا میری سیاسی زندگی پر کوئی سایہ نہیں پڑے گا۔

دسمبر 1987ء میں شادی سے ایک ہفتہ قبل ہی -70 کلفٹن کے باہر لوگوں کے ہجوموں نے ڈیرہ ڈالنا شروع کردیا۔ تحائف دروازے پر ہی آنے شروع ہو گئے۔ سندھ سے ہاتھوں سے بنی ہوئی سادہ شلوار قمیصیں، پنجاب سے کشیدہ کاری کے دوپٹے، مٹھائی، پھل، گڑیائیں اور گڈے جو آصف اور مجھ سے مماثلت رکھتے تھے۔ کئی مرتبہ میرے رشتہ دار بھی ہجوم میں شامل ہو جاتے اور خوشی میں ان کے ساتھ رقص کرتے۔ عورتیں اور بچے آتے اور باغ میں بیٹھ جاتے۔

یہ بھی رواج ہے کہ شادی سے ایک دو ہفتے قبل دلہن الگ رہتی ہے، نظربد سے بچنے کے لیے زرد لباس پہنتی ہے اور کوئی میک اپ نہیں کرتی لیکن میرے پاس اس قدیم روایت کا پاس کرنے کے لیے وقت نہیں تھا جسے عرف عام میں مایوں بیٹھنا کہا جاتا ہے۔ میرے پاس کام کی وجہ سے شادی سے پہلے دو ہفتے تک بیکار بیٹھے رہنے کی گنجائش نہیں تھی۔ ہم تو ہنی مون کے لیے بھی کہیں جانا نہیں چاہتے تھے۔

ہم نے باقی ملک کے لیے مثال قائم کرنے کے لیے مزید روایتوں سے بھی بغاوت کی۔ شادی باوقار اور سادہ طریقہ سے ہونا تھی۔ 17دسمبر کو رسم حنا سے پہلے تین دنوں تک میری ہمشیرہ میری کزنیں اور میری سہیلیاں -70 کلفٹن میں جو ہمارے گھر سے ملحقہ عمارت تھی اور جہاں ہمارا استقبالیہ اور دفاتر تھے۔ گیتوں اور رقص کی مشق کرتی رہیں تاکہ دولہا کے خاندان والوں سے مہندی پر مقابلہ کیا جاسکے۔ سمیعہ، سلمیٰ، پوتشی اور امینہ وہاں تھیں اور یاسمین بھی جو سیدھی لندن سے پرواز کر کے یہاں آئی۔ ہر روز انگلستان سے دوست آتے رہے۔

جب ہمارے دوست اور رشتہ دار کلفٹن میں جمع ہورہے تھے تو ہزاروں لوگ کراچی کے مرکز لیاری میں بھی اکٹھے ہورہے تھے۔ ہم دو شادیوں کا انتظام کررہے تھے۔ ایک گھر پر اہل خاندان اور دوستوں کی موجودگی میں اور دوسری کراچی کے غریب ترین علاقے میں لوگوں کے درمیان جہاں پی پی پی کا مضبوط قلعہ تھا۔ ہم نے پارٹی کے حامیوں کو جو مارشل لاء کے دوران گرفتار کیے گئے تھے اور شہیدوں کے خاندانوں کو عوامی استقبال میں شامل ہونے کے لیے 15ہزار دعوت نامے بھجوائے تھے۔ استقبال کا انتظام ککری گرائونڈ میں کیا گیا تھا جو لیاری میں ایک وسیع کھیل کا میدان ہے جہاں میرے والد پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے غیرمراعات یافتہ طبقے سے خطاب کیا تھا اور جہاں 14اگست 1986ء کے مظاہرے میں پولیس کے ذریعہ چھ افراد کو قتل کیا گیا، سینکڑوں کو پیٹا گیا اور آنسوگیس کا نشانہ بنایا گیا۔

دولہا کی بارات 17دسمبر کو مہندی کے لیے -70کلفٹن پہنچی۔ آصف کے عزیزوں نے ایک بڑیٹ میں حنا کو ایک مور کی شکل میں سجایا ہوا تھا جس کے دم کے پر اصلی تھے۔ میری خواتین رشتہ داروں نے زرداری کی بارات کے افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے جب وہ باغ میں تشریف لائے۔ آصف بارات کے درمیان تھا اس کے سر پر اس کی بہنوں نے ایک شال تان رکھی تھی۔ مجھے اطمینان ہوا جب میں نے اسے پیدل آتے دیکھا کیونکہ اس نے مجھے پولو کے ایک گھوڑے پر سو کر آنے کی دھمکی دی تھی۔ ہم دونوں آرسی مصحف کی رسم کے لیے ایک بنچ پر بیٹھ گئے جسے کلفٹن کی سیڑھیوں کے اوپر رکھا گیا تھا۔ دونوں گھروں کی خواتین اور سہیلیاں بنچ کے دونوں اطراف بیٹھی ہوئی تھیں جیسے گیت میرے عزیزوں نے گائے وہ شاید کسی نے سنے بھی یا نہیں کیونکہ ان میں آصف کو نصیحت کی گئی تھی کہ وہ  بچوں کا خیال رکھے گا۔ جب بینظیر سیاسی مہم پر گئی ہوئی ہو اور نہ ہی اسے جیل جانے سے روکے گا۔ یاسمین، صنم، لیلیٰ اور دوسری سہیلیوں نے گایا۔ ’’آصف! تمہیں تائید کرنا ہو گی کہ بینظیر قوم کی خدمت کرے گی‘‘ اور پھر آصف کی طرف سے خود ہی جواب دیتیں ’’یہ میری طرف سے ٹھیک ہی ہے کیونکہ میں اپنی بیوی کی خدمت کر کے قوم کی خدمت کررہا ہوں گا‘‘۔

