کورونا کے علاوہ کچھ اور بھی ہے
30 May 2020 (14:35) 2020-05-30

عام خیال یہ ہے کہ کورونا کے بعد بہت کچھ بدل جائے گا۔ کیا واقعی کرہ ارض پر انسانی ذات میں بنیادی تبدیلیاں آ جائیں گی؟ میرا نہیں خیال کہ کورونا ہم انسانوں کو کچھ سکھا پایا ہے۔ کیونکہ کورونا انسانی فکر، اور انداز فکر میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لاسکا ہے۔ انسان ذات کو صرف کورونا کا مسئلہ ہی درپیش نہیں ہے۔ اصل مسئلہ انداز فکر اور عمل کا ہے۔ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کی ہے کہ اگر یہ انداز فکر ٹھیک ہوتا تو کورونا جیسی کئی وبائوں اور مشکلات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔لیکن ایسا اس لئے نہیں ہو رہا کہ انسان کی سوچ کا دائرہ مال جمع کرنے، لوٹ مار کرنے اور وسائل پر قابض ہونے کی نفسیات بن گئی۔

معاملہ کو سمجھنے کے لئے آج کی دنیا پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ کورونا تو دو تین ماہ پہلے کا قصہ ہے۔ لیکن ا س سے پہلے دنیا کو لاحق مرض کی بعض علامات موجود تھیں،آج کی دنیا کی پہچان موسمی تبدیلی، ماحولیاتی زوال، معاشی کساد ابازاری ، سیاسی بگاڑ، سماجی انتشار، اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی تھی۔ کورونا نے اس فہرست میں ایک نئے نقطہ کا اضافہ کیا۔دنیا جس طرح سے چل رہی تھی، اور اس کا نظام جس طرح سے بنایا گیا تھا، اس کے مطابق انسان اب اپنی بقا کی آخری سرحد پر کھڑا ہے۔ عالمی سطح پر یہ بحث چل رہی ہے کہ اکیسویں صدی میں انسانی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ یعنی اس کے بعد ایک نیا باب نئی کہانی شروع ہونے والی ہے۔ نیا باب ایک بچے کی پیدائش کے برابر ہے جس میں درد اور کرب بھی، خوشی اور نیا پن بھی۔ مختلف سائنسی اور سماجی علوم سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے اب بڑا ہونا چھوڑ دیا ہے۔ انسانی آبادی گز شتہ ایک لاکھ سال میں کبھی بھی اتنی بڑی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ یہ بے پناہ اضافہ ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تو پھر کیا ہوا؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن یہ سوال کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آج دنیا میں فاشزم سے لیکر انتہا پسندی اور موسمیاتی تبدیلی تک جو کچھ بھی ہے وسائل پر قبضے اور ان پر اجارہ داری کی وجہ سے ہے۔

آج سے ستر ہزار سال پہلے کرہ ارض پر کیا تھا؟ چند انسانی گروہ، قبائل اور خاندان۔ یہ گروہ افریقہ سے نکلے، اور ایشیا تک پہنچے، جہاں سے یورپ گئے۔ پھر امریکہ چلے گئے۔ آئندہ برسوں میں وہ جنوبی امریکہ کے ساحلوں تک پہنچ گئے۔ اس تمام سفر میں انسان کو پندرہ ہزار سال لگے۔ اس کے بعد انسان نے اپنی تہذیبیں بنانی شروع کیں۔ یہ تہذیبیں زمین، اقتدار، سونا چاندی اور غلاموں پر قبضے اور کنٹرول کے لئے تھیں۔ اس کے پیچھے اصل مقصد وسائل پر قبضہ کرنا تھا۔۔ تہذیبوں کی اس تمام لڑائی میں بد تہذیبی یہ ہوئی کہ اس میں انسان بطور انسان نہیں بلکہ وسائل اہم تھے۔ بالآخر تاریخ ایک ایسے موڑ پر آکر پہنچی کہ مغرب کی تہذیب فاتح اور حاوی ہوگئی۔ اس مغربی تہذیب نے کبھی مشرق میں انڈیا ، جنوب میں آسٹریلیا، شمال مغرب میں امریکہ کو ’’دریافت ‘‘ کیا جیسے انہوں نے کوئی نئی سائنسی ایجاد کر ڈالی ہو۔ جیسے دنیا کے یہ حصے پہلے وجود ہی نہ رکھتے ہوں، جیسے یہاں پر پہلے انسان ہی نہ رہتے ہوں۔ مغرب کی ترقی کی راہ میں یہ ایک بڑی چھلانگ تھی۔

