Ata Sb, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
30 May 2021 (12:35) 2021-05-30

قومی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے سب سے مقبول عوامی جماعت مسلم لیگ (ن) کی بنیادی پالیسی کے طور پر اس کے سب سے بڑے قائد نوازشریف کا بیانیہ غالب آنا چاہیے یا شہباز شریف کی حکمت عملی کو پذیرائی ملنی چاہیے… نوازشریف کا بیانیہ کیا ہے اور شہباز شریف کی حکمت عملی کن خطوط پر استوار کی گئی ہے… اس کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جس امر نے نوازشریف کو بڑا لیڈر بنایا ہے وہ مزاحمتی بیانیہ ہے… جسے میاں صاحب اور ان کے نقطہ نظر حامی افراد کسی بھی دوسرے اور غیرمنتخب ادارے کے مقابلے میں آئین پاکستان کی بالادستی پر محمول کرتے ہیں… انتہائی شفاف اور کسی قسم کی مداخلت سے منزہ عام انتخابات اور ان کے نتائج کو تسلیم کرنے اور ان کے نتیجے میں کامیاب لیڈر اور جماعت کو پانچ سال کی مدت کے لیے برسراقتدار رہنے کا حق دینے سے تعبیر کرتے ہیں… مقابلے میں جو بھی آئے گا اس کی سختی کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی… اس مزاحمتی رویے کو اپنانے سے پہلے نوازشریف کی حیثیت عام درجے کے سیاسی کارکن کی تھی… جسے پنجاب کے ایک صنعتکار کے بیٹے کے طو رپر ضیاء الحق عہد کے گورنر جیلانی کی نگہ انتخاب نے پنجاب کی کابینہ میں شامل کرنے کے لیے چن لیا… پھر وہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بن کر بے نظیر کے لیے بڑا چیلنج بن گئے… اس کے بعد آئی ایس آئی یا دوسرے الفاظ میں اس وقت کے سربراہ جنرل حمید گل کی سرپرستی میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے آئی جے آئی یا اسلامی جمہوری اتحاد بنائی گئی… جماعت اسلامی اس اتحاد کی نظریاتی قوت تھی… نوازشریف ملک کے دائیں بازو کے عناصر کے لیے تازہ دم سیاسی چہرہ تھا… غلام مصطفی جتوئی صاحب بھٹو کا سابق ساتھی اور بے نظیر کی پی پی پی کا باغی ہونے کی بنا پر آئی جے آئی کے سرکردہ لیڈر تھے… انہیں نگران کے طور پر وزارت عظمیٰ کی خلعت پہنائی گئی… 1991 کے عام انتخابات میں ’آئی جے آئی‘ کو کامیابی ملی… اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا نیا وزیراعظم کون بنے گا… نگاہیں جتوئی صاحب پر مرتکز تھیں… اسٹیبلشمنٹ کی بھی یہی خواہش تھی… آئی جے آئی کے حامی جغادری دانشوروں نے بھی ان کے حق میں رائے دی… لیکن نوازشریف چونکہ پوری انتخابی مہم کے روح رواں تھے… سیاست میں تازہ خون اور قبول عام شخصیت کا روپ اختیار کر چکے تھے چنانچہ کئی اہم اور مؤثر آوازیں ان کے حق میں اٹھیں کہ ملک کا سب سے بڑا سیاسی منصب انہیں عطا کر کے نئے دور کا آغاز کیا جائے… مقتدر قوتیں بھی ان کو موقع دینے پر راضی ہو گئیں کہ روایتی طور پر غیرسیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں… تابع مہمل بنا کر رکھنا آسان رہے گا… چنانچہ تھوڑی سی ردّو قدح کے بعد قرعہ فال نوازشریف کے نام نکلا… ایسا معلوم ہو رہا تھا دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کو نیا لیڈر مل گیا ہے جس کے پیچھے ووٹوں کی طاقت مجتمع ہو سکتی ہے… نوازشریف نے اتنے بڑے عہدے پر چند ماہ گزارے ہوں گے کہ آٹے دال کا بھائو معلوم ہو گیا… ایوان صدر سے احکام وصول ہوتے تھے یہ قدم اٹھائو وہ نہ اٹھائو… اس کام میں تساہل نہ برتو ، فلاں پالیسی کو ہماری ہدایات کے مطابق رو بہ عمل لائو… مقتدر قوتیں اپنی جگہ بیٹھی بچہ جمورا کو ’’راہ راست‘‘ پر رکھنے کے لیے خاموش پیغام بھجواتی تھیں… آئی جے آئی کی اتحادی جماعتیں اپنا حق گردانتی تھیں جو شخص ہماری بدولت