اگلی شب ہم سب باغ میں نکاح کے لیے جمع ہوئے۔ دلہنیں متانت سے چلتی ہیں، آنٹی بہجت نے قرآن مجید کا میرے سر پر سایہ کرتے ہوئے پکارا، میں نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ آصف کی جانب ہماری خاندانی مسجد کا مولوی شادی کے کلمات پڑھ رہا تھا۔

’’منظور آہے؟‘‘ میرے کزن شاد نے مجھے سندھی میں پوچھا۔ میں سمجھی وہ مجھ سے مذاق کررہا تھا کہ آیا میں تیار ہوں ’’آہے‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’لیکن وہ ہیں کہاں؟‘‘

وہ صرف مسکرایا اور مزید دو مرتبہ یہی سوال دہرایا۔ ’’آہے، آہے‘‘ میں نے جواب دیا۔

میں نے جب غور کیا تو اب سمجھ آئی کہ تین مرتبہ ’’ہاں‘‘ ایک مرد گواہ کے سامنے کہنے کا مطلب تھا کہ میں شادی شدہ خاتون بن گئی ہوں۔

’’جئے بھٹو، جئے بھٹو‘‘ کی لوک موسیقی پورے ہجوم کو مست کرگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بختاور بھٹو کی منگنی کے کارڈ ؟ 

دعوت نامے کا کارڈ انتہائی منفرد طریقے سے بنایا گیا تھا جس پر بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کی تصویر بھی لگائی گئی ،دعوت نامے کے مطابق بختاور بھٹو زرداری کی منگنی یونس چوہدری کے صاحبزادے محمود چوہدری سے ہوئی،کارڈ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ منگنی کی تقریب میں شرکت کرنے والے مہمان بذریعہ ای میل دعوت قبول کریں گے، جس میں انہیں اپنا پورا نام اور رابطہ نمبر لکھنا ہوگا،تقریب میں صرف بلاول ہا ئوس کے آفیشل فوٹو گرافر ہی تصویریں اور ویڈیو بناسکتے تھے، جو بعد میں مہمانوں کو بھیج دی جائیں گی،منگنی کا دعوت نامہ سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہیں لوگوں کی جانب سے مبارکبادی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیاتھاجس میں آئندہ زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ، 2020ء شوبز کے حوالے سے شادیوں کا سال رہا ہے جب اس میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے کہ جب پی پی کے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹوکی نواسی کی منگنی ہوئی جسے گھٹن زدہ ملکی ما حول میں ایک خوشگوار تبدیلی قرار دیا گیا جبکہ بے نظیرکی شہادت کے بعد بھٹو خاندان میں بختاوربھٹوکی منگنی کی صورت میں آنے والی بہت بڑی خوشی تھی جس پرعوامی حلقے نہال تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آصف زرداری کے سمدھی بختاور بھٹو کے سسر ارب پتی کیسے بنے؟ 

 اس وقت ایک معروف مصنف کی تحریر کردہ کتاب سیلف میڈ آئل مین ، رئیل سٹیٹ انویسٹر، داستان گیر اور گندگی سے سڑکیں بلیک گولڈ تک میں آصف علی زرداری کے سمدھی کے بارے میں ہوش ربا انکشافات نے پاکستانیوں کے رونگٹے کھڑے کر دیئے ہیں مصنف لکھتے ہیں کہ یہ ایک سچے امریکی خواب کی ایک کہانی ہے، یونس چودھری نے تیل اور گیس کے کاروبار میں 1979 میں ایک ایسی تارکین وطن کی حیثیت سے شروعات کیں، اس مورخ نے مزید انکشاف کیا ہے کہ یونس چوہدری پڑھے لکھے نہیں لیکن اربوں ڈالرز کے مالک ہیں ، آخراس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کی آمدن کے ذرائع کا کسی کوپتہ نہیں، صرف امریکہ میں ایک بہتر زندگی کا خواب یہ کیسے ممکن نہیں ہے ،یونس چوہدری کی صلاحیتوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں کچھ خوبیاں بھی ہیں ، وہ سخت محنت کرنے والے ہیں، مستقل مزاجی کے مالک ہیں اور کبھی شکست کو قبول نہ کرنے کی انوکھی صلاحیت کے ذریعہ وہ تیل اور گیس کی نجی کمپنیاں رئیل سٹیٹ ہولڈنگز کے مالک ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بڑی بیٹی بختاور سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں ،اس بارے میں کچھ عرصہ قبل انہوں نے باکسنگ کی تربیت لینے کی ویڈیو شیئر کی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ بختاور کو باکسنگ سیکھانے والا کوئی اور نہیں بلکہ باکسر عامر خان ہیں جن کے بارے بختاور نے لکھا کہ کہ جب آپ کا کوچ ایک چیمپئن ہو ، اس سے قبل بختاور ٹوئٹر پر دبئی کی ایک عمارت سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو بھی شیئر کرچکی ہیں، بختاور سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے مختلف رہنمائوں کے حوالے سے بھی اظہار خیال کرچکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر