100دن۔۔۔
30 نومبر 2018 2018-11-30

اقتدار کے سو دنوں کا نچوڑ یہی ہے کہ ترجمانوں ،وزیروں اور مشیروں نے چوم چوم کر وزیر اعظم عمران خان کو مار دیا ہے۔وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ایک ترجمان نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ وزیر اعظم عمران خان منسٹر کالونی میں رہیں گے۔دوسرے نے اعلان کیا کہ بنی گالہ میں سکونت رکھیں گے۔بعد میں بتایا گیا کہ وزیراعظم ہاوس کے ایک گوشہ میں رہیں گے۔کئی دنوں تک قوم کو بے وقوف بنانے کے بعد معلوم ہوا کہ خلیفہ وقت وزیر اعظم ہاوس ہی کا مکین ہے۔پھر وزیر اعظم ہاوس سے بنی گالہ تک سفر کا معاملہ سامنے آیا تر جمان نے نرالی تو جیح پیش کی ۔کہنے لگے کہ سڑک کے سفر سے ہوائی سفر سستا اور محفوظ ہے،55 روپے کلو میٹر کا خرچ بتایا۔جب قوم نے اس مذاق کا نوٹس لیا تو پسپائی اختیار کی۔حلف اٹھانے کے بعد ایک تر جمان فواد چوہدری نے اگلے روز نو ید سنائی کہ کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان اس پر عمل کریں گے،اس لئے وزیر اعظم ابتدائی تین مہینوں تک بیرون ملک دورے نہیں کریں گے۔یہ بھی اضافہ کیا گیا کہ بیرون ملک دوروں کے لئے کوئی خصو صی طیارہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔لیکن اعلان کے با وجود وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات، چین اور ملا ئیشیا کے دو رے کئے۔تمام دوروں کے لئے خصوصی جہاز کو استعمال کیا گیا۔جس ترجمان نے یہی خوش خبری سنائی تھی وہ خود بھی کئی دوروں میں وزیر اعظم کے ساتھ رہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب کابل جا رہے تھے تو انھوں نے بھی معمول کی پرواز کی بجائے خصو صی طیارے پر سفر کیا۔وزیر اعظم کے پروٹوکول نہ لینے کا اعلان کیا گیا ،لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو کے وزیر اعظم عمران خان کو مبارک باد کے ٹیلی فون پر جھوٹ بولا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کو مسترد کیا،لیکن انھوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کا پورا ٹرانسکرپٹ جاری کیا،جس نے ان کی صداقت پر مہر ثبت کی،جبکہ وزیر اعظم عمران خان کے ترجمانوں کی عیاری بھی شکست کھا گئی۔اسی طر ح ایک اور سفارتی تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم عمران خان کو مبارک بادکا خط لکھ دیا۔اس 

خط کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے غلط بیا نی سے کام لیا۔دلی سرکار نے وہ خط صحافیوں کو فراہم کیا جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے وزیر خارجہ کا بیان واپس لے لیا۔اسی طرح ایک واقع فرانس کے صدر کے بارے میں مشہور کیا گیا،لیکن بعد میں وہ بھی افواہ ہی نکلی۔

بیوروکریسی میں سیاسی عدم مداخلت کے وعدے کئے گئے،لیکن ڈی پی او پاک پتن اور آئی جی اسلام کو جس انداز میں تبدیل کیا گیا وہ آمریت اور سیاسی مداخلت کے انوکھے واقعات ہیں۔چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی کی تبدیلی بھی سیاسی مداخلت ہے۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر جہلم کو صر ف چند دن بعد ہٹانا بھی اثر و رسوخ کا شاخسانہ ہے۔پنجاب کے ترجمان نے ایک اداکارہ کے لئے غیر مناسب الفاظ استعمال کئے۔ جس پر ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔بعد میں انھوں نے اس اداکارہ سے معافی مانگی ۔

