کس کا کریڈٹ، کس کے نام؟
30 May 2020 (22:59) 2020-05-30

گزشتہ 28 مئی کو یوم تکبیر تھا… بائیس برس قبل بھارت کے 13 مئی کو پوکھران ایٹمی دھماکوں کے اعلان کے بعد پاکستان کے منتخب وزیراعظم نوازشریف نے اس روز بڑی طاقتوں کی مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چاغی کے مقام پر پاکستان کے خطہ ارض کی ساتویں، ایشیا کی تیسری اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہونے کا دھماکہ خیز اعلان کردیا… اس سے جہاں پاکستان کا دفاعی طاقت کے لحاظ سے مقام و مرتبہ بلند ہوا وہیں ہم 1971ء کی شکست کے بعد بھارتی عزائم کا منہ توڑ اور مؤثر جواب دینے کے قابل ہوگئے… ہمارا دفاع اتنا مضبوط اور ناقابل تسخیر ہو گیا کہ ازلی دشمن میں آنکھیں چار کرنے کی جرأت باقی نہیں رہی… نہ آج تک ایسا کر سکا ہے… اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمارے قومی کیلنڈر میں 28 مئی کا دن غیرمعمولی اہمیت کا مالک ہے۔ 14 اگست اور 23 مارچ کے بعد یہ تیسرا بڑا قومی دن ہے جب پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا اور بھارت کا فوجی طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے تھے… تاہم حیرت کی بات ہے اس برس جب یہ روز سعید طلوع ہوا تو اخبارات اور ٹیلی ویژن پر صدر مملکت کی جانب سے کوئی تہنیتی بیان جاری ہوا نہ اس روز کی مناسبت سے ملکی دفاع کو مضبوط تر کرنے کے عزم و ارادے کا اظہار ہوا نہ وزیراعظم عمران خان نے اہل وطن کو کسی قسم کی یقین دہانی کرائی کہ 28 مئی 1998ء کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ملک کے دفاعی نظام کو کسی حوالے سے کمزور نہیں پڑنے دیں گے… البتہ پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے پیغام کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو کامیابی سے ایٹمی تجربات کئے اور اس دوران کم از کم جوہری صلاحیت حاصل کی، ایٹمی صلاحیت کے لئے کوششیں کرنے والے تمام افراد کو سلام پیش کرتے ہیں… پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے خطے میں طاقت کا توازن مستحکم ہوا… اس کے لئے سائنس دانوں اور انجینئرز کو خاص طور پر سلام جن کی وجہ سے یہ ممکن ہوا… ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا وہ مسلح افواج کی طرف سے خیال کو حقیقت کا روپ دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں… پاکستان زندہ باد‘‘… تعجب ہے اتنے بڑے ریاستی ادارے کی جانب سے اس عظیم تر پاکستانی سائنسدان کا نام تک لینے کی زحمت گوارہ نہ کی گئی جس نے 1971ء کی فوجی شکست کے بعد ارض وطن کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کی خاطر ملک سے باہر بیٹھے ہوئے اپنی ذاتی صلاحیتوں اور ذہانت کے پیش نظر اسے ایٹمی قوت سے لیس کرنے کے بارے میں سوچا… رازداری کے ساتھ اس وقت کے منتخب عوامی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تجویز پیش کی… انہوں نے اس پر بلاتامل صاد کیا… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان آنے اور اپنے تجربات شروع کرنے کی دعوت دی… دارالحکومت کے نزدیک کہوٹہ کے قریب تمام ضروری سہولتیں میسر کیں… دنیا کے کانوں تک اس کی بھنک پڑی تو ہالینڈ میں ڈاکٹر خان کے وارنٹ جاری ہوئے کہ ہمارے راز چوری کر کے لے گیا ہے… امریکی سپرطاقت کو سخت تشویش لاحق ہوئی کہ دنیا کا ایک اسلامی ملک ایٹمی قوت بننے کی راہ پر چل نکلا ہے… ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے اپنے عزم پر قائم اور کام پر جتے رہے… مشن کی ہر حالت میں تکمیل کی ٹھان لی… ذوالفقار علی بھٹو نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی انہیں عبرت کی مثال بنا کر رکھ دینے کی سخت تر تنبیہ کو لائق اعتنا نہ سمجھا… برملا کہا گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے… زیادہ عرصہ نہ گزرا بھٹو کو عبرت کی مثال بنا کر رکھ دیا گیا… اس کے ساتھ افغان جہاد شروع ہو گیا… خطے میں امریکی مفادات اور ترجیحات میں بنیادی تبدیلی آ گئی… فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے موقع کو غنیمت جانا… ڈاکٹر عبدالقدیر کی نگرانی میں ایٹمی پروگرام تکمیل کے مراحل طے کرتا رہا… بھارت کو بھی مطلع کر دیا گیا کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہے ہم جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں لیکن عالمی مصلحت کے پیش نظر باقاعدہ دھماکے کر کے وطن عزیز کے ایٹمی قوت ہونے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا… تاآنکہ 13 مئی 1998ء کو واجپائی حکومت نے اس میدان میں پیش قدمی کی … اپنے ملک کی جوہری طاقت کو پوکھران کے دھماکوں کی صورت میں دنیا بھر کے سامنے واشگاف کر دیا… اب سوال یہ پیش نظر تھا پاکستان کو کیا کرنا چاہئے… بھٹو کا انجام سامنے تھا… ملک ہمارا ڈالر ڈالر کے لئے امریکی امداد کا محتاج تھا… دوسری مرتبہ منتخب وزیراعظم نوازشریف کو امریکی صدر بل کلنٹن کی جانب سے پے در

