Shafiq Awan, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
30 May 2021 (12:29) 2021-05-30

مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے مزاحمت کے بیانیے سے ہٹ کر مفاہمت کا بیانیہ پیش کر کے سب کو ششدر کر دیا ہے۔ اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اپنا موقف منوانے کے لیے نواز شریف کے پائوں بھی پڑنے کو تیار ہیں اور پھر بھی ان کا بیانیہ نہ مانا گیا تو وہ سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف اس حد تک ایک دن میں نہ پہنچے ہوں گے اور یقیناً اس قدر سخت موقف اپنانے پر سالہا سال لگے ہوں گے۔ بے شک ان کا موقف معاملے کی سنگینی ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن میں پالیسی کے حوالے سے کس قدر تقسیم ہے۔ شہباز شریف اپنے مفاہمتی بیانیے پر تنہا نہیں اور مسلم لیگ ن کے پارلیمینٹیرین اور لیڈران کی بڑی تعداد ان کے ساتھ کھڑی ہے لیکن ان کی آواز سننے کو کوئی تیار نہیں۔ شہباز شریف کے فلسفے کے حامی بڑی تعداد میں مسلم لیگی لیڈران سے اس حوالے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ قائد مسلم لیگ نواز شریف کے ساتھ ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مزاحمتی سیاست سے تین سال میں کچھ حاصل نہ کر سکے پارٹی کو بھی نقصان پہنچا اور پی ڈی ایم بھی ٹوٹ گیا۔ اب میاں نواز شریف کو چایے کہ شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیے کو موقع دیں۔ ویسے بھی انتخابات کو دو سال رہ گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن پنجاب میں بآسانی حکومت بنا سکتی ہے اور ایسے عمل سے عمران خان کی مرکزی حکومت بھی گر سکتی ہے لیکن قیادت اس پر بھی راضی نہیں۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان کی احتجاجی تحریک سے یہ حکومت جاتی نظر نہیں آتی بلکہ پی ڈی ایم ہی تضاد کا شکار ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بہتر ہے کہ ایسی محاذ آرائی جس کا کوئی نتیجہ نکلے کی بجاے اگلے انتخابات کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے اور شہباز شریف کا بیانیہ اپنایا جائے۔ 

 مسلم لیگ ن کی موجودہ صورتحال اس حکومتی دعوے کو درست ثابت کرتی نظر آ رہی ہے کہ ن اور شین میں پالیسی پر اختلافات ہیں۔ گو کہ حکومت کا یہ دعوی کہ ن سے ش نکلے گی شاید درست ثابت نہ ہو کیونکہ شہباز شریف سیاست چھوڑ سکتے ہیں بڑے بھائی نواز شریف کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ 

شہباز شریف پہلے اپنے مفاہمتی بیانیہ درپردہ یا اشارے کنائوں میں کرتے تھے۔ لیکن ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے اپنے خیالات کا ببانگ دہل اعلان کر کے مسلم لیگ ن کے بیانیے کو تقسیم کر دیا۔

نواز شریف کے بیانیے کے برعکس شہباز شریف واضع اعلان کررہے ہیں ٹکراؤ کی حکمت عملی سے کام نہیں چلے گا صرف مفاہمت اور باہمی مشاورت سے 

ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف مایوس نہیں نظر آرہے سب سے اہم بات کہ وہ گارنٹی دے رہے ہیں نواز شریف قومی مفاہمت کی ہر کاوش کی حمایت کریں گے وہ نواز شریف کو قائل کرلیں گے چاہے پاؤں پکڑنے پڑیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کے شہباز شریف مخالف گروپ کے سرخیل شاہد خاقان عباسی نے اپنی ہی پارٹی کے صدر شہباز شریف کی ان کاوشوں پر اپنا پرانا بیانیہ دہرا کر پانی پھیر دیا۔ پہلے یہ بھی افواہیں چل رہی تھیں کہ شہباز شریف سے اختلافات کی بنا پر وہ پی ڈی ایم کے سیکٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ لیکن پھر انہیں اس سے روک دیا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شہباز شریف آج پی ڈی ایم کے ہونے والے سربراہی اجلاس میں اپنی پارٹی کے طرف سے اپنے بیانیے کے ساتھ تنہا ہوں گے جبکہ ان کے بیانیے کے کٹر مخالفین شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، احسن اقبال و دیگر ایک پیج پر ہوں گے دیکھنا ہو گا شہباز شریف اس صورتحال سے کیسے نمٹیں گے۔ خاص طور پر جب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شہباز شریف مخالف بیانیے کے حامی ہیں۔ 

شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور پارٹی کے برعکس پارلیمنٹ کی بالا دستی پریقین رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام معاملات کا حل پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے ہونا چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ان سے بات چیت کے دوران بھی انہوں نے تمام معاملات پارلیمنٹ اور آئین کے مطابق حل کرنے پر زور دیا تھا۔ میں نے اسی کالم میں ان کے بیانیے پر لکھا تھا جس پر کچھ مسلم لیگی جزبز بھی ہوئے تھے میں نے انہیں یہی کہا کہ شہباز شریف صاحب مفاہمتی سیاست کے حامی ہیں جس کا وہ اظہار بھی جلد کر دیں گے۔ ان کی رہائی کے بعد بھی ان کے گھر ان سے ملاقات ہوئی تب بھی انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کیا جس کا ذکر میں نے اسی کالم اور اپنے وی لاگ ‘‘ViewPoint with Shafiq Awan ‘‘ میں کیا اس پر بھی مسلم لیگی دوست ناراض ہوے لیکن آج جب شہباز شریف نے اپنے خیالات کا اظہار کھلے عام کر دیاتو ان دوستوں کو بھی چپ لگ گئی۔ صحافی کا کام حقایق بیان کرنا اور ایک موضوع پر ہر ایک کا موقف بیان کرنا ہوتا ہے۔ 

شہباز شریف نے ٹی وی انٹرویو میں مریم نواز کی سیاسی جدو جہد کو تسلیم تو کیا لیکن اپنے فرزند حمزہ شہباز شریف کی جدوجہد کو تسلیم نہ کرنے کے بھی شاکی نظر آئے۔  لیکن اس صورتحال کے ذمہ دار حمزہ شہباز اور ان کی خاموشی بھی ہے سیاست میں رہنے کے لیے ہر فورم اور میڈیا میں موجود رہنا پڑتا ہے۔ لیکن رہائی کے بعد وہ پارٹی موقف یا کسی بھی معاملے پر وہ میڈیا پر برائے نام ہی آئے ہیں جس سے ان کی سیاسی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ جبکہ مریم نواز ہر قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر اپنا نکتہ نظر رکھتی ہیں اور کھل کر اظہار بھی کرتی ہیں۔ حمزہ شہباز شریف کو بھی شہباز شریف کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے خود آگے آنا ہو گا اور یہ سب کچھ انہیں پلیٹ میں رکھ کرکوئی نہ دے گا۔پھر انہیں پرویز رشید جیسا سیاسی اتالیق بھی نہیں ملا جو گاہے بگاہے ان کی اصلاح کرتا رہے۔ مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کی غیر موجودگی میں سیاست میں اپنا مقام مسلسل جدوجہد سے اپنے نظریے کے ساتھ کامیابی سے بنایا جس کی جتنی بھی تعریف کی جاے کم ہے۔ ان کی یہ جہدمسلسل آج بھی جاری ہے۔ لیکن بعض معاملات پر وہ شدید جذباتی ہو جاتی ہیں اور سیاست میں جذبات کے ساتھ تحمل بہت ضروری ہے۔ 

شہباز شریف مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے بالکل صحیح بات کی کہ پی ڈی ایم غلط فیصلوں کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔ شاہد خاقان عباسی یا مریم نواز کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ کسی ایک جماعت کو پی ڈی ایم سے کسی بھی پارٹی کو نکالنے کا مینڈیٹ نہیں یہ فیصلے اتفاق رائے سے ہونے چاہیں۔ گو کہ یہی بات انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے میڈیا ٹاک میں براہ راست کر دی لیکن مولانا نے بڑی بے مروتی سے ان کے منہ پر ہی ان کے کہے کی تردید کر دی اور پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کومعافی سے مشروط کر دیا۔ اس صورتحال میں شہباز شریف کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سبکی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن میں شہباز شریف کے ہم خیال لوگوں کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں سب کچھ طے شدہ منصوبے کے ساتھ ہو رہا ہے اور پی ڈی ایم کے صدر بھی کھلے دل و دماغ کی بجائے پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر اڑے رہے یا شہباز شریف کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ کوئی سخت موقف بھی اپنا سکتے ہیں۔ہم خیال لیگیوں کا کہنا تھا کہ اگر پی ڈی ایم میں اتفاق رائے نہیں ہو سکتا تو پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتیں آپس میں مل کر تمام قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور پارلیمنٹ میں مسائل کا حل تجویز کریں۔ بہر حال پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس فیصلہ کرے گا کہ مفاہمت یا مزاحمت میں سے کون سا بیانیہ اپنایا جاے۔

قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر