شرمائیں یہود!
30 May 2020 (22:59) 2020-05-30

عیدالفطر کورونا وائرس اور المناک فضائی حادثے کے اثرات لیے ہوئے آئی اور ظاہر کی دنیا میں اداسی کی چادر اوڑھے دبے پاؤں گزر گئی۔ باطن کی دنیا میں یہ دن مہینہ بھر کی ایمانی محنتوں پر انعام کا دن تھا۔ فرشتوں کی ندا ان کے لیے آتی ہے جو زندگی کی حقیقت سے آشنا روزے اور تراویح کی عظیم عبادت اور تربیت کے لیے یکسو ہوکر ایمان واحتساب کے ساتھ فرض ادا کرتے ہیں۔ ’اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرما دی۔ پس تم اپنے گھروں کو کامیاب وکامران لوٹو! یہ عید کا دن، انعام کا دن ہے۔ اور اس دن کو (آسمان پر فرشتوں کی دنیا میں) ’انعام کا دن‘ کہا جاتا ہے۔‘ (ترغیب وترہیب کتاب العیدین)۔

اللہ ہماری مغفرت فرما دے۔ آمین۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ریاستِ مدینہ میں پہلی عید اپنے ساتھ کفار قریش کے خلاف غزوۂ بدر، یوم الفرقان کی صورت فتح کی بے مثل خوشخبری لیے ہوئے آئی!

تقابل اپنی عید اور تصوراتِ عید کا 2 ہجری کی اس عید سے کر دیکھیے! ہمارے ہاں عید صرف ایک ثقافتی تہوار ہے۔ عیدِ آزاداں شکوہ ملک ودیں، عیدِ محکوماں ہجوم مومنین! ہماری کشکول زدہ عید کا گہنایا ہوا چاند، اس پرشکوہ، عظمت وشوکت کی حامل عید کا کیا مقابلہ کرسکتا ہے۔ پہلے حکومت کے ہاتھ میں کشکول تھی۔ اب قوم کا ’احساس‘ کرکے حکمرانوں نے ہر غریب کے ہاتھ کورونا کشکول تھما دیا۔ عید تو رمضان کے مطابق ہوتی ہے۔ جیسا رمضان ویسی ہی عید! صحابہؓ کے رمضان کفر کا سر توڑتے گزرے۔ بدر تا فتح مکہ، 8 ہجری کے رمضان میں بت شکنی اپنے عروج پر تھی! حضرت خالد بن ولیدؓ کا لشکر ’عزیٰ‘ کا بت خانہ، حضرت عمرو بن العاصؓ کا لشکر’سواع‘ کا بت خانہ اور حضرت سعد اشہلیؓ کا لشکر ’منات ُکا بت خانہ توڑنے بھیجے گئے۔ عید کے چاند پر تکبیر وتہلیل کے ترانے، اللہ کی کبریائی اور الوہیت قائم کرتے ہیں۔ وہاں یہ 21 سالہ قربانیوں، جاں گسل محنتوں، اطاعتوں کی سچائی میں گندھے ہوئے تھے۔ تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا!

اب ذرا اسی تناظر میں پلٹ کر اپنے ہاں کا رمضان اور طلوع عید دیکھ لیجیے۔ حکومت نے کورونا کی آڑ میں رمضان کے لیے جو پیش بندی اہتمام فرمائے، اس میں حتیٰ الوسع مساجد بند کرنا، تراویح اور نماز باجماعت سے قوم کو محروم کرنا سرفہرست تھا۔ متبادل کے طور پر وزیراعظم نے بقول ان کے، ’اسلامی‘ کلچر اور اقدار پڑھانے کو ترکی ڈرامے کے ساتھ رمضان کی راتیں گزارنے کا اہتمام کیا۔ یکم رمضان سے چلنے والا یہ ڈرامہ 24 لاکھ پاکستانیوں نے تو صرف یوٹیوب پر دیکھا۔ ڈرامہ بینی کے اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹے۔ شیطان بندھنے سے پہلے (بنی گالہ کے کچے گوشت کے آخری ضیافتی تھال صاف کرکے) قوم کا رمضان بے نور کرنے، گھر گھر سے ایمان کی روح سلب کرنے کا جو نسخہ پھونک گیا تھا، وہ حسب ہدایت پورا ہوا۔ مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے کے ساتھ اداکاروں کے کوائف بھی دیے جاتے رہے۔ نیم برہنہ، حرافہ اداکارہ، سالہا سال سے یہ دونوں مرد وزن باہم ’دوست‘ ہیں۔