پے ٹیلیفون رابطوں کے ذریعے 5 ملین ڈالر کی امداد اور پانچ سو ملین ڈالر کے ذاتی خرچ کی ترغیب دی گئی کہ باز رہیں… بصورت دیگر سخت تر الفاظ میں پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی… پائے ماندن نہ جائے رفتن… اندرون ملک ’’ڈیپ سیٹ‘‘ والوں نے بھی صبروتحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا… کابینہ کے اراکین کی بھی رائے منقسم تھی، بڑے بڑے صحافیوں میں سے کچھ نے جرأت رندانہ سے کام لینے کا مشورہ دیا کچھ کی رائے تھی جلد بازی نہ کی جائے نوازشریف نے مشورہ سب کا سنا فیصلہ اپنی مرضی کا کیا… ملک کی تاریخ بدل ڈالی… اپنی ایٹمی دفاعی طاقت کو بھارت کے مقابلے میں لاکھڑا کیا… اس کے اندر ننگی جارحیت کا فیصلہ کرنے کی سکت باقی نہ رہی… 1971ء کے تلخ تجربے نے بتا دیا تھا ہم اپنے سے کئی گنا طاقتور ازلی دشمن سے روایتی جنگ کرنے کے قابل نہیں لیکن ہماری مقابلے کی بلکہ بہتر دفاعی قوت نے اس کے جارحانہ عزائم کو بے دست و پا بنا کر رکھ دیا…

یہ غیرمعمولی اور تاریخی اہمیت رکھنے والی سٹرٹیجک پیش رفت تھی… ملک کو اس مقام تک پہنچانے دو سول اور منتخب وزرائے اعظم، افغان جہاد اور اس کی آڑ میں فوجی حکمران ضیاء الحق کا پختہ ارادہ اور سب سے بڑھ کر ہمارے قابل فخر سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پرعزم دفاعی اور جرأت مندانہ تیکنیکی مہارت نے بیج بویا… ذوالفقار علی بھٹو نے اس کے پودے کو پانی سینچا… ضیاء الحق نے اسے تناور درخت بننے میں مدد دی اور جب وقت قیام آیا تو سویلین و منتخب نوازشریف نے آگے بڑھ کر وہ کچھ کر دکھایا جس کا تصور کر کے بھی بڑے بڑے گھبرا جاتے تھے… وہ بھٹو کا انجام دیکھ چکے تھے… ضیاء الحق کی حادثاتی موت کا سبب ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا… امریکہ کئی ملین ڈالر کی غیرمشروط امداد کا لالچ دے رہا تھا اور دھمکی پر دھمکی دے رہا تھا… نوازشریف کو ملکی تاریخ کے بہت بڑے اور نازک ترین چیلنج کا سامنا تھا… ریاست کے کچھ فیصلہ کن عناصر بھی امریکی عتاب کو سامنے رکھتے ہوئے احتیاط کا مشورہ دے رہے تھے… لیکن دوسرے ریاستی عناصر کے مقابلے میں اور جسم و جان کے لحاظ سے بظاہر کمزور نظر آنے والے سویلین وزیراعظم نے عوامی طاقت پر اعتماد رکھتے ہوئے وہ فیصلہ کر ڈالا جو دنیا کی حیرانی کا باعث بنا… بھارت کو اس کی توقع نہ تھی… اس کا وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی بیان کے بعد بیان جاری کر کے ہماری غیرت کو للکار رہا تھا اگر کچھ پلے ہے تو سامنے لا کر دکھائو ورنہ BLUFF نہ مارو… امریکہ کو امید تھی ہماری طاقت اپنا کام دکھائے گی اور پاکستان مصلحت سے کام لے گا… لیکن جناب نوازشریف نے آئو دیکھا نہ تائو اور چاغی کے دھماکے کر دکھائے تو ملک کے اندر بے پناہ اعتماد، سرشاری اور اپنے دفاعی وسائل پر اتنی خودانحصاری کہ ہر وقت جارحیت کے لئے بے تاب دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دینے کے قابل ہو گئے ہیں کہ دوبارہ ہمت نہیں کرے گا… 28 مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد میں اور ہفت روزہ زندگی کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی سابق وزیر خارجہ آغا شاہی مرحوم کے پاس انٹرویو کرنے اسلام آباد گئے… سخت پابندیاں لگ چکی تھیں… امداد بند ہو گئی تھی… ہمارا آغاشاہی سے ایک سوال یہ تھا کیا اس موقع کو ٹالا نہیں جا سکتا تھا… کیونکہ اس قدر شدید معاشی مشکلات کا شکار پاکستان مزید اور سخت قدغنوں کا متحمل نہیں ہو سکتا… آغا شاہی نے جو وزارت خارجہ میں اپنے کیریئر کی ابتدا سے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والی پیش ہائے رفت سے منسلک رہے ہیں سنتے ہی اپنے گھومنے والی کرسی پر پیچھے کی جانب جھکتے ہوئے جواب دیا

IT WAS NOW OR NEVER.