مغربی ممالک اور تہذیب نے نئے دریافت یافتہ ان ممالک کو نو آبادی بنایا۔اسلحہ کے زور پر ان ممالک پر

قبضہ کیا۔ انڈیا کی کپاس، ورجینیا کا تمباکو، اور جمیکا کی چینی ان کے لئے اہم تھی۔انہوں نے وسائل اور زمین پر قبضہ کر کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا شروع کیا۔ اور اس استعمال سے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا شروع کی۔ اس دھندے میں انسانوں کو عملی طور پر غلام اور ماتحت بنایا گیا۔ ان کا استحصال کیا گیا۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اس طرح سے رہیں جیسے نئے آباکار چاہتے تھے۔ اس طرح سے سوچیں جس طرح سے نئے بالادست چاہتے تھے۔

اب تک کی تاریخ میںانسان ذات کی ایک پہچان رہی ہے۔ وہ ہے توسیع پسندی اور قبضہ گیری۔ یہ قبضہ گیری اور توسیع پسندی زمین پر ہو، یا براہ راست وسائل پر۔ وسائل اپنے قبضے اور استعمال میں رکھنے کے لئے اقتدار یعنی حکومت پر قبضہ بھی ضروری تھا۔ اس توسیع پسندی اور قبضے کی جنگ میں براہ راست غلامی، ماتحتی، شدت، قتل وغارت، نفرتیں، تعصبات عام تھے۔ اس قبضے کو جائز قرار دینے کے لئے نظریے و عقائد بھی پید اکئے گئے۔ اس تمام سفر میں انسان پر ایک مخصوص سوچ ذہنیت، مائینڈ سیٹ، اور طریقہ کار حاوی رہا۔ یہ ہے استحصال اور شکاری سوچ۔ مغرب آج ایک بڑے شکاری کی طرح غذائی اشیاء اور دیگر وسائل پر قابض نظر آتا ہے۔ اس نے جب دوسرے ملکوں اور پرائی زمنیوں پر قبضہ کر لیا توسامراجی حیثیت حاصل کر لی۔بعد میں اپنی سوچ کو سائنسی انداز سے پھیلایا۔ جو چیز ان تمام نظریات میں حاوی رہی وہ قبضہ اور توسیع پسندی کی تھی۔

شکاری اور استحصالی سوچ کے ساتھ رہتے ہوئے انسان کو اب ایک ہزار سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ روم کی تہذیب اور وہاں غلامی کا دور تاریخ کا بڑا واقع ہے جو اب ہماری ادبی اور فلمی دنیا کا بھی بڑا حصہ ہے۔ مغربی سلطنتوں کا دور دنیا پر حکمرانی، لوگوں اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کا دور تھا۔ زمین پر قبضے سے متعلق امریکہ سب سے بڑی مثال ہے جہاں یورپ کے ’’ مہذب‘‘ لوگوں نے کس طرح سے مقامی باشندوں کو مارا، ان پر مظالم کئے، ان کا استحصال کیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ افریقہ سے لوگوں کو اغوا کر کے امریکہ کی منڈیوں میں بطور غلام بیچا جاتا رہا جہاں ان سے جبری مشقت لی جاتی رہی۔ اس دوران ان پر انسانیت سوز مظالم کئے جاتے رہے۔

