Opposition, government, cautious, pandemic, death toll, NCOC
30 نومبر 2020 (12:38) 2020-11-30

جمعرات مو رخہ چھبیس نو مبر کے روز ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 3300 سے زائد افراد کی تصدیق ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ان میں شامل تھے۔ وبا کا یہ تیز پھیلائو اور ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ مگر اس جانب عملی طور پر سنجیدگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں کیسز کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوچکا ہے مگر احتیاطی تدابیر پر عمل کی جانب پیش رفت میںذرا بھی بہتری نظر نہیں آتی۔ یوں لگتا ہے اس بار حکومت نے کورونا کے مقابل عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ وبا کی شدت روز بروز بڑھتی جارہی ہے، ہلاکتوں کی شرح میں خوفناک اضافہ نوٹ کیا جارہا ہے مگر زمین پر معمولات جس طرح چلائے جارہے ہیں نہیں لگتا کہ اس ملک کو کورونا وائرس کے ایک زور دار حملے کا سامنا ہے۔ لاپروائی اور ذمہ داری میں حکومت، حزب اختلاف، عوام، کاروباری طبقہ، صنعت کار، تاجر اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے سبھی حصہ ڈال رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں تو گویا کورونا وبا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ وبا کی شدت میں جوں جوں اضافہ ہوتا جاتا ہے، حزب اختلاف کے سیاسی جلسے زور پکڑتے جارہے ہیں۔ اتوار کے روز مقامی انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کے باوجود پی ڈی ایم نے پشاور میں جلسہ عام منعقد کیا۔ اب 30 نومبر کو ملتان میں جلسے کا طبل بجایا جارہا ہے۔ ظاہر ہے اگر جلسہ ہوا تو اس میں ہزاروں افراد شریک ہوں گے اور سارا مجمع وبائی خطرے کا شکار ہوگا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی یہ روش اسی طرح جاری رہی تو دسمبر کے دوسرے ہفتے میں لاہور کے مجوزہ جلسے تک ملک میں کورونا وبا خوفناک درجے کی شدت ضرور اختیار کر جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری حالیہ دنوں اس مرض میں گرفتار ہونے والے غالباً پہلے قومی سیاسی لیڈر ہیں۔ میں ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں، مگر سیاسی جلسوں کا رزق بننے والے بے نوائوں کا درد بھی کوئی تو محسوس کرے، جو بدقسمتی سے یہ بھی نہیں جانتے کہ ایک عالم گیر وبا موت کا سایہ بن کر ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ محفوظ فاصلے پر بیٹھنے والے اور بہترین علاج کی سہولیات اور اخراجات برداشت کرنے کی سکت رکھنے والے سیاستدانوں کو اپنے جیالوں کی صحت و سلامتی کو بھی اہمیت دینی چاہیے کہ یہ موسم سیاسی اجتماعات کے لیے ہرگز راس نہیں اور جلسوں کے حوالے سے ضد نہ چھوڑنے کا نتیجہ یہی ہوگا کہ وبا کا پھیلائو بہت تیزی سے بڑھے گا۔ موجودہ وقت سیاسی جلسوں کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔ اس میں دو رائے نہیں اور انسانی صحت کے اس غیر معمولی خطرے کو دیکھتے اور جانتے بوجھتے نظر انداز کرکے یہ روٹین جاری رکھنا بہت خوفناک ہوسکتا ہے۔ قریب ایک ماہ پہلے جب کیسز میں اضافہ ہزار سے کم سطح پر تھا، حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر سختی سے عمل شروع کرایا جاناضروری تھا، مگر یہ کرانے کے بجائے حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کو جواب دینے کے لیے خود جلسوں کی دوڑ میں اتر پڑی۔ اب اگرچہ حکومت جلسوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکی ہے، مگر حزب اختلاف والے اپنے پروگرام پر نظر ثانی پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ شاید وہ اسے حکومت کے ساتھ تعاون پر محمول کررہے ہوں یا خیال کرتے ہوں کہ تین، چار بڑے جلسوں سے انہوں نے جو عوامی تحرک پیدا کرلیا ہے اس کا اثر زائل ہوجائیگا۔ مگر جو بھی ہو، سیاسی رہنما، جن میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی شامل ہیں، مل کر ہی اس غیرمعمولی چیلنج سے نمٹنے کی کوئی صورت پیدا کرسکتے ہیں۔ حزب اختلاف کو تو اس موقع پر حکومتی کارکردگی کا احتساب کرتے دکھائی دینا چاہیے تھا کہ صحت کے اس بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے۔ وبا کی اس دوسری لہر کے ساتھ ہی جو احتیاطی تدابیر ضروری تھیں، حکومت ان پر عمل کرانے میں ناکام رہی اور یہ ناکامی بدستور چلی آتی ہے کہ بازاروں کی حالت دیکھ لیں، ایس او پیز کی پابندی شاذ و نادر ہی نظر آئے گی۔ وبا سے متاثرین کے روزانہ نئے کیسز کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرچکی ہے مگر بازاروں کا ہجو م دیکھیں تو اس میں کوئی تبدیلی، کوئی احتیاطی تدبیر دکھائی نہیں دیتی۔ کورونا کیسز بڑھنے پر حکومت سکول بند کراچکی ہے اور شادی کی تقریبات بھی ہال کے بجائے کھلی جگہوں پر منعقد کرنے کا حکم دیا جاچکا ہے، مگر یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کورونا وبا صرف سکولوں اور شادی ہالوں سے نہیں پھیلتا، پُرہجوم بازاروں، دفاتر اور ایسے ہی دیگر مقامات سے بھی پھیلتا ہے۔ جب خطرے کا پھیلائو کسی ایک مقام سے مخصوص نہیں تو احتیاطی تدابیر چند شعبوں تک محدود کیوں؟ حکومت بڑے ڈھیلے ڈھالے انداز سے اس کام میں لگی ہوئی ہے، جبکہ کورونا بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔ ان حالات میں حزبِ اختلاف سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ حکومت کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے مگر بجائے یہ کرنے کے حزب اختلاف خود عوامی جلسوں کے ذریعے وبا کے پھیلائو کا سبب بن رہی ہے اور صورتحال جس تیزی سے شدت اختیار کرتی جارہی ہے اس کی ذمہ داری جب حزب اختلاف پر ڈالی جائے گی تو اس کے پاس اپنی صفائی میں بیان کرنے کو کچھ نہیں ہوگا۔

