تجاوزات کے خلاف آپریشن
30 نومبر 2018 2018-11-30

سندھ میں بعض اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ انسداد تجاوزات مہم سندھ کے دارالحکومت کے بعد سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے۔ حیدرآباد کی انتظامیہ نے پکا قلعہ، میروں اور کلہوڑوں کے مقبروں سے تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بسنت ہال، میٹھارام ہوسٹل، سٹی کالج، دیال داس کلب سمیت 114 عمارتوں کو قومی ورثہ قرا دیا گیا تھا۔ ان پر سے قبضے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ کول مائننگ کمپنی کے چیف اگزیکیوٹو شمس الدین شیخ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب تھرکول سے بجلی بنانے میں رولا پڑگیا ہے۔ تھر کول کے بلاک ٹو میں کوئلہ نکالنے پر اس وقت تحفظات کا اظہار کیا گیا جب مائننگ کمپنی نے زیر زمین پانی کی ایک بڑی مقدار کول ایریا سے باہر تقریبا 40 کلومیٹر کے فاصلے پر جمع کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کی مقامی آبادی اور ماہرین نے مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے متاثرہ علاقے کی زمین بنجر ہو جائے گی۔مستعفی ہونے والے چیف ایگزیکیوٹو نے حکومت سے عدم تعاون کے الزام بھی لگائے ہیں اور تھر کے لوگوں سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے۔ 

تیسرا اہم واقعہ منی لانڈرنگ کیس میں پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپور جے آئی ٹی کے سامنے پیشی تھی۔ دونوں نے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی۔ فریال تالپور نے اکثر سوالات کے جواب میں بتایا کہ ان کے قانونی اور دیگر معاملات ان کے وکیل ابوبکر زرداری دیکھتے ہیں۔ وہی ان سوالات کے بارے میں بتائیں گے۔ بعد میں جے آئی ٹی نے ابوبکر زرداری اور فریال تالپور کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا۔ جبکہ آصف علی زرداری اکثر سوالات کے جواب میں ’’مجھے نہیں پتہ ‘‘ کہتے رہے۔ 

سندھ کول مائننگ کمپنی کے چیف اگزیکیوٹو شمس الدین شیخ کا استعفا مین اسٹریم اورسوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مستعفی ہونے والے چیف اگزیکیوٹو نے الزام لگایا ہے کہ تھر کے لوگوں کے بارے میں سندھ حکومت کے ظالمانہ رویے کی وجہ سے انہوں نے استعفا دیا ہے۔ میڈیا میں یہ سوالات کئے جارہے کہ انہوں نے استعفا کیوں دیا؟ کیا اب مائننگ اور پاور پلانٹ کا کام جاری رہے گا اور پروگرام کے مطابق بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی؟ یاد رہے کہ دو ہفتے قبل نیب نے سندھ کول مائننگ کمپنی کے معاملات کی تحقیقات شروع کردی تھی۔کمپنی میں پچاس فیصد سے زائد حکومت سندھ کے شیئر ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے کمپنی کی جانب سے تشکیل دی گئی تھر فاؤنڈیشن کوکروڑہا روپے سماجی خدمات کے نام پر دیئے تھے۔ شمس الدین شیخ کا مقامی لوگوں کے ساتھ جارحانہ ہی نہیں تحکمانہ اور توہین آمیز رویہ رہا۔وہ خود کو ہی سندھ حکومت قرار دیتے تھے۔ اس صورتحال میں کمپنی اور اس کا منصوبہ متنازع بن گیا اور میڈیا اور عام رائے اس کے خلاف ہو گئی۔ 

کالم نگار امر سندھو روزنامہ کاوش میں لکھتی ہیں کہ کوئلے کے کاروبار میں کس کس نے ہاتھ کالے نہیں کئے؟ ان لوگوں نے بھی جن کی زمینیں تھی۔ ایک اہم اہلکار نے یہ تک کہا تھا کہ 2019 تک بجلی پیدانہیں ہوئی تو خودکشی کرلیں گے۔ لیکن آپ نے پیسے سمیٹنے کے بعد اپنا تھیلا اٹھایا اور خدا حافظ کہا۔ یہ کہنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کیونکہ آپ اس سودے کا معاوضہ وصول کر چکے تھے۔ علم ادب، آرٹ، سمیت آپ نے سیاست اور سیاسی کارکنوں سماجی مزاحمت کاروں ، ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں کی قیمت لگائی۔ اور انہیں توقع سے زیادہ قیمت ادا کی۔ تھر کے لوگوں کے پاس شاید بھٹائی جتنا وطن کا وسیع تصور نہیں تھا۔ مگر ایک جھونپڑی، ایک ریت کے ٹیلے اور اتنی زمین کہ اس کی ایک بکری زندہ رہے، بس یہی ان کا وطن تھا۔اس مختصر وطن کو بھی آپ نے دنیاوی علوم، آپ کی ترقی کے نئے تصور نے خوب مذاق اڑایا۔ آپ نے اس خلق خدا کے اس وال کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تھری باشندے ترقی کے دشمن ہیں۔ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ الزام کس فیکٹری سے آرہا تھا؟ ترقی دشمنی کے الزام بنگال پر لگے اور بلوچستان پر بھی لگے۔ ممکن ہے کہ تھر کے لوگوں کو علم نہ ہو کہ اس پورے گورکھ دھندے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ لیکن آپ کو تو پتہ تھا کہ کسی بھی وقت کمپنی سرکار آپ کو واپسی والی گاڑی میں بٹھا کر روانہ کردے۔ آپ نے پھر بھی تھر کے لوگوں کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی تنخواہ کے لئے سب کچھ کیا۔ اس تنخواہ کو حلال کہا جائے جو وطن کے لوگوں کو اپنے گھر زمین، بڑوں کی قبریں چھوڑنے پر مجبور کردے۔ اور زبردستی اپنی سرزمین سے نکال دے؟ آج کی جدید دنیا میں بھی کوئی ایسا ہیرو موجود نہیں جس نے تنخواہ پر وطن کو ترجیح دی ہو۔ تھر ایک صحرا سہی، ماروی کا وطن تھا جس کو آپ نے بیچ دیا۔ 

روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ صوبے کے مختلف شہروں میں تجاوزات ہٹانے کے لئے آپریشن جاری ہے جس سے شہریوں کو سہولت پیدا ہو رہی ہے۔ حیدرآباد ، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں بھی آپریشن کیا گیا۔ اس اقدام سے شہروں کی حالت قدرے بہتر ہوئی ہے۔ اس سے بڑھ کر بااثر افراد کو یہ پیغام ملا ہے کہ ناجائز تجاوزات کسی طور پر بھی جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ حیدرآباد شہر میں بھی اہم بازاروں اور علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔ بلدیہ اور اینٹی انکروچمنت عملہ نے تلک چاڑھی سے حیدر چوک تک اور اسٹیشن روڈ پر فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر سے تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کیبنز، دکانوں کے چھپر، سڑکوں پر سجا کر رکھے ہوئے سامان کو ہٹا دیا ہے۔ جبکہ لیڈٰی ڈفرن ہاسپیٹل، اور الیکٹرانک مارکیٹ کے دکانداروں کو مہلت دی ہے کہ وہ خود یہ تجاوزات ہٹا دیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پریٹ آباد فلٹر پلانت کے پاس بھی تجاوزات ہیں جن کو ہٹانے کی انتظامیہ نے تیاری مکمل کر لی ہے۔ علاوہ ازیں لطیف آباد اور قاسم آباد میں بھی کارروائی کی گئی۔ آج بھی شہر میں کھانے کے کئی سٹال فٹ پاتھوں پر موجود ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو چلنے میں دقت کا سامنا ہے۔ کھانے کے ان اسٹالز کے پاس گاڑیاں کھڑی کی جاتی ہیں جس سے ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہروں میں تمام تجاوزات ہٹائی جائیں۔ جو فٹ پاتھ شو رومز یا دکانوں کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔


ای پیپر