عزت جائے بھاڑ میں !
30 نومبر 2019 2019-11-30

ہماری کم علمی دیکھئے ہمیں معلوم ہی نہیں تھا آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا باقاعدہ کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے رہے ماضی میں جن آرمی چیفوں کو ایکسٹینشن دی گئی باقاعدہ کسی قانون کے تحت دی گئی۔ اور اُسی قانون کے مطابق دی گئی جو ” اندھا“ ہے۔ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں دی گئی۔ یہ تو بھلا ہو موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ کا جنہوں نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے خلاف آنے والی ایک درخواست کی فوری سماعت کرتے ہوئے ہماری اِس ناقص معلومات میں اضافہ کر دیا کہ آرمی چیف کو اُن کی مدت ملازمت بلکہ ” مدت بادشاہت“ میں ایکسٹینشن دینے کا مُلک میں باقاعدہ کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ اُصولی طور پر ہونا بھی نہیں چاہئے۔ مگر ظاہر ہے اب محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں پارلیمنٹ کو یہ قانون بنانا پڑے گا۔ لہٰذا مُلک میں آئندہ کسی بھی آرمی چیف کو کوئی ایکسٹینشن دی گئی وہ قانون کے مطابق ہوگی۔ اور اِس کا کریڈٹ خیر سے ہمارے محترم چیف جسٹس آف پاکستان کو جائے گا۔ ویسے اِس ملک میں آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا کوئی قانون ہوتا بھی اِس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ اِس ملک میں کچھ لوگ ہر قسم کے قانون سے بالا تر ہوتے ہیں۔ یہ جو ملک میں مارشل لاءلگتے رہے ہیں‘ ظاہر ہے کسی قانون کے مطابق تو نہیں لگتے رہے۔ .... سچی بات ہے جس ملک میں کسی عام آدمی کو قانون کی پروا نہ رہے وہاں مختلف اقسام کے سیاسی، فوجی، عدالتی، انتظامی حتیٰ کہ صحافتی حکمران اگر قانون کی پرواہ کرنے لگ جائیں اُن کی حکمرانی دو ٹکے کی نہیں رہے گی۔ یہ جو ہمارے اکثر حکمران ”قانون کی حکمرانی“ کی بات کر رہے ہوتے ہیں وہ اصل میں خود کو ہی قانون ”سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی ہی حکمرانی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اِس کی ایک مثال آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کے معاملے میں بھی سامنے آئی۔ جب ہمارے محترم وزیر اعظم نے ایک سادہ کاغذ پر آرمی چیف عزت مآب جنرل قمر جاوید باجوہ کو پورے تین سال کی ایکسٹینشن دیتے ہوئے کسی قانون قاعدے ، رولز کو پیش نظر نہ رکھتے ہوئے شاید یہ سوچ لیا ” وہ خود ہی قانون ہیں اُنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اور جو اُنہیں پوچھنے کی طاقت یا اختیار رکھتے ہیں اُنہی کے لیے تو وہ یہ سب کر رہے ہیں۔ سو فرض کر لیں اُن کا یہ اقدام خلاف قانون بھی ہے وہ خود ہی اِسے سنبھال لیں گے“۔ فوج کا اپنا ایک قانون ہوتا ہے۔ ممکن ہے وزیر اعظم نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن اپنی طرف سے ” آرمی ایکٹ کے تحت دے دی ہو۔ .... ہم نے بہر حال اپنی پوری زندگی میں پہلی بار ایسے سادہ کاغذ پر کسی کو ایکسٹینشن دیتے اور لیتے ہوئے دیکھا۔ چلیں آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا باقاعدہ قانون اگر نہیں بھی تھا پھر بھی اِس اہم ترین اور حساس عہدے کی مدت ملازمت یعنی ” مدت بادشاہت میں توسیع کرنے کا یہ طریقہ ہرگز نہیں تھا جو ہمارے محترم وزیر اعظم نے اللہ جانے کس کے کہنے پر اپنایا۔ ممکن ہے اِس ضمن میں بھی ” خاتونِ اول“ سے ہی مشورہ اُنہوں نے کیا ہو۔ مگر اِس سے پوری دنیا میں وہ نہ صرف خود جگ ہنسائی کا باعث بنے بلکہ اُس ادارے کو بھی بنا دیا جِس کے خیر سے کاندھوں پر سوار ہو کر وہ آئے تھے۔ پتہ نہیں یہ اُنہوں نے جان بوجھ کر کیا یا غیر دانستہ طور پر اُن سے ہوگیا مگر اِس کے نتیجے میں پاکستان کے سب سے زیادہ باوقار سمجھے جانے والے ادارے کو جس سُبکی کا سامنا کرنا پڑا یہ ” ڈان لیکس“ والی سُبکی سے کسی طرح کم نہیں۔ .... آرمی چیف ایکسٹینشن کیس میں محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے جو سوالات اُٹھائے، جو ریمارکس دیئے شکر ہے بعد میں اُن سوالات پر اُنہوں نے زیادہ زور نہیں دیا ورنہ مزید سُبکی اُٹھانا پ©ڑ جاتی۔ اُنہوں نے ایکسٹینشن کا یہ ” بال“ اب اپنی کورٹ سے اُچھال کر پارلیمنٹ کی ”کورٹ“ میں پھینک دیا ہے۔ چلیں اِسی بہانے سہی اِس ملک کی سب سے زیادہ طاقتور شخصیت کو اُس پارلیمنٹ کا محتاج تو ہونا ہی پڑے گا جسے وہ اپنے ہی ادارے کی ایک ” برانچ “ سمجھتے ہیں۔.... ہمیں یقین ہے اُن کی ماتحت یہ برانچ اُن کی مرضی اور سہولت کے مطابق قانون بنانے میں

