Sessions Court,Babar Azam,SHO Naseerabad,action,haamza mukhtar
30 نومبر 2020 (20:38) 2020-11-30

لاہور :سیشن کورٹ نے بابر اعظم پر خاتون کے سنگین الزامات کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کے بعد ایس ایچ او نصیر آباد سے جواب طلب کر لیا ہے کہ اگر خاتون نے ایف آئی آر کیلئے رابطہ کیا تھا تو ضروری کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نعمان محمد نعیم کی عدالت میں حامزہ مختار نامی خاتون کی طرف سے بابر اعظم کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں خاتون نے پاکستانی سٹار کرکٹر بابر اعظم پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے شادی کا جھانسہ دیکر 2012 سے اب تک مسلسل ان کا جنسی استحصال کیا ہے اور اس دوران حاملہ ہونے پر ان کا اسقاط حمل کروایا اور ان سے پیسے بھی لیتے رہے۔ انہوں نے جب تھانہ نصیر آباد میں بابر اعظم کیخلاف ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی تو ان کی شنوائی نہ ہوئی۔

خاتون نے سیشن کورٹ میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں سٹار کرکٹر بابر اعظم ٗ ان کے بھائیوں محمد ٗ فیصل اور کامل جبکہ ان کے دوست محمد نوید کو بھی فریق بنایا ہے ۔ انہوں نےدرخواست میں استدعا کی ہے کہ تھانہ نصیر آباد کو مقدمہ کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ نصیر آباد سے جواب طلب کر لیا ہے کہ وہ 5دسمبر تک بتائیں کہ درخواست گزار نے اندراج مقدمہ کیلئے رابطہ کیا تھا یا نہیں اور اگر رابطہ کیا گیا تھا تو ضروری کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور مزید یہ کہ مذکورہ معاملے میں اب تک مزید تفتیش کی گئی ہے یا نہیں۔ مزید برآں ایڈیشنل سیشن جج نے خاتون کی طرف سے ہراساں کرنے کی ایک اور درخواست پر بھی جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ خاتون کو ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔


ای پیپر