دلوں سے خوف ِخدا گیا
30 نومبر 2019 2019-11-30

دھرنے کے ہچکولوں کے بعد خیریت ہی تھی کہ یکا یک ایک آئینی بھونچال آ گیا۔ اچانک ایسی افتاد آن پڑی کہ قوم بھونچکی رہ گئی۔ ٹماٹروں کی قیمت بھی بھول گئی۔ نا تجربہ کاری اور عدم تیاری کے ہاتھوں ہمارے حکمران ہمیں اور کچھ دیں نہ دیں، سنسنی خیزی سے بھر پور نت نئے دل بہلاوے ، توجہ بٹانے کو ضرور دیتے رہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ گلوبل ولیج بن جانے اور ابلاغی سرعتوں کے بیچ ہر خبر دنیا کے چوراہوں پر جا بیٹھتی ہے اور قومی سبکی کا سامان لاتی ہے ۔ پھر دشمن کا میڈیا بغلیں بجاتا، تالیاں پیٹتا ہے تو ہم کھمبے نوچتے رہ جاتے ہیں۔ عجب بات ہے کہ کابینہ تو مشرفی وزراء پر مبنی ہے ۔ اس کے با وجود ایسی حماقتیں اور غلطیاں؟ رکشوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے ۔ ’ یہ سب میری ماں کی دعا ہے ۔ ‘ اس حکومت کے لیے اگر ہم کہیں کہ ’ یہ سب سکھوں کی دعائیں ہیں ‘۔ تو غلط نہ ہو گا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بھارتی سکھ عوام کے غمگسار، ہمارے بڑوں نے (قوم سے پوچھے بغیر) نتائج و عواقب، زمینی قومی تاریخی حقائق سے بے پروا، بلا ضرورت ( Uncalled for ) کرتار پور کی نوازشات برسا دیں۔ اس پر دنگ سکھوں نے ہمارے دو بڑوں پر دعائوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ کرن سنگ (صدر انڈین سوسائٹی آسٹریلیا ) نے بتایا کہ آپ سکھ قوم کے محسن ہیں۔ میری والدہ آپ کو بہت دعائیں دیتی ہیں۔ حکومت کی بچی کچھی سانسیں سکھ دعائوں کا نتیجہ ہیں ! ملک بھر میں چوروں ڈکیٹیوں کی بھر مار ہے ۔ بزنس ٹھپ ہو رہے ہیں۔ دوکانیں بند ہو رہی ہیں۔ مریض ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا رہے۔ آپس میں ایک دوسرے سے دوائیں ، ٹوٹکے پوچھ کر فیس بچا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں یا ہڑتالیں ہیں یا طبی سہولیات کی عدم دستیابی سے لوگ اب اللہ سے لو لگا کر شفا دعائوں وظیفوں سے پانے کی فکر میں ہے۔ ایسے میں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرازا کا فرمانا کہ ’ لوگ ہمارے ہیلتھ سسٹم کا مطالعہ کرنے آئیں گے‘۔ ابھی تو لوگ آپ کے نوٹیفکیشن سسٹم کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ سبزی منڈی کا گرانی سسٹم اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ پریشانی سرگرانی کا مطالعہ جاری ہے ۔ کراچی میں ٹڈی بریانی پر رشک کناں ہیں۔ آگے آگے دیکھئے… اسی دوران یورپ کے قلب میں دن دہاڑے ’ اسلاموفوبیا‘ کے عنوان سے ایک اور مرتبہ دہشت گردی کا ارتکاب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے احساسات و جذبات کے خلاف کیا گیا ۔ قرآن جلانے کا مذموم مظاہرہ ناروے میں ہوا۔ ہمیں رواداری، سافٹ امیج بنانے کے بھاشن دینے والوں کی غنڈہ گردی اور خبث باطن نیا تو نہیں۔ 18 سال ہم نے کیا کچھ نہ دیکھا۔ جو کہانی ملعون سلمان رشدی کی مغلظات بھری توہین آمیز کتاب ’ شیطانی آیات‘ کی پذیرائی سے شروع ہوئی تھی ، یہ اسی کا تسلسل ہے۔ تین دہائی قبل اس کتاب کو یورپ بھر میں لٹریچر کے اعلیٰ ترین ایوارڈوں سے لادا گیا۔ برطانیہ نے ’سر‘ کا خطاب دیا۔ برطانیہ جو ٹکہ ٹکہ گن کر خرچ کرتا ہے، سلمان رشدی کی سیکورٹی پر بے دریغ ٹیکس دہندگان کے پائونڈ لٹا تا رہا۔ تآنکہ پھر اسے اپنے امیر بھائی، امریکہ کے حوالے کیا تحفظ کی خاطر۔ اس کی بد بو دار کتاب چھاپ کر مفت بانٹی گئی تاکہ ہر ریڈھی ، تھڑے پر بھی یہ گندگی موجود ہو، کوئی گورا اس’ ادب مغلظہ‘ سے محروم نہ رہ جائے۔ 9/11 کے بعد ڈنمارک سے اسی تسلسل میں چھاپے گئے بارہ گستاخانہ خاکے بھی پورے یورپ نے آزادی اظہار کی آڑ میں پھیلائے اور شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان حملوں سے مسلمانوں کا خون جگر پیا۔ اگرچہ آفتاب پر تھوکا منہ پر آیا کے مصداق یورپ اخلاقی بحران کی دلدل میں غرق ہوتا چلا گیا۔ 2011 ء میں فرانسیسی اخبار نے یہی کرتوت دہرائی۔ ادنیٰ ترین اخلاقیات ایک عام انسان کو احترام باہمی کا بنیادی سبق دیتی ہے۔ مغربی دنیا کے سیرت و کردار کی گراوٹ کا جو عالم پوری تاریخ میں رہا۔ ہم مسلمانوں نے کبھی ملکی وکٹوریہ کی داستانیں یا ان کے دیگر زعماء کے پردے چاک نہ کیے۔ تاہم ان کی عالی مرتبت یونیورسٹیوں اور علمیت کی دھوم دھام اور تہذیب مغرب کی حقیقت جیسی اکیسویں صدی میں حیا کے پردے چاک کر کے سامنے آئی ہے، شرمناک ہے ! حقوق انسانی اور حقوق حیوانی تک کے بلند بانگ دعوے داروں نے ناروے میں حکومتی اجازت سے یہ مظاہرہ علیٰ الاعلان کیا۔ مسلمان حفظ ما تقدم کے طور پر موجود تھے۔ پولیس کا یہ وعدہ تھا کہ وہ قرآن جلانے کی اجازت سیان نامی تنظیم کو ہر گز نہیں دیں گے ۔ تاہم ان کی قلعی عملاً کھل گئی۔ پہلے، شدید نفرت آمیز گستاخانہ کلمات بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مائیک پر اگلے گئے۔ پھر دو قرآن ردی کی ٹوکری میں پھینکے۔ انہیں انتہا پسندی ( Hate speech ) نفرت انگیزی کا مجرم قرار دنیا منع ہے۔ انہیں ’ پیغامِ پاکستان ‘ کے وزن پر ’ پیغامِ ناروے‘ ۔ ’ پیغامِ ڈنمارک‘… وغیرہ پر ان کے بڑے مجبور نہیں کر سکتے، نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہم غلاموں کا کام ہے ۔ یہی خبث باطن پیغامِ ناروے ہے۔ پیغامِ پورپ و امریکہ و مغرب ہے ! یہ ویڈیو دیکھے جانے کے لائق ہے۔ اگر شامی ماں کا لال ، عمر دابا امت کی طرف سے لات رسید نہ کرتا، اس پر حملہ آور نہ ہوتا تو ہم کس قابل رہ جاتے۔ داب بمعنی ثبات، جان فشانی، مستقل مزاجی، سرگرمی ، عقید تمندی کی صفات لیے ہوئے ہے۔ اور عمر نے ان تمام صفات کا مظاہرہ کیا ہے ۔ دور اول میں دو تھپڑ ہیں جو ہمیشہ دل کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں۔ ایک کم عمری میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابو جہل کو مارا تھا ۔ دوسرا وہ جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہودی کو اللہ کی شان میں گستاخی پر رسید کیا تھا ۔ اب عمر نے شیروں کی طرح بد باطن نارویجن بد معاش پر( معذرت خواہی کی ماری ، گھگھیائی) امت کا جو فرض اور قرض چکایا ہے اس نے زخموں پر مرہم رکھی ہے ۔ اس واقعے میں ناروے پولیس کا مکر اور فریب کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ مسلمان صبر کے بند باندھے پولیس کے وعدوں پر اعتبار کیے رہے۔ یہاں تک ملعون نے قرآن پاک کو آگ لگا دی ۔ پولیس تماشا دیکھتی رہی۔ عمر جھپٹا تو پولیس ہوش میں آئی۔ اس نے لپک کر مجرم کی بجائے عمر کو قابو کیا۔ اس پر پل پڑی۔ چاروں طرف سے بھاری بھر کم پُلسیوں نے عمر اور کود پڑنے والے مسلمانوں کو گرا لیا۔ مجرم کو آرام سکون سے ایک بے وردی شخص ایک طرف لیجاتا دیکھا جا سکتا ہے ۔ اسے گویا حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ۔ قرآن جلانے کے مجرم تھارسن نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا ؟ مسلمانوں کے سامنے دوسرا دریدہ دہن لاوا اگلتا رہا، وہ بھی نہ انتہاء پسند تھا نہ تنگ نظر جنونی۔ کیا فرماتے ہیں مغربی تہذیب کی عظمت کے دن رات گن گاتے لبرل سیکولر ہمارے دانشور اس متعفن بد تہذیبی پر ؟ انسانی سطح پر تو اب مغرب کی تعریف کرنے کے لیے نہایت غبی،کند ذہن یا ڈھیٹ ہونے کی ضرورت ہے۔ جنگی درندگی، سیاسی مکرو فریب جھوٹ، معاشی استحصال ، اخلاقی معاشرتی گراوٹ میں سب نیچوں سے نیچ۔ تازہ ترین آزادی مارچ مغرب کے تہذیبی مرکز پیرس میں دیکھئے۔ یہ کہانی سر کی آنکھوں سے دیکھ پڑھ سکتے ہیں جو افریقہ کے کسی پسماندہ گنوار جنگل کی نہیں، فرانس کی ہے۔ یہ ایک لاکھ مظاہرین ، عورتوں پر گھریلو تشدد کے خلاف احتجاج کناں ہیں۔ اب پانی سر سے گزر چکا۔ ہر سال دو لاکھ 20 ہزار عورتیں، عمر18 سال تا 75 سال ( نانی، دادی؟ ) مردوں سے جسمانی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ہر 3 دن میں ایک عورت قتل ہو رہی ہے۔ تاہم جگر تھام کر پڑھیئے کہ یہ اپنے راہ چلتے نئے یا پرانے پارٹنرز کے ہاتھوں پٹتی اور قتل ہوتی ہیں۔ شوہر ان کا مقدر کہاں ! ان میں سے صبر شکر وہ کر لیتی ہیں جو سگے شوہر یا بچوں کے باپ کے ہاتھ پٹیں۔ اب تو فرانسیسی صدر میکرون پکار اٹھے۔ یہ فرانس کے لیے شرم کا مقام ہے ۔ (ڈوب مرنے کا !) پورے فرانس میں 700 تنظیموں نے 30 مارچ کیے۔ یہ بھی کہ : عورت کو عزت دو۔ تاہم یہ اضافہ ہم کئے دیتے ہیں۔ عورت کو کپڑے دو، گھر دو، شوہر دو! البن ڈیئرنگ نے تحقیق کے نتیجے میں لکھا ہے کہ عورت کی شکایت پر پولیس بھی تعاون نہیں کرتی ! اب فرانسیسی وزیر اعظم نے نئے اقدامات کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ 24 گھنٹے تشدد ہاٹ لائن ، تھانوں میں سوشل ورکر میسر ہوں گے ۔ ( روزانہ 600 فون آتے ہیں )اب دیکھئے عمر دأبا کی ماری لات تہذہب مغرب کی قامت پر کیسی فٹ بیٹھتی ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے تو گالی دے کر کہا تھا۔ منہ پہ وہ تھپڑ رسید کر… مگر اب تو لات بھی کم ہے ! پاکستان کو فرانس نما ماڈریٹ بنانے کے شائقین ذرا توجہ سے یہ رپورٹ پڑھ لیں۔ ہمارے ہاں بھی اب عورت کی نام نہاد آزادی، اس کے مقام اور عزت کے در پے ہو چکی۔ خبریں فراواں ہیں۔ ایمان و اقدار بھلا کر ہم بھی بہت دور نکل گئے ہیں۔

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا


ای پیپر