وزارت عظمیٰ کی گدّی پر مسند نشین ہوا جس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس پر لازم ہے ہماری پالیسیوں کو حرز جان بنائے… نوازشریف نے ان سب سے مقابلے کی ٹھان لی… وزیراعظم ہوں… انگوٹھا چھاپ بن کر نہیں رہ سکتا… اپنی پالیسیوں کو منوا کر دم لوں گا… ادھر بالادست قوتوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس ناہنجار سے جتنی جلدی چھٹکارا حاصل کیا جائے بہتر ہو گا… مرحوم غلام اسحق خان کے ایوان صدر نے آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت اپنے تمام تر اختیارات کے ساتھ وزیراعظم کو اٹھا باہر پھینکنے کا مصمم ارادہ کر لیا… نوازشریف کو بھنک پڑ چکی تھی… اس کے اندر سے نیا اور مزاحمتی سیاستدان جاگ اٹھا… ٹیلی ویژن پر ایک زوردار تقریر کر ڈالی… منتخب وزیراعظم ہوں… اختیارات کے آزادانہ استعمال کا آئینی اور جمہوری حق رکھتا ہوں… ڈٹ کر مقابلہ کروں گا… کسی کی ڈکٹیشن نہ لوں گا…

ایوان صدر لرز اٹھا…اس گستاخ کی مجال دو دن کے اندر برطرفی کا حکم نامہ صادر ہوا… نواز ہنستا مسکراتا پورے اعتماد کے ساتھ باہر آیا تو دنیا بدلی ہوئی تھی… اس کے حق میں مظاہرے ہو رہے تھے… جگہ جگہ خیرمقدمی بینر لہرا رہے تھے… فلک شگاف نعروں سے فضائیں گونج اٹھی تھیں… وہ عوامی مقبولیت ملی جس کی اسٹیبلشمنٹ کے بادشاہوں کو توقع تھی نہ نوازشریف کیمپ اس حد تک امید رکھتا تھا… غیرآئینی لیکن ہر حالت میں خود کو بالادست رکھنے کی متمنی قوتوں کے خلاف مزاحمت کی سیاست اس کی سوچ اور عمل میں پیوست ہو کر رہ گئی… اسی سوچ اور عمل کے ساتھ اس نے 1993 ، 1997، 2008 اور 2013 کے انتخابات لڑے… اپنی مقبولیت کا سکہ منوا لیا… دو مرتبہ وزیراعظم بنا… موٹروے اور دیگر بڑے بڑے ترقیاتی پروگرام شروع کیے یہاں تک کہ بھارتی چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایشیا کی تیسری اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنانے کے لیے دھماکے کر دیے… بڑے بڑے سورما یہ کام کرنے سے گھبراتے تھے… امریکہ کا خوف ان کے آڑے آتا تھا… نواز کو بھی ان کی جانب سے مشورہ دیا گیا… احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو اس نے کہا ایک تو بھارت کا چیلنج بڑا مہیب ہے ہمارے لیے اب نہیں تو کبھی نہیں کا وقت ہے… دوسرا روایتی جنگوں 

میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھی پاکستان کا علانیہ ایٹمی قوت ہونا اشد ضروری ہے… اس کے نتیجے میں ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہو جائے گا… چنانچہ اس کی قوت مزاحمت کام آئی… امریکہ کی جانب سے پانچ ارب ڈالر کی امداد کی ترغیب دی گئی تھی… بصورت سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا… نوازشریف کی قوت مزاحمت یہاں اس کی اپنی سیاست کی بجائے پاکستان کے کام آئی… ایٹمی دھماکے ہوئے… آج تک بھارت کو ننگی جارحیت کی ہمت نہیں… واجپائی بس پر سوار ہو کر لاہور آئے… مینار پاکستان گئے… اپنے الفاظ میں پاکستان کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی… ٹریک ٹو مذاکرات کا آغاز ہوا… تنازع کشمیر میں نئی جان پڑنی شروع ہو گئی… یوں نوازشریف کے اندر یہ یقین راسخ ہو گیا کہ ان کی تمام تر سیاسی طاقت اور عوام کے اندر مقبولیت یہاں تک کہ پاکستان کو ایٹمی قوت کے مقام تک پہنچانے کا راز آئین پاکستان کی بالادستی خالص جمہوری عمل کے تسلسل اور مقتدر قوتوں کو تو ان کے مقام اور مرتبہ کا پابند بنا کر رکھنے میں مضمر ہے… آئین جن اداروں کو ماتحت گردانتا ہے انہیں اپنے دائرہ کار کے اندر رہنا چاہیے… اس کی حدود سے تجاوز کریں گی تو 1971 