اسے کیا نام دیا جائے…!
30 نومبر 2019 2019-11-30

مقام شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کا ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے ملک کسی ناگہانی ، انہونی اور بحرانی صورت حال سے دو چار ہونے سے بچ گیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جناب عمران خان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں ، اہل کاروں اور قریبی مشیروں کی نااہلی ، نالائقی ، کوتاہی اور آئین و قانون سے بے خبری یا بے اعتنائی کے جو کارہائے نمایاں سامنے آئے ہیں ان کو پڑھ سن کر بے ساختہ سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ 22کروڑ آبادی پر مشتمل مملکت خداداد پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ ہیں جو دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور ساتویں ایٹمی طاقت ہی شمار نہیں ہوتی بلکہ اس کی ٹھوس تربیت ، کڑے نظم و ضبط ، اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جنگی مہارت اور جذبہ جہاد سے سر شار ہو کر ملک و وطن کے دفاع کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار رہنے کی خوبیوں کی بنا ء پر ساری دنیا اس کا لوہا مانتی ہے۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ حکومتی عہدیداروں اور اہل کاروں کی چشم پوشی اور کوتاہی کی وجہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی شخصیت کو ہی متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کو بھی باززیچہ ٗ اطفال بنانے کی دانستہ یا نا دانستہ صورت حال بھی سامنے آئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور انور خان کو مخاطب کرکے دیئے گئے یہ ریمارکس یقینا صورت حال کی ترجمانی کرتے ہیں کہ سمری درست کروانا آرمی چیف کا کام نہیں ۔ آپ کی کوتاہی کی وجہ سے آرمی چیف کو مشاورت پر جانا پڑا۔ آرمی چیف ملکی دفاع پر نظر رکھیں یا آپ کے ساتھ بیٹھ کر قانونی غلطیاں دور کریں۔ سمری قانون کے مطابق نہ ہوئی تو بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔

جناب چیف جسٹس کے یہ ریمارکس کیس کی سماعت کے آخری دن جمعرات کو سامنے آئے لیکن اس سے دو دن پہلے منگل اور بدھ کو بھی کیس کی سماعت کے دوران محترم چیف جسٹس سمیت بنچ میں شامل دیگر دو فاضل جج حضرات جناب جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جناب جسٹس سید منصور علی شاہ کے بھی کتنے ہی سوال اور ریمارکس سامنے آتے رہے ۔ منگل کو عدالت عظمیٰ نے سماعت کے بعد اپنا حکم نامہ جاری کیا تو اس میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کی واضح الفاظ میں نشان دہی کی ۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان خود ہی اپنے طور پر کیس میں پیش ہوئے۔ اور عدالت کو مختلف دستاویزات کی نقول دکھائیں۔ ان کی جانب سے دکھائی گئی سمری کے مطابق صدر نے وزیر اعظم کی جانب سے بھجوائی گئی ایڈوائس پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کے موجودہ عہدہ کی معیاد ختم ہونے کے بعد تین سال کی نئی ٹرم پر مزید توسیع دینے کی سمری منظور کی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ہم نے ان دستاویز ات کا جائزہ لیا تو ان میں کافی سقم پائے گئے۔چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پہلے وزارت دفاع نے ایک سمری بھجوائی تھی جس پر انھیں پہلی مدت ختم ہونے کے بعد دوسری مدت کے لیے تین سال کے لیے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا گیا تھا تاہم فاضل اٹارنی جنرل کو ئی ایسی دستاویز نہیں پیش کر سکے جس کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے پہلے عہدہ کی معیاد مکمل کر لی ہے یا ان کے عہدہ کی پہلی معیاد ختم ہونے کے بعد انہیں دوسری بار مقرر کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے 19اگست 2019ء کو خود ہی موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کو دوسری بار مقرر کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ آئین کے آرٹیکل 243کے تحت وزیر اعظم نہیں بلکہ صدرِ مملکت چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔ انہیں بظاہر یہ خرابی اسی روز ہی نظر آگئی اور اسی روز ہی وزیر اعظم آفس کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ کی مدت میں توسیع ، دوبارہ تقرری کے لیے سمری صدر مملکت کو بھجوا دی گئی۔ صدر مملکت نے بھی اسی روز ہی وزیر اعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس سمری پر منظوری دے دی۔ لیکن اس طریقہ کار میں بھی سقم چھوڑ دیئے گئے اور اسی روز ہی انہیں اس بات کا علم بھی ہوگیا صدر یا وزیر اعظم وفاقی کابینہ کی منظور ی کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتے۔ جس پر اگلے روز وہی سمری کابینہ کی منظوری کے لیے بھجوائی گئی اور اس سے اگلے روز ایک سرکلر کے ذریعے کابینہ کو اس کی منظور ی کے لیے کہا گیا ۔ ریکارڈ کے مطابق کابینہ کے 25میں سے 11اراکین نے اس تجویز کے ساتھ اتفاق کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابینہ کے اکثریت نے اس سمری کی منظوری نہیں دی ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ریگولیشن 255کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مفاد عامہ کے لیے ضرورت کے وقت چیف آف آرمی سٹاف کی دوبارہ تقرری یا ان کی مدت میں توسیع دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ تاہم ہم نے جب ریگولیشن 255کا جائزہ لیا تو بادی النظر میں اس پرویثرن کو اس وقت ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے جب متعلقہ آفسر ریٹائر ڈ ہو چکا ہو۔ اٹارنی جنرل نے واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ پاکستان آرمی سے متعلق تمام قوانین میں ہی آرمی چیف کی دوبارہ تقرری یا توسیع کے حوالے سے کوئی واضع پرویثرن دستیاب ہی نہیں ۔عدالت نے قرار دیا کہ ہمارے سامنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوبارہ تقرری یا توسیع کی ایک ہی وجہ خطے میں سیکورٹی کی صورت حال بیان کی گئی ہے یہ الفاظ نہایت مبہم ہیں اگر خطے میں سیکورٹی کی کوئی ایسی صورت حال ہے بھی تو ہماری بہادر افواج بطور ادارہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس معاملے میں کسی کا انفرادی کردار اگر ہے بھی تو بہت محدود ہو گا۔اگر ہم اس جواز کو درست اور مضبوط قرار دے دیں تو اس صورت میں اس جواز کی بنیاد پر آئندہ مسلح افواج میں خدمات سر انجام دینے والا ہر شخص ہی دوبارہ تقرری یا توسیع کا دعویٰ کرے گا۔

