PTI Government, welfare work, people, rulers, pandemic
30 نومبر 2020 (12:50) 2020-11-30

آفس جاتے ہوئے منہ پر ماسک چڑھائے ڈرائیور نے پوچھا۔ ’’سر کرونا کا کیا حال ہے۔‘‘ جواب دیا۔ ’’بھائی کرونا روز بروز بڑھ رہا ہے۔ روزانہ پچاس پچپن افراد موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اب تک کم وبیش 8 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔ اللہ کا عذاب ہے۔ احتیاط کرو اور دعا کرو جلد ٹل جائے۔‘‘ ڈرائیور نے ماسک ہٹایا۔ برا سا منہ بنایا بولا۔ ’’سر کچھ نہیں سیاسی کرونا ہے، ڈھائی سال رونا، ڈھائی سال کرونا۔ پانچ سال برابر۔ پہلے ڈھائی سال سابق حکومت کو روتے رہے کرپشن کرپشن سے کچھ ہاتھ نہ آیا عوام کی اس عرصہ میں مہنگائی نے چیخیں نکال دیں۔ باقی ڈھائی سال کرونا کرونا کرتے گزر جائیں گے۔ قسمت میں رونا لکھا ہے تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔‘‘ میں آفس کے سامنے گاڑی سے اتر گیا لیکن ڈرائیور کا فلسفہ ذہن سے چمٹا رہا۔ ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ۔ ’’لو اٹھی مغرب سے وبا جانے کا موسم آگیا‘‘ کرونا کی دوسری لہر نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ گزشتہ پندرہ بیس دنوں میں کتنے دوست احباب جن سے برسوں کے تعلقات اور دوستی قائم تھی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چلے گئے۔ واللہ اعلم الصواب، ہمارے محترم دوست اور سینئر صحافی محمد منیر الدین نے اسے ’’انسانی پت جھڑ کا موسم‘‘ قرار دیا۔ لوگ یوں چلے جا رہے ہیں جیسے درختوں سے پتے جھڑتے ہیں۔ کرونا حقیقت کرونا عذاب لیکن جانے ڈرائیور جیسے لاکھوں کروڑوں غربت کے مارے مزدور پیشہ افراد کو کیوں یقین نہیں آتا۔ ڈرائیور کہہ رہا تھا ’سر دو بار بخار آیا، ڈاکٹر نے کرونا سے خوفزدہ کیے بغیر دوا دی۔ بخار غائب ہوگیا۔ گاڑی چلا رہاہوں۔ ٹیسٹ نہ تشخیص اور نہ ہی 14 دن کا قرنطینہ ،شاید کرونا جانتا ہے کہ غریب آدمی 14 دن گھر میں رہے گا تو بال بچوں کو کیا کھلائے گا۔ غریب کو نزلہ زکام پہلے بھی ہوتا تھا۔ اب بھی ہوتا ہے دو گولی پیناڈول نزلہ بخار شو…وو…و یہ سیاسی کرونا ہے۔ پہلے اس نے برباد معیشت کو سہارا دیا۔ اب اپوزیشن میدان میں آئی دو تین جلسے کیے تو میدان میں کود پڑا۔ رونے کے لیے بڑا مواد ہے فرمایا۔ ’’کرونا سے معاشی حالات بگڑنے کا خطرہ ہے لیکن ہم بھی کتنے عظیم ہیں اتنے عظیم ہیں کہ بس۔ کاروبار بند نہیں کر رہے۔ صرف تعلیمی ادارے ڈیڑھ ماہ بند رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کو چھوڑیے عام آدمی سوچنے لگا ہے کھلے بندوں اظہار بھی کر رہا ہے کہ سارا شور شرابہ اپوزیشن کے جلسے ناکام بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بقول شاہ عالی مقام جب جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جب کسی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تو جلسے روکنے کی تدبیریں کیوں، ترجمان نفسیاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صوبائی حکومت انتظامی محاذ پر مصروف جنگ ہے۔ ملتان میں جلسہ سے قبل گرفتاریاں قلعہ کہنہ کے گرد کنٹینروں کی دیوار کوئی جلسہ گاہ میں جانے نہ پائے جو جائے گا پکڑا جائے گا بجلی کے کنکشن کاٹ دئے۔ پی ٹی آئی کو تو کسی نے نہیں روکا تھا۔ تا حیات نا اہل قرار پانے والے وزیر اعظم نے تو اپنے وزیر داخلہ کی بات رد کرتے ہوئے شاہراہ دستور تک آنے کی اجازت دی تھی۔ احسان کا بدلہ برائی جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ سابق وزیر اعظم یہ بات نہ سمجھ سکے لاہور کا جلسہ باقی ہے ابھی سے روکنے کے لیے ہزار تدبیریں بڑی گرفتاریوں کا امکان، چوہدری شوگر ملز کے خلاف تحقیقات شروع۔ مریم نواز ٹارگٹ، 

احسن اقبال، شاہد خاقان پر نظر باقی کون بچے گا۔ احسن اقبال نے کرونا کی ویکسین کے بارے میں بتایا کہ سونامی  2018ء کا واحد حل پی ڈی ایم ویکسین، شرطیہ علاج، سرکار دربار سے وابستہ خلق خدا نے پشاور کے جلسے کے بعد سے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے جلسہ ناکام ہوگیا۔ عوام نے پی ڈی ایم کی اپیلوں پر توجہ نہیں دی، لوگ ہی نہیں آئے تو جلسہ کس کام کا۔ حیرت ہے مولانا فضل الرحمان اور دیگر لیڈر سرخ سبز کالے پیلے جھنڈے لگی خالی کرسیوں سے خطاب کرتے رہے۔ یا ہزاروں افراد آسمان سے اترے تھے۔ فرشتے ترجمانوں کو کیسے نظر آئیں گے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر تو جلسہ میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کو جلسوں سے خطرہ نہیں۔ تھنک ٹینک والے بھی کہتے ہیں کہ ملک میں کوئی بحران نہیں۔ جلسوں میں لاچار لوگ آتے ہیں۔ اپوزیش لیڈر خالی کرسیوں سے خطاب کر کے دل کی بھڑاس بھی نہ نکالیں تو کیا دربار میں حاضر ہو کر قصیدے پڑھیں اور معاون خصوصی بن جائیں، ایسا ہوگیا تو موجودہ ’’لشکر جرار‘‘ کیا کرے گا۔ ’’انہیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا‘‘ جمہوریت میں ایسے رویہ کو ’’زیادتی‘‘ کہا جاتا ہے کہ بے ضرر جلسوں کی بھی اجازت نہ دی جائے کیسی جمہوریت ہے کہ ایک جلسہ بھی خوش دلی سے نہیں کرنے دیا گیا۔ جلسوں کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ کیسے برداشت ہوگا۔ پنجاب میں 70ء کی دہائی کی طرح ’’منی مارشل لاء‘‘ لگانا پڑے گا اس کے بعد آخری آپشن 156 استعفے، مڈ ٹرم الیکشن کرانا پڑیں گے۔ صورتحال اتنی آسان نہیں، شنید ہے ابھی سے نماز میں کھڑے ہوگئے ہیں دعائوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ لیکن اس کے لیے انتخابی اصلاحات ضروری، اصلاحات کے لیے گرینڈ قومی ڈائیلاگ ناگزیر، ڈائیلاگ فرشتوں سے نہیں اپوزیشن سے ہوں گے۔ ایک طرف اپوزیشن دوسری طرف وزیر اعظم جو معاملات طے پائیں گے وہ پارلیمنٹ میں جائیں گے یہاں سے اسپیکر کا کردار شروع ہوگا۔ پہلے ہی اسپیکر کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے بجا طور پران کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا اسپیکر سے مذاکرات اپوزیشن کا منہ چڑانے کے مترادف، معاملات حل کیسے ہوں گے؟ سیاسی تبدیلیوں کا امکان؟ نظام بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے سیاسی افراتفری بد امنی میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے ایک وزیر نے تو محترم سراج الحق کو بتا دیا ہے کہ ہماری حکومت جاتی نظر آرہی ہے۔ سراج الحق سچے لیڈر ہر گز جھوٹ نہیں بولتے۔ بلاول نے بھی تصدیق کی کہ جنوری کے بعد حکومت نو مور، باہمی عدم اعتماد، مہنگائی، عوام میں حد درجہ بے چینی کیا کچھ ہونے والا ہے؟ یا تینوں ٹاسک پورے کر کے جائیں گے؟ پر لطف ٹوئٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خطاب کر رہے تھے۔ یار محمد رند اسمبلی اجلاس میں سو گئے۔ تصویر وائرل ہوئی اس پر شعر چسپاں کیا گا۔ ’’اب تو بیزاری حالات یہاں تک پہنچی۔ سامنے جام کے اک رند کو سوتے دیکھا۔‘‘ حکومت کو کوئی پریشانی ہے؟ شاید نہیں، اتحادی ساتھ ہیں۔ دیکھا نہیں حکومت نے ایک نہ مانی، ق لیگ پھر مان گئی، اللہ رے مجبوری۔ کرونا، مہنگائی، معیشت کی تباہی اور اب نامردی۔ ’’مردانگی نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے‘‘ خواتین سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ سے وزیر اعظم پریشان، کہا جو پکڑا جائے نامرد بنا دو۔ 22 ہزار 37 زیادتی کیسز صرف 77 کو سزائیں سنائی گئیں، واقعات روز بروز بڑھ رہے ہیں ترغیبات اورارد گرد کے عوامل شامل حال رہے تو تعداد 22لاکھ بھی ہو سکتی ہے یہ تعداد قومی اسمبلی کے دو تین حلقوں کے برابر ہوگی جن پر نامردوں کو ہی منتخب کیا جائیگا۔ کیا مہنگائی سے تنگ عوام ’’زیادتی‘‘ پر اتر آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے حکم پر قانونی ٹیم نے نامرد بنانے کے کئی طریقے سامنے رکھ دیے۔ کیمیائی طریقہ، مجرم کو پریشانی اور اذیت نہ ہو، مخصوص مدت کے لیے نا مرد بنا دیا جائے تاکہ جب دوبارہ مرد بنے تو اگلے پچھلے بدلے چکائے۔ ریپ کے کیسز عام ہو رہے ہیں۔ شاید اس کے لیے باقاعدہ وزارت یا محکمہ قائم کرنا پڑے بے شمار نامردوں میں سے اس محکمہ کے لیے ایک وزیر، وزیر مملکت اور ایک دو ترجمان بنانے پڑیں گے۔ اس کے  لیے قومی اسمبلی میں نامردوں اور خواجہ سرائوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنا پڑیں گی۔ خواجہ آصف اور دیگر خواجوں کو البتہ اعتراض ہوگا تاہم اسپیکر ان کا مائیک بند کرسکتے ہیں۔ مسئلہ گمبھیر ہے۔ ریاست مدینہ میں شرعی قوانین چلیں گے یا وزیر اعظم کی مرضی، شریعت میں نامردی کی سزا کہاں ہے۔ علامہ طاہر اشرفی اجلاس میں موجود تھے تو کیوں خاموش رہے، زنا بالجبر کی سزا موت پھانسی، زنا بالرضا پر سنگسار، کوئی تیسری جائز نہ ہی معاشرے کے لیے مناسب پہلے ہی بہتیرے خواجہ سرا اپنے حقوق کے لیے شور مچا رہے ہیں۔ مردوں کے 


ای پیپر