والا انجام ہو گا… فوج مقدس اور منظم ترین ادارہ ہے… اس کے سپاہیوں اور افسروں کی حب الوطنی بے مثال ہے… قربانیاں انہوں نے بے شمار دی ہیں… پوری قوم کے خراج تحسین کی مستحق ہیں… لیکن ملک کے اقتدار و حکومت پر اپنی مرضی ٹھونسنا… پسند اور ناپسند کے وزرائے اعظم کا فیصلہ کرنا، ان کی مدت حکومت کا تعین خود کرنا… خارجہ اور دفاعی پالیسیوں سمیت دوسرے امور ریاست و مملکت کے بارے میں علانیہ یا غیرمحسوس طریقے سے ڈکٹیشن دینا اس عظیم ادارے کا کام نہیں نہ اسے کارہائے حکومت میں بار بار کی مداخلت زیب دیتی ہے… اس بیانیے کو لے کر آج تک نوازشریف ڈٹا ہوا ہے… تین مرتبہ عوام کی جانب سے منتخب اور تین مرتبہ ہی بالادست طاقتوں کے اشارے پر برطرف ہوا… کرپشن اگر اس نے کی ہے جس کے ڈھیروں الزامات لگائے جاتے ہیں… آج تک ایک ثابت نہیں ہوا… یہ وہ بیانیہ ہے جس پر نوازشریف پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین مفاد میں اسے ترک کر دے یا اس میں اتنی لچک پیدا کر دے کہ اس کی جماعت کا اگلے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آ جانا ممکن ہو… بتایا جا رہا ہے چھوٹا بھائی شہباز شریف مقابلے میں اپنی حکمت عملی منوا کر بڑے بھائی اور جماعت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے…

شہباز شریف کی حکمت عملی فی الواقع کیا ہے اس کا بھی ان دنوں بڑا چرچا ہے… بلاشبہ اس نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا… وہ ترقیاتی کام اور منصوبے نہایت کامیابی اور شفاف طریقے سے مکمل کیے ہیں کہ موازنہ اور مقابلہ آسان نہیں بلکہ عمران خان کے چہیتے عثمان بزدار کی مثال کو سامنے رکھا جائے تو شہباز شریف نے ناممکنات کو ممکن بنا دکھایا ہے… عوامی جمہوریہ چین جیسا ہمارا نہایت درجہ قابل اعتماد دوست اس کی صلاحیتوں کا معترف ہے… پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے کارپردازان اسے اس لیے پسند نہیں کرتے کہ نوازشریف کا بھائی ہے اور اس سے وفاداری کے عہد کو نہیں توڑتا… لیکن اس سبب کی بنا پر پسند بھی بہت کرتے ہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اس کا متبادل دور دور تک نظر نہیں آتا… کرپشن کے الزام اس پر بھی لاتعداد لگے… نیب نے اسے اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے… لیکن اب اعتراف کرنے پر مجبور ہے اس کے خلاف دھیلے کی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی… اگرچہ جھوٹے الزامات کا طومار ہے جو بڑے بھائی کی طرح اس کی ذات پر بھی باندھا گیا… بطور منتظم اعلیٰ ان تمام اوصاف کے ساتھ شہباز اس کا بھی قائل ہے کہ فوج کے ساتھ براہ راست ٹکر نہیں لینی چاہیے… اس کی بالادستی کے خلاف کھلم کھلا چیلنج نہیں پیدا کرنا چاہیے… بار بار کی برطرفی کے نتیجے میں ہمارے اقتدار کو نقصان پہنچتا ہے… اگر اس کا تسلسل برقرار رہتا تو نوازشریف اپنے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لیتا… یعنی پنجاب کو سونے کی چڑیا بنا دیتا… ملکی مفاد سختی کے ساتھ متقاضی ہے کہ اصولوں کی سیاست کے ساتھ حکمت عملی بھی اپنائی جائے… فوج کسی غیرملک کی نہیں ہماری اپنی ہے… نوازشریف کو اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنا چاہیے… میری بات مان لینی چاہیے… اس حد تک شہباز شریف کا مؤقف خاصا معقول نظر آتا ہے… لیکن مسئلہ یہ ہے ہمارے حاضر سروس جرنیل جیسا کہ ملک کی ستر سالہ تاریخ بتاتی ہے اسی پر اکتفا نہیں کرتے… ٹکر ان کے ساتھ یقینا نہیں لینی چاہیے… ملکی دفاع کی خاطر بے دریغ قربانیاں دینے والی عظیم فوج کا ادب و احترام بھی ازبس ضروری ہے… مگر اوپر