لیکن اب یہ دور اختتام پذیر ہے۔ ایک مشکل، تلخ لیکن ناگزیر حقیقت ہے کہ شکاری ذہنیت اور استحصالی سوچ کو ختم ہونا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب کرہ ارض پر کوئی ایسا زمین کا ٹکڑا موجود نہیں جسے کالونائیز کیا جائے۔ کوئی ایسی چیز اور وسیلہ موجود نہیں جس کا استحصال نہ کیا گیا ہو۔ ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کو’’ مفلوج‘‘ کیا ہے، اس کا نئی نئی شکلوں میںا ستحصال کیا ہے۔ وہاں اس کو طاقتور بھی بنایا ہے۔ وہ مزاحمت بھی کرتا ہے۔ شاید اس کا مزید استحصال کرنے کا بھی کوئی راستہ نہیں بچا۔

اب انسانی آبادی ایک ایسے مقام کو پہنچی ہے کہ اس کا وزن موجودہ حالات، موجودہ نظام اور طریقہ کار میں یہ زمین اٹھانے کے قابل نہیں۔ صرف دو ہی راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ نظام اور شکاری استحصالی مائینڈ سیٹ بدل رہا ہو۔ یا پھر زمین اپنے طور پر خود سے وزن کم کرنے کا فطری طریقہ کار اختیار کرے۔

ایک ہزار سال قبل تک کرہ ارض پر انسانی آبادی 70 لاکھ تھی اب یہ آبادی 7 ارب ہے۔ ایسے حالات میں انسان کے اپنے بنائے ہوئے ادارے یعنی ممالک، ریاستیں، حکومتیں خواہ کسی بھی طریقے کی بنائی گئی ہوں، سیاسی، معاشی و ثقافتی اور سماجی رشتے ناطے، شہر، بستیاں وغیرہ میں معمولی تبدیلی کے ساتھ صورتحال سے نبرد آزما نہیں ہو سکتیں۔ انسان کے بنائے ہوئے موجودہ ادارے اب تو انسان کی ترقی بلکہ اس کی بقا میں پائوں کی زنجیربن گئے ہیں۔

اکیسویں صدی ایک بڑے جھٹکوں اتار چڑھائو اور کلائمیکس کی صدی ہے۔ انسان کے پاس دو راستے ہیں۔ اول یہ کہ وہ دانشمندی سے کام لیکر نئے سرے سے کہانی اپنے ہاتھوں سے ہی لکھے۔ انسانی تاریخ کا نیا باب مثبت اور اچھے طریقے سے لکھے، ۔ نوزائید بچہ کامقرر وقت پر صحیح طریقے سے جنم ہو تو بچہ صحتمند ہوتا ہے اور زچہ اور بچہ دونوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔ اگر ماضی کی شکاری و استحصالی اور قبضہ گیری کی تاریخ کو دہراتا ہے تو زچہ اور بچہ دونوں کو خطرہ ہوگا۔ نیا اور محفوظ راستہ ہو سکتا ہے، بلکہ موجود بھی ہے۔ تین ہفتے قبل جب دنیا میں کورونا کی دہشت انتہا پر پہنچی ہوئی تھی ، بی بی سی نے ایک ڈکویمنٹری کے ذریعے ایک متاثر کن پیغام دیا۔ مختلف مقامات پر موجود بی بی اردو کے نمائندے ویڈیو لنک پر یہ پیغام دے رہے تھے کہ ایک وقت ضرور آئے گا جب یہ خوشخبری ملے گی کہ کورونا کی ویکسین تیار ہو گئی ہے، اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو گلے مل سکیں گے۔ یہ وقت صرف کورونا کے لئے ہی نہیں دنیا کو درپیش دیگر ایسی سماجی، سیاسی ، فکری اور معاشی وبائوں کے لئے بھی آئے گا۔


ای پیپر