تعلیمی ادارے ڈیڑھ ماہ کے لیے بند کردیئے گئے ہیں۔ وبا کے باعث ایسا کرنا ناگزیر تھا لیکن ایک پریشانی یہ ہے کہ بہت سے سکولوں کی بندش کے دوران وہاں آن لائن درس و تدریس کا نظام موجود نہیں۔ طلبا کو گھر بیٹھ کر کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ اگلی جماعت میں ترقی کے لیے گھر پر بیٹھ کر کیے گئے کام کو 50 فیصد اہمیت حاصل ہوگی۔ باقی 50 فیصد نمبروں کا انحصار اُس سادہ ٹیسٹ پر ہوگا جو سکول کھلنے پر لیا جائے گا۔ یہ طریقِ کار والدین کا امتحان ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ گھر پر کیا گیا کام خالصتاً بچے کی اپنی کاوش کا نتیجہ ہو۔ اس کے علاوہ تعلیمی معیار کا فرق مزید بگڑنے کا شدید اندیشہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسّی، نوے فیصد بچوں کا تعلیمی معیار تو ان کے گھر کے کام کا مرہونِ منت ہوگا؛ البتہ دس فیصد یا شاید اس سے بھی کم بچے بچیاں ایسے ہوں گے جو آن لائن تعلیم و تدریس سے فیض یاب ہوں گے۔ حکومت یکساں نصاب کی با ت کرتی رہتی ہے، مگر کیسا یکساں نصاب اگر تعلیم اور تدریس کی سہولتیں ہی ایک جیسی نہیں۔ جب کلاس رومز اور کتابیں مختلف ہیں، گھر کا ماحول مختلف ہے تو تعلیمی معیار کا فرق کیا مزید بگڑ نہیں جائے گا؟ حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں محرومیوں پر مبنی ایسے فرق کو کم سے کم سطح پر لایا جائے ،کیونکہ ایسے ہی فرق ہوتے ہیں جن سے 


ای پیپر