بیٹھے حاضر سروس جرنیلوں کی جن کے ہاتھوں میں فوج کی کمان ہے اس خواہش کا کوئی ٹھکانا نہیں کہ اقتدار و حکومت میں براہ راست شرکت کا حق رکھتے ہیں… مارشل لا اب ہم نہ لگائیں گے مگر ہماری بالادستی پر حرف نہ آنے دیں کیونکہ ملکی مفاد کو جتنا ہم سمجھتے ہیں کوئی اور اس کا ادراک نہیں رکھتا… یہ وہ نکتہ ہے جس پر اکیلے نوازشریف نہیں ملک کی تمام آئین دوست اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کی خاطر جدوجہد کرنے والی قوتوں کا اتفاق ہے کہ اس سوچ اور عمل کو قبول نہیں کیا جا سکتا… یہی سبب ہے آج تک تمام کوششوں کے باوجود پاکستان میں فوج کے حامی عناصر آئین پاکستان کے اندر ایسی دفعات کو شامل کرانے میں ناکام رہے ہیں جن کے تحت باقاعدہ فوج کے آئینی و سیاسی کردار اور اس کے حق مداخلت کو تسلیم کیا جائے… جب جب کسی آمر مطلق نے آئین کے اندر ایسے پیوند لگانے کی کوشش کی بعد میں آنے والی ہر جمہوری حکومت نے اتفاق رائے کے ساتھ اسے مٹا کر رکھ دیا…

شہباز شریف کو یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اس کی شاندار انتظامی اور ترقیاتی کامیابیوں کے پیچھے یہ راز بھی کارفرما رہا ہے کہ وفاق میں ماسوائے 2008 تا 2013 اس کے بڑے بھائی نواز کی حکومت تھی جس کی اسے مکمل تائید اور حمایت حاصل رہتی تھی… بھائی کی سرپرست حکومت کے بغیر شہباز کے لیے وہ تمام کارنامے سرانجام دینا شاید اتنا آسان نہ ہوتا جن کا سہرا اس کے سر پر باندھا جاتا ہے… وہ اس کا مکمل طور پر ادراک بھی رکھتا ہے… اسی سبب کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بار بار کی ترغیبات کے باوجود اس نے آج تک بھائی کے دامن کو نہیں چھوڑا… غلام اسحق نے پیشکش کی… مشرف شہباز کو شراکت اقتدار کا چکمہ دے کر دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈالنا چاہتا تھا مگر شہباز نے کسی طور بے وفائی نہ کی… کہا جاتا ہے اس میں دونوں کے مرحوم والدین کا بھی بڑا ہاتھ تھا جو آج اس دنیا میں نہیں رہے… اس وقت کی صورت حال یہ ہے بالادست قوتوں نے اکیلے شہباز کو نہیں بلاول بھٹو کو بھی عمران خان کے مقابلے میں وزارت عظمیٰ کے اشہب پر بٹھا کر دوڑانے کا جھانسہ دے رکھا ہے… مسلم لیگ (ن) کو چونکہ پنجاب جیسے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں وفاق اور صوبائی اسمبلی کے اندر اکثریت حاصل ہے اس لیے اسے ترجیح دی جا رہی ہے… شہباز اسی خاطر بھائی کو ہم خیال بنانے کے لیے لندن جانا چاہتے تھے… عمران خان نے اسے اپنے خلاف سازش پر محمول کیا… ہوائی اڈے پر ہی دھر لیا… شہباز شریف کے خیالات میں مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی… وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو بالادستوں کی اشیرباد کے ساتھ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیے جائیں گے لیکن کیا اس کے بعد بھی انہیں چین سے حکومت چلانے کا موقع دیا جائے گا… وہ چین جو انہیں پنجاب کی بار بار کی وزارت علیا کے دوران وفاق میں بھائی کی سرپرستی کی وجہ سے حاصل تھا… سوال یہ نہیں شہباز کو وزارت عظمیٰ سے سرشار کیا جاتا ہے یا نہیں… مسلم لیگ (ن) کو ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے کا موقع دیا جاتا ہے یا نہیں اصل اور بنیادی مسئلہ اس ملک کا یہ ہے کہ آئین ملک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بالادست ٹھہرتا ہے یا نہیں اور تمام اداروں کو خواہ کتنے مقدس سمجھے جائیں اس کے طے کردہ دائرہ کار کا سختی کے ساتھ پابند بنا کر رکھا جاتا ہے یا نہیں… اسی میں ریاست پاکستان کا حقیقی مفاد مضمر ہے…


ای پیپر