سبق اس جہادی اسلامی ڈرامے (شراب پر زمزم کا لیبل) کا یہ ہے کہ اسلام صرف ڈرامہ کرنے کو ہے۔ حقائق کی دنیا میں جہادی لٹریچر (قرآن حدیث پر مبنی احکام جہاد کی کتب ہوں یا تاریخ جہاد کے ہیروز پر مبنی) رکھنا جرم ہے۔ دنیائے کفر کے خلاف قصد جہاد، دہشت گردی ہے۔ پولیس مقابلوں میں مارے جانے کے لائق ہے۔ البتہ رمضان میں ہالی ووڈ نما کردار کے مالک نام نہاد مسلمان ڈرامہ باز تلواریں لہراتے 3 براعظموں پر مسلم حکمرانی کرنے والی سلطنت عثمانیہ کا قیام دکھاکر رمضان کی بیش بہا راتیں ضائع کروا دیں تو یہ سودا منظور ہے! نوجوان نسل کی دینی تباہی ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے ایجنڈوں تحت مطلوب ہے۔ نصابوں کا تیاپانچا کرنے کو امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کے تحت کارفرما این جی او، ’امن اور تعلیم‘ کے نام پر ہمارے عقائد اور تاریخ پر مزید چرکے لگا رہی ہے۔ جہاد کا دل بہلاوا ڈراموں سے کرو۔ برسرزمین وحید الدین خان کا ترجمہ قرآن اور غامدی اسلام جہادی آیات بارے یہ پڑھا رہا ہے کہ یہ پچھلی تاریخ سے متعلق ہیں، آج ’جہاد پرامن کوششوں کا نام ہے‘! ’قرآن قانونی کتاب نہیں ہے، ایک دعوتی کتاب ہے۔‘ (اس لیے قانون چرچ آف انگلینڈ کی خلافت کے تحت ملکہ برطانیہ کا چلے گا۔ دشمن کی گولی اور میزائل کا جواب قلم اور دلیل سے دیا جائے گا۔)

لاہور گرائمر اسکول میں ہمارے ننھے بچوں کے نصاب میں منائے جانے والے دن اہتمام سے پڑھائے جارہے ہیں۔ اس میں (سبھی نجی اسکولوں، تعلیمی اداروں میں) پڑھائے سکھائے منائے جانے والے ویلنٹائن ڈے، سال نو، کرسمس، ہیلو وین، ہر بچے کی سالگرہ پر مزید ایک دن کا اضافہ ’ گائے فوکس ڈے‘ کا ہے۔ اور اسی سے نتھی ’بون فائر نائٹ‘۔ یہ گائے فوکس نامی کیتھولک آمادہ بہ دہشت گردی کا 1605ء میں لندن میں پارلیمنٹ اور بادشاہ کو اڑا دینے میں ناکامی کا دن ہے جو ہمارے بچوں کو پڑھانا کیوں ناگزیر ہے، وزیراعظم ہی بتا سکتے ہیں۔ (ان کے اپنے جگر گوشے برطانیہ میں یہودی ننھیال میں پل رہے ہیں) ہم تو، مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں، کے سوا کہہ ہی کیا سکتے ہیں۔ قرآن سے اس قوم کو (ناظرہ پڑھ کر مطمئن ہو رہنے کے سوا) تعلیمات احکامات کے حوالے سے قابل رحم، افسوس ناک حد تک نابلد رکھا گیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں 16 رکوع بنی اسرائیل کی حد شکنی کے ہر پہلو کو ہمارے سامنے رکھ کر تنبیہات کی گئیں ہیں کہ تم ایسے نہ ہو جانا۔ آج ہم عین انہی کے نقش قدم پر اللہ کا ہر حکم توڑنے پر کمربستہ ہیں۔ ہماری لکڑ ہضم پتھر ہضم مسلمانی پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ سبت کے احکام توڑنے پر ان کا انجام تک بتا دیا۔ ہم نے پڑھا ہوتا تو نماز جمعہ کی بندش پر لرزتے۔ ٹرمپ نے چرچ کھولنے کو کہا کہ یہ وقت دعا ہے۔ جرمنی نے مسلمانوں کی نماز کے لیے اپنے گرجے کھول دیے۔ مگر ہمارے والوں کا حال دیکھنا ہوتو عمرانی ریاستِ مدینہ میں تابوت کا آخری کیل ٹھونکنے کو وزیر سائنس فواد چودھری موجود ہیں۔ آٹھویں جماعت کی کتاب سے کچھ سائنسی ٹامک ٹوئیاں مار کر پورے دھڑلے سے فواد چودھری رویت ہلال پر چڑھ دوڑے۔

