بلڈ کینسر: چھوٹے لوگ بڑی بیماری
30 نومبر 2018 2018-11-30

پروین شاکر مرحومہ نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا کہ ’’آسمان کا وہ حصہ جو ہم اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھتے ہیں وہ بہت خوبصورت نظر آتا ہے‘‘۔ اس کی نفسیاتی وجہ شاید یہ ہوتی ہے کہ گھر کی چھٹ خواہ بارشوں میں ٹپکتی ہو یا جس کے تنکے آندھی میں اکثر اڑ جاتے ہوں۔ اس کے باوجود گھر کے ہونے کا احساس ملکیت کی اتنی بڑی دلیل ہے کہ جھونپڑی کا ہونا شیش محل کے مترادف ہے لیکن بعض اوقات انسانی حالات آپ کو ایسے دورا ہے پر لاکھڑا کرتے ہیں کہ دن بھر سمندر کی لہروں پر تیرنے اور طوفانوں سے لڑنے والا ملاح پیاس سے جاں بہ لب ہوتا ہے مگر پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں ہوتا کیونکہ سمندر کا پانی اس قدر زہریلا اور نمکین ہوتا ہے کہ اسے پینا زہر نوشی کے مترادف ہے۔ 

چٹانوں سے مضبوط اور پتھروں سے بھاری ان دونوں حقیقتوں سے بے خبر 8 سالہ عدنان لاہور کے چلڈرن ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا یہ سوچ رہا ہے کہ اس کی ماں اتنی طاقتور ہستی ہے کہ اس کے بل بوتے پر وہ ایک دن پاکستان کا بہت بڑا آدمی بنے گا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا کہ اس کی ماں اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک دور دراز گاؤں سے یہاں کس لیے لے کر آتی ہے اور اکثر اپنی ماں سے لڑتا ہے اور ضبط کرتا ہے کہ اسے واپس گھرے چلو جہاں اس کے دوسرے بھائی بابا اور دیگر لوگ رہتے ہیں۔ جینے کی امنگوں سے بھرپور یہ بچہ leukemiaیا بلڈ کینسر کا مریض ہے جہاں اس کا علاج ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کا علاج 3 سال میں مکمل ہو گا اور اگر یہ اس کے بعد صحت یاب ہو کر نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو گیا تو یہ بہت بڑا معجزہ ہو گا۔ عدنان اس وقت کیمو تھراپی کے مرحلے میں ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ اس کی ماں اس کی دیکھ بھال کرتی ہے جبکہ والد باقی بچوں کی کفالت کے لیے وہاں ایک بھٹہ مزدور کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب چھوٹے لوگوں کو بڑی بیماری لگ جائے تو خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ 

پاکستان میں حالیہ سالوں میں بچوں میں کینسر کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس میں بلڈ کینسر نمایاں ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس بیماری کا شکار زیادہ تر بچے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر سال بلڈ کینسر کے ہزاروں نئے کیس تشخیص ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں رش بڑھ جاتا ہے یہ ایک درد ناک حقیقت ہے کہ عدنان جیسے بلڈ کینسر کے مریض ان میں 50 فیصد بچے بیماری کی تشخیص سے 5 سال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں جو باقی بچتے ہیں وہ بھی اپنی طبعی عمر پوری نہیں کر پاتے اور بلڈ کینسر کے کامیاب علاج کے بعد بھی نارمل زندگی گزارنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں بلڈ کینسر جیسے موذی مرض کی تشخیص بروقت نہیں ہو پاتی جب تک پتا چلتا ہے تو صحت بہت زیادہ متاثر ہو چکی ہوتی ہے شروع میں عام ڈاکٹرز بیماری کو نہیں سمجھ پاتے اور ٹیسٹ اور تحقیق کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے جو مہلک ثابت ہوتی ہے۔ اگر بچے کا بخار ٹھیک نہیں ہو رہا یا بار بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے تو اس کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ 