یہ اب یا پھر کبھی نہیں والا معاملہ تھا… اگر پاکستان عین اس موقع پر اپنی دفاعی قوت ہونے کا اعلان نہ کرتا تو دنیا اتنی ہوشیار اور چوکنا ہو چکی تھی کہ پھر کبھی ہمیں اس کا موقع نہ دیتی۔

نوازشریف نے ایک منتخب عوامی لیڈر کے طور پر اسی تاریخی مرحلہ کو اپنی گرفت میں لیا اور وہ کام کر دکھایا جس کا کریڈٹ آج اس سے چھیننے کی بہت کوشش کی جا رہی ہے… لیکن کوئی بات بنائے نہیں بنی… یہی کارنامہ تھا جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ماہرانہ تجویز پر ذوالفقار علی بھٹو جیسے منتخب لیڈر سے سرزد ہوا… 1971ء کی شکست ہو چکی تھی، ہم تین گنا بڑے دشمن کے ہاتھوں روایتی جنگ میں نہ چاہتے ہوئے بھی پسپائی اختیار کرچکے تھے… آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے… نوّے ہزار کے قریب قیدی ہمارے اس کے کیمپوں میں بند تھے۔ بھارت بقیہ پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ مایوسی کے سائے چھائے ہوئے تھے اس عالم میں بھٹو نے جو فیصلہ کیا اس کے مضمرات سے وہ بخوبی واقف تھا… اس کے باوجود اپنی جان کا رسک لیتے ہوئے اس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ دی… افغان جہاد نے جہاں ضیاء الحق کو اس تاریخی عمل میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع فراہم کیا… نوازشریف اس سارے عمل کا نقطہ اختتام تھے اور انہوں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا… جرأت رندانہ سے کام لیا… کسی لالچ ترغیب اور بڑی امداد کی پیشکش سے متاثر نہ ہوئے… امریکہ نے پابندیاں عائد کر دیں تو پرواہ نہ کی… سعودی حکمران ولی عہد شیخ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ان کے تعلقات کام میں آئے لمبے ادھار پر تیل ملنا شروع ہو گیا… پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا… آج یہ ایٹمی قوت ملک خداداد کا حقیقی حصار بنی ہوئی ہے… جنہوں نے باری باری یہ کارنامہ انجام دیا ان سے اس کا کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا اگرچہ ہم پر بزور طاقت مسلط کردہ آئینی وجمہوری حدود کو پامال کرتا ہوا ریاستی نظام ایسا ہے کہ اس کے کارپردازوں کو بوجوہ یہ سب کچھ گوارا نہیں… ہندو عورت کے بارے میں سن رکھا ہے شوہر کا نام لیتے ہوئے شرما سی جاتی ہے… لیکن پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی، معمار اور اسے نہایت کامیابی کے ساتھ نقطۂ اختتام پر پہنچانے والوں کے ساتھ ہم نے وہ سلوک کیاہے جو کسی زندہ اور غیور قوم کے شایان شان نہیں… بھٹو تختہ دار پر لٹک گیا… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو گھر میں قید کر کے ناکردہ گناہوں کے اعتراف اور سرعام معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا وہ آج تک اس صدمے کوبھلا نہیں پائے… ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے کے اصل سبب کا آج تک کسی کو علم نہیں ہو سکا اور نوازشریف کی شخصیت اور سیاست کا الزام در الزام کی بارش کر کے (جن کا کسی بھی کھلی اور آزاد عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے) وہ کچومر نکال کر رکھ دیا ہے کہ ملک کی سیاسی فضائوں میں سانس لینے کے قابل نہیں رہا… لندن میں بیمار پڑا ہے… اس پر مستزاد یہ کہ ایٹمی پروگرام کو حقیقت کا روپ دینے والے کی حیثیت سے اس 28 مئی کو اس کا کہیں نام لیا گیا یا ایسا کہیں ذکر ہوا تو اسے نکّو بنا دیا گیا… آخر کس ظرف کے مالک ہمارے حکمران اور گنتی کے چند دانش وران گرامی ہیں… بھٹو، ضیاء الحق اور نوازشریف میں سو خامیاں ہوں گی مگر ان کا جائز کریڈٹ تو انہیں دیجیے… اسے چھین کر آپ اپنے سینوں پر جھوٹا تمغہ لگانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں…


ای پیپر