عقلی روش اُسوہ حسنہ کی روشنی میں
30 نومبر 2018 2018-11-30

عقل کی بدولت انسان باقی تمام مخلوقات سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ عقل جادۂ عدل دکھاتی اور راہ اعتدال پر قائم رکھتی ہے۔ عقل نہ صرف نفع و نقصان پر نظر رکھتی ہے بلکہ فلاح و خسران کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔ انسان عاقل ہونے کے ساتھ ساتھ جذبوں کے لحاظ سے مجموعہ اضداد ہے اُس میں محبت و درگزر کا جذبہ بھی ہے اور نفرت و انتقام کا جذبہ بھی۔ وہ غمگین اور اداس بھی ہوتا ہے، اسے غصہ بھی آتا ہے اور وہ خوش بھی ہوتا ہے۔یہ عقل ہے جو انسانی جذبات و احساسات میں توازن قائم رکھتی ہے۔ عقل نظم و ضبط ہے۔ عقل روشنی ہے۔ عقل سے ہی علوم کے دروازے کھلتے ہیں۔ عقل کامیابی کی ضمانت ہے اور عقل سبب ترقی و بلندی ہے۔ عقل سلیم کو قرآن حکیم حکمت سے تعبیر کرتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ’’جس کو حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دی گئی‘‘۔ قرآن تدبر و تفکر پر زور دیتا ہے اور جو دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے قرآن اُن سے کہتا ہے کہ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ (اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ)۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ عقل والے ہی نصیحت پکڑتے ہیں (وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَاب)۔

حضرت محمدؐ کی سیرت قرآن حکیم کی عملی تفسیرہے۔ آپ نے ہمیشہ حکمت کی روش اختیار کی ، اعلان نبوت سے پہلے جب آپ کی عمر پچیس سال تھی آپ نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ طاہرہؓ سے شادی کی جس کی عمر چالیس سال تھی۔ حضرت خدیجہؓ نے ہر قدم اور ہر مرحلہ پر آپ کا ساتھ دیا۔ سب سے پہلے ایک خاتون ہی نے آپ کی نبوت کی سچائی پر گواہی دی اور مشرف بہ اسلام ہوئی۔ یہ عظیم خاتون حضرت خدیجہؓ ہی تھی۔ ان کی وجہ سے آپ اپنی معاشی ضروریات سے بے فکر ہوگئے اور اپنے تمام اوقات تبلیغ اسلام اور تعلیم اسلام کے لیے وقف کر دیئے کیونکہ منصب نبوت کا یہی تقاضا تھا۔ اعلان نبوت سے پہلے ایک اور واقعہ آپ کی عقلی روش کی روشن دلیل پیش کرتا ہے۔ جب قریشیوں نے خانہ کعبہ کی عمارت کی از سر نو تعمیر مکمل کر لی تو یہ تنازعہ کھڑا ہو گیا کہ حجرِ اسود کو اُس کی جگہ رکھنے کا شرف و امتیاز کسے حاصل ہو؟ جب انھوں نے متفقہ طور پر حضرت محمدؐ کو اپنا ثالث تسلیم کر لیا تو آپ نے ایک چادر کے بیچ میں حجر اسود رکھا اور سب سردارانِ قریش سے کہا کہ آپ سب چادر کا کنارا پکڑ کراوپر اُٹھائیں۔ جب چادر حجرِ اسود کے مقام تک اُٹھائی گئی تو آپ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دیا۔ آپ کے اس معقول فیصلہ سے ساری قوم خوش ہو گئی اورخون ریز تصادم سے بچ گئی۔ 