عدنان کی ماں اسے شروع میں تو اپنے قریبی ڈاکٹروں کے پاس لے کر جاتی تھی جب کافی عرصہ تک افاقہ نہ ہوا تو فیصل آباد ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کروا یا گیا جہاں روزانہ 2 ہزار روپے صرف بیڈ کا کرایہ تھا جب تک کینسر کی تشخیص ہوئی یہ فیملی 3 لاکھ سے زیادہ کی مقروض ہو چکی تھی۔ اب چلڈرن ہسپتال لاہور کے بچوں کے کینسر وارڈ میں ان کا علاج جاری ہے مگر ان کے شب و روز بڑے لرزہ خیز حد تک تکلیف دہ ہیں۔ ہسپتال میں مریضوں کی زیادتی اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے عدنان کو بیڈ نہیں دیا گیا صرف کیمو تھراپی کے لیے چند گھنٹے روزانہ وارڈ میں رکھا جاتا ہے جس کے بعد اس کی ماں اسے لے کر باہر آجاتی ہے جہاں شیلٹر یعنی عارضی انتظار گاہیں بنی ہوئی ہیں وہاں یہ اور اس طرح کی دیگر مریض اور ان کے لواحقین رات گزارتے ہیں وہ اپنے دور دراز گھروں کو نہیں جا سکتے کیونکہ اگلے دن پھر کیمو تھراپی کروانی ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی تین ماہ یہ علاج روزانہ کی بنیاد پر جاری لکھا جاتا ہے اس کے بعد مریض کی نوعیت کے مطابق ہفتہ وار اور پھر ماہ وار بنیادوں پر جاری رکھا جاتا ہے اس کے بعد مریض کی نوعیت کے مطابق ہفتہ وار اور پھر ماہ وار بنیادوں پر تین سال میں علاج مکمل ہوتا ہے۔ بہت سے مریض ایک دفعہ علاج مکمل کرنے کے بعد بدقسمتی سے دوبارہ حملے کی زد میں آجاتے ہیں یہ چلڈرن ہسپتال کا وہ وارڈ ہے جہاں سب سے زیادہ سانحات ہوتے ہیں کہانیاں بنتی ہیں اور دیکھتے ہی ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ نو عمر عدنان کی چھوٹی سی اس بائیو گرافی کا سماجی پہلو اس کی اپنی میڈیکل رپورٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا باپ خالد مسیح اقلیتی کرسچیئن برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ جس اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتا ہے، ان سے دو لاکھ روپے پہلے ہی لے چکا ہے جس کی وجہ سے نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔ تین لاکھ روپے اس نے اس کے علاوہ دوستوں اور رشتہ داروں سے لے کر عدنان پر خرچ کیے ہیں اب مالی طور پر اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ ہسپتال کے گردو نواح میں کوئی ایک کمرہ کرائے پر لے کر بچے کو رکھ سکیں۔ گوجرہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کرسچیئن کمیونٹی اور NGOsکافی فعال ہیں مگر کسی نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ خالد مسیح کا تعلق جس پیشے سے ہے وہ مٹی گوندہ کر اس سے اینٹیں بناتا ہے پھر ان کو بھٹے 

میں پکا کر اس قابل بنایا جاتا ہے کہ ان سے بنے ہوئے در و دیوار گھر کی چھت کا وزن اتھا سکیں مگر زمانے بھر کے گھر بنانے کے لیے گھر کی بنیادی اکائی یعنی اینٹیں بنانے والا بھٹہ مزدور اس کی اپنی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے یا معاشرے کی سازش اس کا جواب تو کوئی ماہر عمرانیات ہی دے سکتا ہے مگر جب تک جواب آئے گا اس وقت تک 8 سالہ عدنان کی قسمت کا ستارہ آسمان سے ٹوٹ کر نہ گرنے کی ضمانت کسی کے پاس نہیں ہے مگر عدنان کو بھروسہ ہے اپنی ماں کی ممتا پر۔ وہ اس زعم میں زندہ ہے کہ اس کی ماں جو تین جماعت پاس ہے اس کے لیے سب کچھ کر سکتی ہے۔ عدنان کی ماں جس کا نام نرگس ہے ایک ان پڑھ اور کمزور عورت ہے لیکن بلڈ کینسر کے ساتھ جنگ میں یہ عدنان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور دوا بھی۔ نرگس کہتی ہے کہ اپنے جگر گوشے کی جان بچانے کے لیے انہیں اگر اپنی جانیں بیچنا بھی پڑیں تو وہ دریغ نہیں کریں گے۔ نرگس نے اہل دل اور اہل نظر سے اپیل کی ہے کہ عدنان کی بیماری واجب الادا قرضے اتارنے میں ان کی مدد کریں۔ ایزی پیسہ کے لیے نرگس زوجہ خالد مسیح CNIC نمبر 33301-2933391-6 ہے۔ ان کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ تفصیلات کے لیے راقم الحروف حاضر ہے۔ یاد ہرے کہ عدنان کا یہ کیس پاکستان میں بچوں میں بلڈ کینسر میں اضافے اس کی تشخیص علاج اور اس کے سماجی اثرات کے ضمن میں ایک case study کی حیثیت رکھتا ہے۔


ای پیپر