عمران خان اقتدار میں اس نعرے کے ساتھ آئے تھے کہ احتساب ہو گا۔ سب کا ہوگا اور بے لاگ ہوگا۔لیکن جن لوگوں پر مقدمات بننے چاہئے تھے ان کو اعلی عہدوں سے نوازا گیا۔چوہدری پرویز الہی ،زبیدہ جلال،ڈاکٹر فہمیدہ مرزا،مو نس الہی ، پر ویز خٹک اور ایم کیو ایم کو عہدوں سے نوازا گیا۔پہلے سو دنوں میں کسی کا محاسبہ نہیں کیا جا سکا۔اس لئے کہ ابھی تک کسی بھی کر پٹ ٹولے کے خلاف نیب میں حکومت کی طرف سے کوئی ریفرنس داخل نہیں کیا گیا ہے۔حالانکہ چند ہفتے قبل مشیروں نے نو ید سنائی تھی کہ بس چند دنوں کی بات ہے۔تمام معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔سب اندر ہونگے۔ لیکن احتساب کاعمل سو دنوں پر بھاری رہا۔ نااہل اور ذاتی دوستوں میں عہدوں کو تقسیم کیا گیا۔افتخار درانی،نعیم الحق ،زلفی بخاری اور عون چوہدری جیسے لوگوں کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالا گیا۔خیبر پختون خوا اور پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے لئے کمزور افراد کا انتخاب کیا گیا۔ 

معاشی استحکام کی نو ید سنائی گئی تھی۔ جس وقت عمران خان نے حکومت سنبھالی اس وقت زر مبادلہ کے زخائر کی مالیت 16.72 ارب ڈالر تھی جبکہ سو دونوں بعد اس کی مالیت 14.7 ارب ڈالر ہے۔عمران خان جب وزیر اعظم منتخب ہو ئے تو اس وقت ایک ڈالر 122.5 روپے کا تھا جبکہ اس وقت ڈالرکی قیمت 142روپے ہے۔جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو اس وقت سٹاک ایکسچینج کا اینڈکس 42.446 پر تھا جبکہ اس وقت یہ 40.869 کے قریب ہے۔عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو اس وقت مہنگائی کی شرح 222 5.8 تھی جبکہ سو دن مکمل ہونے کے بعد مہنگائی کی شرح 2227 ہو گئی ہے۔عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو تجارتی خسارہ 2.9 ارب ڈالر تھا،سو دن پورے ہونے کے بعد اب یہ خسارہ 2.93 ارب ڈالر ہے۔18 اگست سے قبل بر آمدات کی مالیت 2.1 ارب ڈالر تھی،جبکہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق اب ان کی مالیت 1.72 ارب ڈالر ہے۔درآمدات کی مالیت 4.9 ارب ڈالر تھی ۔لیکن اس وقت ان کی مالیت 4.84 ارب ڈالر ہے۔ 

حکومت سنبھالنے سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قوم کو بتاتے رہے کہ پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتیں زیادہ ہے۔ اس میں کمی کی ضرورت ہے،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔ گیس کی قیمتیں بڑھائی گئی۔بجلی کے نر خ میں اضافہ ہوا۔پیٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی نر خوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھی۔عارضی طور پر معاشی استحکام کا بندوبست کیا گیا ہے۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور چین نے وعدے کئے ہیں۔لیکن ملکی معیشت کا استحکام چندوں سے نہیں ہو سکتا۔نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہو گا۔جس کے لئے ان ابتدائی سو دنوں میں کوئی بھی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ہے۔

ایک بات جو ان سو دنوں میں میری سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ کہ وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھاکہ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو شہریت دیں گے۔اس پر عمل درآمد کی بجائے سکھوں کو بغیر ویزہ آنے کی اجازت دی گئی۔عمران خان نے افغانستان کے ساتھ اوپن بارڈر کی بات کی تھی لیکن کابل کے ساتھ راستے کھولنے کی بجائے انھوں نے ہندوستان کی طر ف راہداری بنانے کا سنگ بنیاد رکھا۔کرتار پور راہدری کی تعمیر اچھی بات ہے۔لیکن ان معاملات کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے جس کے بارے میں اعلانات خود وزیر اعظم عمران خان نے کئے ہیں۔100 دنوں میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا کھویا اور کیا پایا اس کا فیصلہ اب قوم کریگی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سو دنوں میں حکومت کی کارکردگی کو جانچا نہیں جا سکتا۔اس کے لئے ہمیں مزید 1725دنوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔


ای پیپر