آپ ہمیشہ پہلے عملی تدابیر اختیار کرتے اور پھر اللہ پر توکل کرتے تھے۔ آپ کا یوں تو ہر عمل ، ہر قول، ہر فیصلہ اور ہر قدم پیغمبرانہ فراست پر مبنی تھا ۔یہاں صرف دو واقعات کے بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ایک تو صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے اور دوسرا فتح مکہ کا واقعہ ہے۔ قریشِ مکہ نے اسلام کا چراغ بجھانے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ اسلام کی خاطر مسلمان اپنے دیارِ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر گئے لیکن وہاں بھی اُنھیں چین سے نہ رہنے دیا گیا۔ اُن پر بدرو احد دو جنگیں مسلط کیں اورتیسری جنگ کے لیے جزیرۃ العرب کے اور قبائل کوبھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی چنانچہ بنو غطفان اور کئی قبائل قریشیوں کے ساتھ مل گئے اور وہ سب مسلمانوں کو مٹانے کے لیے مدینہ کی طرف چڑھ دوڑے۔ یہودیوں نے بھی مسلمانوں سے غداری کی اور کفار کا ساتھ دیا۔ مسلمانوں کی عزیمت، پیغمبر اسلام کی قیادت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی مدد کی وجہ سے جنگ احزاب میں متحدہ قوتوں کو راہ فرار اختیار کرنا پڑا اور مسلمانوں کو نبوت کی جانب سے یہ خوش خبری دی گئی کہ اب کفار کبھی مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ اب اہلِ اسلام اُن کی طرف بڑھیں گے۔ غزوہ احزاب کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان بیت اللہ کا طواف کریں گے اور عمرہ ادا کریں گے۔ چنانچہ اس سفر میں عام شرکت کے لیے اعلان کیا گیااور چھ ہجری میں حضرت محمدؐعمرہ کی نیت سے اپنے صحابہؓ کے ساتھ مکہ کی جانب سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ توقع کی جاتی تھی کہ قریشِ مکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے نہیں روکیں گے لیکن وہ اب بھی اپنی جاہلیت کی ہٹ دھرمی پر قائم تھے۔ اُنھوں نے مسلمانوں کا راستہ روکا اور تصادم کے لیے تیار ہو گئے لیکن نبی اکرمؐ نے خون ریز ٹکراؤ سے بچنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ مسلمان جنگ کی نیت سے نہیں آئے تھے اور وہ مکہ کے نہایت قریب اس کے زیریں علاقے حدیبیہ تک پہنچ چکے تھے۔ اُنھوں نے صرف عمرہ ادا کرنا تھا اور واپس مدینہ کی راہ لینی تھی۔کفار مکہ کسی قیمت پر مسلمانوں کا مکہ میں داخلہ نہیں چاہتے تھے۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھے۔ اُن کے اس رویے پر اہلِ اسلام سخت برانگیختہ تھے۔ اُنھوں نے اتنا لمبا سفر طے کر لیا تھا اور وہ جنگ کا ارادہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ اہلِ مکہ کی ہٹ دھرمی نے صحابہ کرامؓ کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی جذباتی کیفیت کے برعکس حکمت نبوی معاہدہ صلح پر آمادہ تھی۔ اگرچہ شرائط صلح بھی بظاہر مسلمانوں کے لیے موافق نہ تھے لیکن فراست نبوی نے اس معاہدہ کو تسلیم کر لیا۔ کیونکہ پہلی بار کفار نے مسلمانوں کو ایک طاقت کی حیثیت سے اُن کے وجود کو تسلیم کر لیا تھا۔ اس سے پہلے تو وہ نہ خوداسلام قبول کرتے اور نہ باقی کسی کو مسلمان ہونے کی اجازت دیتے تھے۔ وہ تو آزادی مذہب کے قائل ہی نہ تھے لیکن صلح حدیبیہ پر دستخط کر نے کا مطلب یہ تھا کہ اُنھوں نے مسلمانوں کا حق آزادی مذہب تسلیم کر لیا تھا اور اُن کو ایک آزاد اور خود مختار قومیت کا درجہ دے دیا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان امن اور اطمینان کے ساتھ دعوت اسلام پیش کر سکتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عرصہ امن میں اسلام تیزی سے پھیلا ۔ مسلم افواج کی تعداد جو اس صلح سے پہلے تین ہزار سے زائدکبھی نہ ہو سکی تھی وہ محض دو سال کے دوران فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ قرآن حکیم نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین قرار دیا۔

دوسرا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ جب نبی کریمؐ فتح و نصرت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تو مکہ کے قریشی خوف زدہ تھے۔ اُن کو ظلم و ستم کی تمام کارروائیاں یاد آ رہی تھیں لیکن آپ نے اُن سب کو معاف کر دیا اوراُن سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’آج کے دن تم پر کوئی سرزنش نہیں اور تم آزاد ہو۔‘‘ یہ خاتم النبین کی عقلی روش کا نتیجہ تھا کہ لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے لگے اور اللہ کا دین غالب آ گیا۔آپ نے امن، دوستی اور صلح کو ہمیشہ ترجیح دی۔ انتقام لینے کی بجائے عفو و درگزر سے کام لیا۔ آپ کا یہ طرزِ عمل ہر دور کے مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی امن اور انسان دوستی پر عمل کریں۔ آئین و قانون کی حدود میں رہیں اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں۔ کیا وہ جو جلاؤ گھیراؤ کرتے ہیں، لوگوں کے راستے بند کر دیتے ہیں، گاڑیوں کو نذرِآتش کرتے ہیں، شہروں میں فساد پھیلاتے ہیں کیا وہ محمدؐ سے وفا کر رہے ہیں؟ کیا اُن کے یہ اعمال اُسوۂ حسنہ سے بغاوت کے مترادف نہیں ہیں؟ عقلی روش یہ ہے کہ ہم آئین و قانون پر عمل کریں اور اپنے ملک کی معاشی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔ رسولؐ اللہ کا صرف نام لینے سے اپنے آپ کو برتر سمجھنا اور دوسروں کو حقیر اور گناہگار سمجھنا قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔ محمدؐ سے کامل وفاداری کرنا ہی اصل ایمان ہے جو عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآن حکیم عباد الرحمٰن کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ‘‘رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ اُن سے مخاطب ہوں تو کہتے ہیں صاحب سلامت .......اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو سے گزرتے ہیں تو اکرام کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور وہ لوگ جب اُن کو سمجھائیے اُن کے رب کی باتیں تو وہ اُن پر بہرے اندھے ہو کر نہیں پڑتے۔‘‘


ای پیپر