تین ملکوں کی افواج کی ایک دوسرے پر بمباری
30 نومبر 2019 (16:15) 2019-11-30

دمشق:الرقہ صوبے کے شہر عین عیس میں ایک فوجی اڈے پر تعینات روسی فورسز نے ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں کو بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔ جواب میں ترکی کی جانب سے بھی گولہ باری کی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد نے یہ تصدیق کی کہ روسی فوجی اڈے کی جانب سے ترکی کے ہمنوا گروپوں کے ٹھکانوں پر 5 راکٹ داغے گئے۔ اس پر ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 راکٹ داغے جو روسی اڈے کے احاطے میں گرے۔المرصد کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کو روسی فورسز اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف)کے درمیان ایک اجلاس ہوا۔ اس موقع پر روسی فورسز نے باور کرایا کہ ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں کے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

روسی فورسز شمالی شام میں سیکورٹی اقدامات میں شریک ہیں۔ اس دوران ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان سیف زون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انقرہ نے شمالی شام میں کرد گروپوں کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔ یہ گروپ دباﺅ کے تحت پیچھے ہٹ گئے۔

بعد ازاں واشنگٹن اور ماسکو کی جانب سے مداخلت سامنے آئی تاکہ شمالی شام میں سرحد سے 30 کلو میٹر اندر تک ایک سیف زون کے قیام پر عمل درآمد ہو سکے۔ اس کوشش کا مقصد ترکی کی سرحد پر کرد گروپوں کی موجودگی کے حوالے سے انقرہ کے اندیشوں کو دور کرنا ہے۔


ای پیپر