Joe Biden, foreign policy, US, Trump, Iran, Israel, Saudi Arabia
30 نومبر 2020 (12:15) 2020-11-30

نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ہفتے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے متعلق اعلیٰ عہدوں کے لئے اپنی نامزد کردہ شخصیات کا نام لیا ہے۔ یہ مثبت رویے کی حامل انتہائی تجربہ کار شخصیات ہیں۔ انٹونی بلنکن، جن کا امریکی وزیر خارجہ کے لئے انتخاب کیا گیا ہے، بائیڈن کے دیرینہ مددگار اور ایک اعتدال پسند سفارتکار ہیں جو ٹرانس اٹلانٹک اتحاد اور کثیرالجہتی پر قوی اعتقاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے اوباما بائیڈن انتظامیہ میں خدمات انجام دی ہیں اور غیر ملکی سفارت کاروں کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ 58 سال کی عمر میں بھی وہ ایک متحرک رہنے والے اور پُر کشش کردار کے مالک ہیں۔ بائیڈن نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی حیثیت سے اپنے طویل المدت معتمد، جیک سلیوان کو، قومی سلامتی کے مشیر اور تجربہ کار سفارت کار لنڈا تھامس گرین فیلڈ بھی امریکی صدر کی نظر میں معتمد ٹھہری ہیں۔ وہ افریقی نژاد امریکی ہیں اور کثیرالجہتی پر قوی یقین رکھتی ہیں۔

بائیڈن کی طرف سے منتخب کی گئی کابینہ کو ابھی حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کی توثیق سینیٹ سے کرانا ہو گی جہاں ری پبلکنز کی اکثریت ہے۔ البتہ سینیٹ کے لئے ان کے انتخاب کو تسلیم نہ کرنا مشکل ہو گا۔ کابینہ انتخاب سے ہمیں امریکہ کی آئندہ خارجہ پالیسی پر اوباما کے اثرات معلوم ہوتے ہیں۔ خارجہ پالیسی علاقائی اتحاد، کثیرالجہتی اور اہم معاملات پر شعوری فیصلوں پر مشتمل ہو گی۔ بائیڈن کی امور خارجہ کی ٹیم کے تحت دنیا اور اقوام عالم سے متعلق بہت ساری چیزوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا امکان ہے۔

صدر بائیڈن 20 جنوری 2021 کو حلف اٹھانے کے بعد جو ابتدائی ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے ان میں سے ایک ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع فیصلوں کو ختم کرنا ہو گا۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا، مسلمانوں پر سفری پابندیوں کو کالعدم قرار دینا اور ٹرمپ کے بدنام زمانہ ماحولیاتی فیصلوں کو منسوخ کرنا شامل ہیں۔ دوسری طرف، بلنکن کو بھی فوری طور پر مختلف ممالک کے ہنگامی دورے کرنا ہوں گے کہ دنیا تباہ کن وبائی مرض کرونا کا سامنا کر رہی ہے اور امریکہ اور چین مخاصمت کا خاتمہ بھی اولین ترجیح کے طور پر لینا ہو گا۔

بائیڈن اور ان کی ٹیم کو امریکی خارجہ پالیسی، واشنگٹن کے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق وعدوں پر اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ ٹرمپ کے نقطہ نظر کے مطابق امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے مابین تعلقات نے تجارت اور نیٹو کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ بلنکن کی اولین ترجیح ہو گی کیونکہ وہ بحر اوقیانوس کے اس اتحاد پر مضبوط یقین رکھتے ہیں۔ وہ ایک اہم تجارتی پارٹنر اور بحیرہ جنوبی چین، ایسا خطہ جس میں واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین تناؤ کی صورتحال رہی، کے اہم کھلاڑی چین کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

شمالی کوریا، ایران، کیوبا، عراق، وینزویلا اور ترکی کے بارے میں یقینی طور پر پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔ بائیڈن ٹیم ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے لئے ایک سخت چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، جنہوں نے ٹرمپ کے دور میں انقرہ کے علاقائی اور متنازع کردار کو خاص طور پر جنگ سے متاثرہ لیبیا میں وسعت دی ہے۔ اردوان کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بھی جانچ پڑتال کے تحت آئے گا۔ اردوان، جو یونان کے ساتھ اپنے تنازع پر بھی یورپی یونین کی ممکنہ پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، واشنگٹن میں ایک نئی اور کم ہمدرد ٹیم کے ساتھ کیسے روابط اختیار کریں گے۔

ایران کے بارے میں، بائیڈن انتظامیہ اپنے اہم یورپی، روسی اور چینی شراکت داروں کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کر سکتی ہے۔ بلنکن کو اسرائیل اور خلیجی ممالک سے مشاورت کرنا ہو گی، جنہیں جوہری معاہدے کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ کی تہران مخالف سخت پالیسی نے ایرانی حکومت کو مالی طور پر کمزور کر دیا ہے لیکن وہ ایران کو ایٹمی اسلحہ خانے کی تیاری، چین اور روس کے قریب ہونے اور علاقائی امور میں دخل اندازی برقرار رکھنے سے باز نہیں رکھ سکے۔ معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرنے یا اس میں بہتری لانے کے لئے ایک نیا سمجھوتا ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کے تحت امریکہ نے شام سے متعلق روس کے ساتھ اقدامات کو مربوط کرنے کے لئے بہت کم کام کیا ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہم شام کے بحران کے حل کے بارے میں مزید بہت کام اور عملی اقدامات دیکھ سکیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب شامی افواج  نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو صدر اوباما کوئی بھی عملی قدم اٹھانے میں ناکام رہے تھے۔ نیز اوباما انتظامیہ کو لیبیا میں اپنی خفیہ حکمت عملی کی وجہ سے بھی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔

فلسطین کے معاملہ میں بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل پر کوئی حقیقی دباؤ ڈالے جانے کا امکان نہیں ہے۔ اس وقت اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ فلسطینی قیادت الگ الگ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے بجائے ان ایام کا استعمال آپسی اعتماد کی بحالی اور اتحاد پر صرف کریں جس کے بغیر وہ تنہا رہ گئے تھے۔ انہیں اب وسعتِ قلب و نظر کے ساتھ سوچنا ہو گا تاکہ نئے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بائیڈن کی خارجہ پالیسی دو حصوں میں بٹی دنیا میں کچھ بہتری لائے گی لیکن اس کے لئے واشنگٹن کو خود بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔ ان حالات میں امریکہ کو یقینی طور پر اپنے روایتی حلیفوں کی مدد اور حمایت کی ضرورت ہے اور صرف اسی طریقہ سے عالمی اور علاقائی سیاست کی دوبارہ بحالی اور بڑھتی 


ای پیپر