بھارت کے جنون کے خطے پر اثرات
30 May 2020 (22:57) 2020-05-30

کرونا کی وبا سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے اقوامِ عالم متحرک ہیں یورپی یونین میں شامل ممالک کو گرانٹ اور آسان شرائط پر قرضے دینے کی تنظیم نے سات سو پچاس ارب یورو مختص کیے گئے ہیں بدا منی کے شکار افریقی ممالک بھی باہمی تعاون کی راہ پر گامزن ہیں مگر جنوبی ایشیاکی بدقسمتی ختم نہیں ہوسکی اورہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ وجدل کے سائے گہرے ہورہے ہیں ملک کو مذہبی انتہا پسندی کا مرکز بنانے کے بعدمودی سرکار نے جارحانہ عزائم چھپانے کا تکلف بھی چھوڑ دیا ہے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بگاڑ کر خطے کی بالادست طاقت بننا ممکن نہیں لیکن توسیع پسندانہ سرگرمیوں کی بنا پر ہمسایہ ممالک بدظن ضرور ہوئے ہیں پاکستان سے مخاصمت کی طویل تاریخ کے باوجود خطے کی بالادست قوت تو نہیں بن سکا مگر سارک تنظیم کو کمزور کرنے میں ضرور کامیاب ہو گیا ہے حالانکہ بھارت کی جنونی حکومت اگر امن پسندی کا مظاہرہ کرتی تو نہ صرف یورپی ملکوں کی طرح سارک ممالک بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے بلکہ سارک تنظیم دنیا کی مضبوط ترین تنظیم بن سکتی تھی بھارت کی ہٹ دھرمی کا دنیا کو ادراک نہیں کرتی اور چشم پوشی سے کام لیتی ہے تو خوفناک تصادم کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

یواین او میںحقِ خوداِرادیت دینے کے وعدوں سے منحرف ہونے کی وجہ سے آج ساڑھے دس ماہ سے جاری لاک ڈائون سے مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل کی شکل اختیار کر چکا ہے قابض سفاک فوج روزانہ بے گناہ کشمیریوں کو قتل کرنے میں مصروف ہے مگر کسی ملک نے مزمت کرنے کی زحمت نہیں کی اگر مہذب دنیا تجارتی مفادات کی بجائے انسانی آبادی کو لاحق خطرات کا احساس کرتی تو کشمیر کی حثیت تبدیل نہ ہوتی پاکستان اور بھارت اسی مسلہ پر جنگیں بھی کر چکے ہیں مگر دنیا کی جانبداری کی وجہ سے مسلہ حل نہیں ہو سکا طاقتور ممالک کی شہ پر بھارت دیگر ہمسایہ ممالک کا بھی امن و سکون برباد کرنے لگا ہے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم نے جنوبی ایشیا کو بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جس کا جتنی جلدی احساس کر لیا جائے بہتر ہے۔

