International magazine, face, Indian democracy, BJP, PM Modi
30 نومبر 2020 (08:54) 2020-11-30

نیو دہلی: عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے بھارتی جمہوریت کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔ رپورٹ میں کہا کہ مودی ، بھارتی اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ اور تمام ادارے ملکر بھارتی کو ایک جماعتی نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

عالمی جریدے کا کہنا تھا کہ اقلیتوں پر مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھارتی عدالتوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ مودی کے بھارت میں اداروں کے اختیارات کا توازن ختم ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کے وزراء نے آرکیٹیکٹ کو خودکشی پر اکسانے کے مقدمے میں نامزد متنازعہ بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت منظور کروائی۔

جبکہ مودی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو متنازعہ صحافی ارنب گوسوامی سے غدار اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔

عالمی جریدے نے متنازعہ شہریت قانون پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر حکومتی سرپرستی میں حملوں کی بھی نشاندہی کر دی۔ اکانومسٹ کا اپنی رپورٹ میں مزید کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ایک آمرانہ اور ظالمانہ مستقبل کی طرف گامزن ہے۔

خیال رہے کہ مودی سرکار چاہتی ہے کہ بھارت سے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو نکال دیا جائے اور بھارت پر صرف انتہا پسند ہندوؤں کا راج ہو۔ اس لیے آئے دن آر ایس ایس کے غنڈے کبھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں تو کبھی عیسائیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ سکھ کمیونٹی بھی بی جے پی کی انتہا پسندی سے تنگ ہے اس لیے وہ خالصتان کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مودی سرکار خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ہمسایہ ملکوں سے بھی چھیڑ چھاڑ کرتی رہتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان کے علاوہ چین کے ساتھ بھی بھارت کی سرحدی کشیدگی جاری ہے۔ اور اس تصادم میں بھارت کو بھاری قیمت چکانا پڑی اور زمین کا ایک بڑا حصہ چین کے قبضے میں چلا گیا۔


ای پیپر