29 رمضان کو نامعقولیت کی ساری حدیں توڑکر دن دہاڑے چاند کا باضابطہ اعلان فرما دیا۔ رؤیت ہلال کمیٹی کے دائرہ کار میں جا گھسے۔ (کانچ کی دوکان میں اندھے بیل کی مانند) یاد رہے کہ موصوف کا سائنس ٹیکنالوجی سے تو دورپار کا بھی علمی، عملی واسطہ نہیں۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ صرف ایک (غیرمعروف) وکیل ہیں۔ قبل ازیں وینٹی لیٹر بنانے کی بھاری بڑھک مار کر اس پر محنت کرنے کی بجائے اب چاند پر چڑھ دوڑے۔ علماء نے بجا طور پر سخت نوٹس لیا۔ حکومت بھلے وکیل سے سائنس ٹیکنالوجی کی وزارت میں جھاڑو پھروا لے، لیکن دین کو معاف رکھے۔ یہ طبقہ وہ ہے جو ذہنی اعتبار سے 10 سال سے کم عمر ہے جبھی تو ان کے ہاں (الاماشاء اللہ) نماز، روزہ بھی فرض نہیں۔ کھیلن کو مانگیں چاند، وہ بھی عید کا! کتنا بڑا المیہ ہے کہ صحابہ ؓ تو رمضان اور عید (8 ہجری) میں کافروں کے بت توڑتے رہے۔ فواد چوہدری نے مسلمانوں کے قاتل اور مسلمان لڑکیوں کی عزتیں برباد کرنے والے رنجیت سنگھ کا بت بنا کھڑا کیا اس سے اظہارِ یکجہتی کے لئے! قوم کے لاکھوں افراد کا ایک دن کا روزہ اپنے ہاتھ میں لے کر کھیلنے والے سے درخواست ہے کہ وہ اپنے محب وممدوح رنجیت سنگھ کی قوم کے لیے کرتارپورہ جا بیٹھیں، انہیں راہ دکھائیں، حکم سنائیں جو سنانا چاہیں، ہمیں معاف فرمائیں۔ حکومت کا وزارت کا میرٹ سیاسی خاندانوں سے ہونا ہے جیسا کہ یہ حضرت ہیں۔ عقل ودانش کا جس کوچے سے کوئی گزر ہی نہیں۔

اس کے مقابلے میں ٹرمپ کا عید پر بیان ملاحظہ ہو، وہ بھی مقابلتاً سیانا لگے گا۔ ٹرمپ نے کہا: ’اس مرتبہ ہمیشہ سے بڑھ کر ہمیں یہ یاد دہانی ہوئی ہے کہ اعتماد افزا امن وسکون، اٹھا کھڑا کرنے والی محبت اور دل خوش کن رفاقت مذہب ہی ہماری زندگی میں لاتا ہے۔‘ کورونا سے ڈسے ہوئے مغربی ممالک نے مقامی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر عید خطبوں کو جگہ دی۔ سائنس وٹیکنالوجی کی گھگھی کورونا کے آگے بندھی ہوئی ہے۔ اللہ نے بات سمجھانے، حجت تمام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کتنا بڑا سبق طیارے کے المناک حادثے میں مضمر ہے۔ اللہ کے فیصلوں اور تقدیر کے مقابل انسان کتنا بے بس ہے۔ ساری مہارت، تجربہ کاری، دانائی، نیک نیتی اور نیکی کے باوجود، سائنس بے بسی سے دم توڑ دیتی ہے خالق کے حکم کے روبرو۔ ہر وہ فرد جس کے لیے حکم لکھا تھا لندن میں تھا یا کہیں اور… خود اپنے قدموں سے چل کر آن حاضر ہوا۔ مگر ان حضرت کے کان پر جوں نہ رینگی۔ ہلال عید سے کھیلنے چل دیے۔ وزیر سیاسی روابط شہباز گل نے بھی ان کی تائید فرما دی۔ ٹوکے جانے پر فواد چودھری وزیراعظم کی سند لے آئے۔ بات صرف اہل ایمان کی نہیں، ان کا جہل اللہ کے غضب کو پکارنے پر تل جاتا ہے جس سے ہم لرزتے ہیں۔ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود !


ای پیپر