کچھ ناممکن نہیں ‘ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکتا ہے: وزیراعظم
30 نومبر 2018 (18:53) 2018-11-30

 اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ ناممکن نہیں ‘ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکتا ہے‘ 2جوہری ریاستیں کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں‘پاک بھارت تعلقات ممبئی حملے کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے ‘آگے بڑھنے کا واحد راستہ امن ہی ہے‘ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان حل طلب تنازع ہے.

کرتارپور راہداری سکھ برادری کا مطالبہ تھا‘ماضی صرف اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا نام ہے‘ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا‘ہمارے دوستی کے اقدام پر بھارتی ردعمل پر افسوس ہوا ۔جمعہ کو اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو اور ان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ممبئی حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات تعطل کا شکار ہوئے لیکن ہندوستان ابھی تک اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کر رہا، امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے‘دو جوہری ریاستیں کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں، پہلے ہی دن کہا تھا کہ بھارت ایک قدم آگے بڑھائے ہم دو قدم بڑھائیں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان حل طلب تنازع ہے‘تاہم کچھ ناممکن نہیں، مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکتا ہے، ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ مذاکرات سے مسئلے حل کریں، میرا ایمان ہے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ سکھ برادری کا تھا، اس فیصلے سے ان میں بڑی خوشی ہے، مسلمانوں کے لئے جیسے مدینہ منورہ جانے پر خوشی ہوتی ہے، اسی طرح کا سکھوں کی طرف سے ریسپونس تھا، جس بھارت کو میں جانتا ہوں، انہوں نے بھی اس کوشش کو پسند کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح غریب لوگ ہوتے ہیں، فرانس اور جرمنی نے جب تجارت کی تو دونوں ملکوں نے ترقی کی، ہمارا خطہ دنیا کا حصہ ہے جو پرامن رہ کر بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں جب بھی ہندوستان جاتا کر انٹرویوز دیتا ہوں تو وہاں بات یہی آ کر پھنس جاتی ہے کہ ماضی میں کیا کچھ ہوا؟ میرا ان سوالات پر ہمیشہ جواب ہوتا ہے کہ ماضی صرف اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا نام ہے۔عمران خان نے کہا کہ خطے میں کسی قسم کی دہشت گردی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے‘پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا، دہشت گردوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں لیکن ہمارے دوستی کے اقدام پر بھارتی ردعمل پر افسوس ہوا، بات چیت نہیں ہوگی تو مسائل کیسے حل ہوں گے؟‘تاہم وزیراعظم نے واضح کیا کہ کبھی بھی ایک سائڈ سے کوشش نہیں چلے گی، جو میرے سے بات ہوگی اس کا میں جوابدہ ہوں، میں ماضی کا جواب نہیں دے سکتا اور ماضی کا ذمہ دار نہیں ہوں۔


ای پیپر