بھارت کے ہمسایہ ممالک نیپال ،بھوٹان ،چین سمیت پاکستان سے سرحدی تنازعات ہیں جنھیں حل کرنے کی اُس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی بلکہ ایسا ظاہر کیا ہے جیسے وہ خطے کا بدمعاش ہے سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کی بھارتی سرپرستی ڈھکی چُھپی نہیں آسام میں شہریت ایکٹ کی وجہ سے بنگلہ دیش سے تعلقات میں رخنہ آچکا ہے نیپال ایک چھوٹا سا امن پسند ملک ہے جو کسی بھی حوالے سے بھارت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا مگر یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی سالمیت پر بھی سمجھوتے پر تیار ہو جائے گادرست نہیں کالا پانی نیپال کا ایسا سرحدی علاقہ ہے جو بھارت کے اتراکھنڈ اور تبت کی سرحد پر واقع ہے یہاں لوگوں کی سہولت کے لیے ایسی سڑک بنا ئی گئی ہے جو ایسے علاقے سے گزرتی ہے جو نیپال کا حصہ ہے سڑک کی تعمیر کے آغاز پر نیپال نے سفارتی احتجاج کیا مگرکوئی اہمیت نہ دی گئی بلکہ راج ناتھ سنگھ جیسے جنونی نے افتتاح کے دوران کچھ ایسی جذباتی باتیں کرڈالیں جس کا نیپالی عوام نے بُرا منایا اور مظاہرے شروع کر دیے ہیں عوام کی طرف سے اپنی حکومت پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ نرمی کی بجائے بھارت سے سختی سے بات کی جائے بھارت ابھی تو نیپالی احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا بلکہ آرمی چیف احتجاج کے پسِ پردہ چین کا ہاتھ قراردیتے ہیں لیکن اپنے کردار کو درست کرنے پر تیار نہیںاسی لیے چین نے یہاں قدم جما نے کا موقع ملا ہے 2015میں بھارت نے نیپال کا گھیرائو کیاجسے نیپالی عوام آج تک نہیں بھولی سڑک کی تعمیر نئی شرارت ہے جس نے وممالک کو مزید دورکردیا ہے جو امن کے لیے مُضر ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت اور چین بظاہر تصادم کے قریب ہیں اور امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں جنگ ہو امن کی صورت میںچین کی معاشی و اقتصادی ترقی روکنا ممکن نہیں اب یہ بات ساری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے کہ چین کی ترقی سے امریکہ خوفزدہ ہے اور واحد سُپر پاور کا مقام متاثرہوتا دیکھ رہا ہے یہ خیال کچھ غلط بھی نہیں کیونکہ دنیا کی بات چھوڑیں امریکی معیشت سے چین اپنی سرمایہ کاری نکال لے تو نہ صرف امریکہ بڑے معاشی بحران کا شکار ہوجائے گا بلکہ ایسی غربت کا شکار ہو جائے گا جس سے بے روزگاری میں اضافہ اور فی کس آمدنی تاریخ کی کم تر سطح تک آ سکتی ہے اسی لیے دھمکیاں دینے تک تو محدود ہے اور کسی عملی اقدام کی نوبت نہیں آتی چینی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ہی کبھی ہانگ کانگ میں جاری شورش کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور کبھی انسانی حقوق کا مسلہ اُٹھایا جاتا ہے تائیوان کی آزادی کی حمایت بھی بغض کی جہ سے کی جاتی ہے لیکن تمام تر حربوں کے باوجود چین کی بڑھتی معاشی طاقت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکا اسی لیے بھارت کی احمق قیادت کو بھڑ جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے مگر باربار ہزیمت کے باوجود اگر امریکی ایما پر چین سے اب ٹکرا تا ہے تو نقصان اپنا ہی کر ے گا کیونکہ چین معاشی کے ساتھ ایک بڑی فوجی قت بھی ہے جس کا مقابلہ اکیلے بھارت کے بس کی بات نہیں ۔

میزائل کلب کا ممبر بننے کے باوجود بھارت کی میزائل کی صنعت کا معیار بہت پست ہے نیز درجنوں علیحدگی کی تحریکوں نے بھارت کی یکجہتی کو کمزور کردیا ہے عیسائی ،سکھ اور دلت آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ و تیار ہیں مگر چین کو ایسی کسی صورتحال کا سامنا نہیں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس چینی فوج کو ہرلحاظ سے بھارت پر فوقیت حاصل ہے تیز رفتار میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں نے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے اِس لیے اگر بھارت جنگ کی حماقت کرتا ہے تو نہ صرف بدترین شکست سے دوچار ہو گا بلکہ عین ممکن ہے کئی ملکوں میں تقسیم ہو جائے جس کاشاید مودی کو اندازہ نہیں لداخ اور سکم کے تنازعات بہت معمولی ہیں جن کے لیے ملک کو دائو پر لگانا عقلمندی نہیں1962میں تبت اور لداخ کی وجہ سے ہی بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں اور چین کے خاطر خواہ جواب پر امن سے رہنے کی بجائے ایٹمی ہتھیاروں کی طرف گیاآج ایٹمی ہتھیاروں کے باوجود کمزورہے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوگئی ہے تنازعات کے حل کے لیے ہونے والے باربارکے مزاکرات سے چین نے سمجھ لیا ہے کہ بھارت تعلقات میں مخلص نہیں اسی لیے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے لگا ہے جس سے خطے میں جنگ کا مکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔


ای پیپر