کوئی دِقت محسوس نہیں کرے گی۔ یہ درست ہے کہ حکمران جماعت کی پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں، مگر اُمید بلکہ یقین ہے ” اصل حکمران جماعت “ کی اکثریت سے یہ قانون آسانی سے فسٹ ڈویژن میں پاس ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کو پتہ ہے یہ اُن کا دردِ سر نہیں، شاید اِس لئے ایکسٹینشن کے حوالے سے محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے کے بعد جو ٹوئیٹ اُنہوں نے کیا اُس میں اپوزیشن کو ایک بار پھر رگڑ دیا۔ ویسے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہمارے محترم وزیر اعظم نے کسی بھی معاملے میں شرمندہ نہ ہونے کا شاید حلف اُٹھا رکھا ہے۔ ماضی میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے حوالے سے اپنے مختلف انٹرویوز میں جو کچھ وہ فرماتے رہے ہیں اُس پر وہ تو یقینا کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ہوں گے، مگر ہم جو اُن کے حمایتی تھے ہمارا ڈوب مرنے کو جی چاہتا ہے۔ اب پارلیمنٹ کو چھ ماہ میں آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا قانون بنانا ہے۔ یہ سنہری موقع ہے پارلیمنٹ کو چاہئے اِس کی آڑ میں اپنی مدت بھی پانچ سال سے بڑھا کر دس برس کر لے۔ اِس طرح وزیر اعظم کے اقتدار کی مدت بھی خود بخود بڑھ جائے گی۔ پیچھے رہ گئے صدر مملکت اور چیف جسٹس صاحبان، اُن کا کیا قصور ہے بہتی گنگا میں وہ غسل نہ کر سکیں؟ اصل قصور عوام کا ہے جِن کی اذیت دِن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ جی چاہتا ہے کسی روز اِس اذیت کے حوالے سے بھی ایک درخواست لے کر چیف جسٹس کے پاس پہنچ جاﺅں۔ اُن سے گزارش کروں اِس کی سماعت بھی ایک دو روز میں مکمل کر کے عوام کو اُسی طرح ریلیف دینے کا کوئی طریقہ نکالیں جِس طرح ہماری انتہائی طاقتور شخصیات کو فوری ریلیف دینے کے کئی طریقے نکال لیئے جاتے ہیں۔ .... یہ بھی جی چاہتا ہے محترم چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے ایک یہ درخواست بھی اُن کی خدمت میں لے کر پہنچ جاﺅں وہ سرکار کو حکم جاری کریں وہ پارلیمنٹ سے چھ ماہ میں ایک قانون یہ بھی پاس کروا لے پاکستان بننے سے لیکر آج تک عدلیہ کی جتنی شخصیات عدلیہ کی بدنامی کا باعث بنی آئندہ کوئی مائی کا لعل اُن پر تنقید نہیں کرے گا۔ کسی نے ایسے کیا اُس کی کم از کم سزا پھانسی ہوگی۔ جی چاہتا ہے پاکستان کے سارے مسائل کی اکٹھی ایک درخواست لیکر اُن کی خدمت میں حاضر ہو جاﺅں۔ عرض کروں اِن کا کوئی فیصلہ بھی کرتے جائیں.... کوئی قانون ان کے حق میں بھی بنواتے جائیں۔ ایک لمحے کے لئے پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو بھی آرمی چیف ہی سمجھ لیں!!


ای پیپر