The right to NRO belongs to the dictator, not to the Prime Minister: Shahid Khaqan Abbasi
30 نومبر 2020 (13:52) 2020-11-30

کراچی:رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم پر کرپشن کا نہیں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، حکمرانوں کو عوام کی تکلیف کا احساس نہیں ہے،ہمارے دور میں گیس قیمت میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں ہوا،اضافی و سستی ایل این جی سے ملک کو معاشی فائدہ ہوا،سستی اوراضافی بجلی سے ملک کی جی ڈی پی میں 3 فیصداضافہ ہوا جبکہ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود ملک کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ2018 میں بجلی، گیس سرپلس چھوڑ کر گئے تھے،مسلم لیگ (ن) کی حکومت سستے ترین بجلی پلانٹ لگا کر گئی تھی، سسٹم میں اضافی گیس کو ہم نے شامل کیا تھا، ملک میں اس وقت گیس کے بل بھی بڑھ گئے، ہمارے دور اقتدار میں اضافی گیس نے انرجی کرائسز کا حل کیا،2 سے 3 ارب ڈالر انرجی کیلئے اضافی رقم ادا کرنی پڑتی ہے، گیس کی قیمت 2 سے 3 گنا بڑھ چکی ہے جبکہ دنیا کے سستے ترین پلانٹس پاکستان میں لگائے گئے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ این آر او کا حق آمر کے پاس ہوتا ہے ، وزیراعظم کے پاس نہیں، وزیراعظم چینی کرپشن کیخلاف کارروائی نہ کرے تو یہ این آر او ہے،جودوائوں میں کرپشن کرے ان کیخلاف کارروائی نہ ہو یہ این آر او ہے، مجھے این آر او نہیں چاہئے،حکومت نے اپنے وزرا کو این آر او دیا ہے، عمران خان اصرار کرے وہ ہمارے مقدمے پی ٹی وی پر دکھائیں، ملتان میں جو فلم چلے گی اسے پورا پاکستان دیکھے گا، عالمی وبا موجود ہے،اس پر پالیسی بننی چاہئے، ملک آئین کے مطابق چلنا چاہئے، یہ سب کا بیانیہ ہے، پی ڈی ایم کے جلسے عوام کی رائے کا اظہار ہے جبکہ عوام سے پوچھیں وہ کیا چاہتے ہیں،حکومت نے ان کا کیا حال کردیا ہے۔

رہنما(ن) لیگ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا تسلیم کر رہی ہے جس قیمت پر پلانٹ لگے کوئی لگا نہیں سکتا، 3600 میگاواٹ کے کول پلانٹ لگائے گئے،پاکستان کے انرجی مسائل کا حل اضافی گیس میں ہے، حکومت کیوں اضافی گیس لانے سے قاصر ہے؟تیل چوری کرسکتے ہیں مگر گیس کو چوری نہیں کرسکتے، 2018 میں کابینہ کا فیصلہ فرنس آئل امپورٹ نہیں تھا جبکہ دنیا میں کوئی ملک ڈیزل سے پاور جنریشن نہیں کرتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اڑھائی سال میں کوئی نیا انرجی ٹرمینل نہیں لگ سکا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2 انرجی ٹرمینل لگائے تھے، اس بار پھر پاور جنریشن کیلئے فرنس آئل کو امپورٹ کیا جا رہا ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت کو بڑا چیلنج انرجی بحران کی صورت میں ملا،نیا انرجی ٹرمینل لگانے کیلئے آج پیسے مانگے جاتے ہیں ، گیس کی قیمت کیوں بڑھی حکومتی وزرابتانے سے قاصر ہیں جبکہ آج پھر ملک کو بجلی و گیس کی قلت کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسائل کا حل اضافی گیس منگوانے میں ہے، انہوں نے ایل این جی نہیں منگوائی،گیس سرکلر ڈیٹ 100 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے،پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 2018 میں 1050 ارب تھا اور آج 2300 ارب سے بڑھ چکا ہے جبکہ اس وقت ہر ماہ سرکلر ڈیٹ میں 60 ارب کا اضافہ ہورہا ہے۔


ای پیپر