سپریم کورٹ کے کیس کی سماعت کے پہلے دن جاری حکم نامے کا اوپر دیا گیا حوالہ کچھ طویل ہو گیا ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی ذمہ داران نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے انتہائی سنجیدہ اور اہم معاملے کو کتنے غیر سنجیدہ اور نااہلی کے انداز میں لیا ہے نہ انہوں نے کوئی تقویمی ترتیب کا خیال رکھا اور نہ ہی قواعد و ضوابط کی پابندی کی ۔ وزیر اعظم صاحب نے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کی منظوری اور اس کے لیے حکم نامہ پہلے جاری کر دیا اور صدر مملکت سے منظوری کے لیے سمری بعد میں بھجوائی۔ صدر مملکت نے سمری کی کب منظوری دی اس بار ے میں بھی شکوک و شبہات ہیں کہ 13ستمبر کو صدر مملکت جناب عار ف علوی نے عاصمہ شیرازی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری جب ان کے پاس آئے گی تو وہ اس پر دستخط کر دیں گے اسے یہ کہنا کہ 19اگست کو صدر مملکت سے سمری کی منظوری لی گئی تھی غلط ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح نومبر میں بھی صدر مملکت کا ایک اور ٹی وی انٹرویو سامنے آیا جس میں انہوں نے سمری کی منظوری کے بارے میں مبہم جواب دیے۔

یہاں وزیر اعظم جناب عمران خان کے چند دن قبل ایک میڈیا گروپ کے اینکر پرسن کو دیئے گئے انٹرویو کا حوالہ دینا کچھ ایسا بے جا نہیں ہوگا جناب وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں واضح لفظوں میں کہا کہ حکومت سنبھالنے کے تین ماہ کے بعد ہی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ میرے ساتھ رہیں گے ان جیسا جمہوریت پسند کوئی شخص میں نے پوری فوج میں نہیں دیکھا ۔ اب اگر ایک سال پہلے ہی جناب وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرکے ان کو بطور چیف آف آرمی سٹاف ساتھ لیکر چلیں گے تو اب ایک سال بعد یہ کہنا کہ خطے کی صورت حال کی وجہ سے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع ضروری ہے تو اس پرپھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جناب وزیر اعظم سوچ سمجھ کر بولنے کا سرے سے ہی ضروری نہیں سمجھتے ۔


ای پیپر