ایئر کریش: سچ نہیں چھپے گا
30 May 2020 (14:34) 2020-05-30

فرانس کی ایئر بس کمپنی کا جو طیارہ A320کراچی ایئر پورٹ پر 22 مئی کو اندوہناک حادثے کا شکار ہوا اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے اس ماڈل کی دنیا بھر کی فضائی حادثے کی تاریخ اور اعداد و شمار سب سے کم ہیں گویا اس کو محفوظ ترین خیال کیا جاتا ہے۔ کمپنی کہتی ہے کہ ان طیاروں کی حادثے کی شرح 10 لاکھ فی اڑان میں 0.25 فیصد ہے جو دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

مگر 22 مئی کو آناً فاناً جو کچھ ہوا یہ حیرت انگیز اور پر اسرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس طیارے کا فٹنس سرٹیفکیٹ اکتوبر 2020 تک کارآمد تھا البتہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کے اعلان 22 مارچ سے اب تک یہ طیارہ مسلسل دو ماہ تک گراؤنڈ پر تھا حادثہ کے دن لاہور سے اس کو معمول کی پری فلائٹ چیک اپ میں کلیئر یڈ قرار دیا گیا تھا پائلٹ سجاد گل ایک ماہر ہوا باز تھا جو وسیع تجربہ رکھتا تھا زندہ بچ جانے والے مسافر کے مطابق دوران پرواز بھی ایسی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوئی۔ طیارہ ساز کمپنی الگ حیران پریشان ہے کہ ہوا کیا ہے خیال کیا جا رہا ہے کہ طیارے کا بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کمپنی فرانس لے جا رہی ہے جہاں حتمی رپورٹ جاری ہو گی اور کمپنی کی جاری کردہ رپورٹ کو پاکستان کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سے زیادہ معتبر سمجھا جائے گا ۔

اس دوران خبر یہ ہے کہ کمرشل پائلٹس کی تنظیم پاکستان ایئر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن نے حکومت کی ابتدائی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم کو مسترد کر دیا ہے دوسری طرف شہید پائلٹ سجاد گل کے والد نے بھی کہہ دیا ہے کہ جب تک فرانس سے ایئر بس کی رپورٹ نہیں آ جاتی ہم انکوائری کو تسلیم نہیں کریں گے۔ پائلٹ ایسوسی ایشن کا اعتراض یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں نامزد تین ارکان کا تعلق پاکستان ایئر فورس سے ہے جبکہ ان چاروں میں سے ایک بھی ممبر بذات خود کمرشل پائلٹ نہیں ہے لہٰذا پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے ان کی صلاحیت نہیں ہے کہ یہ وجوہات کا پتہ لگا سکیں۔ مرحوم پائلٹ کے والد کے

بیان کے بعد سنا ہے کہ انکوائری کمیٹی میں کچھ مزید ناموں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

جب طیارے نے لینڈنگ کی اجازت مانگی تو اس وقت تک معاملہ قطعی طور پر روٹین کی کارروائی تھی پائلٹ کو Altitude یا اونچائی کم کرنے کی ہدایت دی گئی رن وے پر اترنے کی کوشش کی گئی تو بہت زیادہ جھٹکا لگا اور پائلٹ نے طیارہ لینڈ کرنے کی کوشش ترک کر دی اور طیارے کو اوپر اٹھا لیا اور اسے کہا گیا کہ Go around یعنی ایک چکر لگاؤ۔ اس مرحلے پر سمجھیں کہ حادثہ ہو چکا تھا اب ریسکیو کی کارروائی باقی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑا بلنڈر ہوا ہے ہوا یہ تھا کہ جب طیارے نے اترنے کی اجازت مانگی تھی تو یہ بات ایئر ٹریفک کنٹرول کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کریں کہ طیارے کا لینڈنگ گیئر Deploy ہو چکا ہے یا نہیں ٹریفک کنٹرول حکام کے پاس طاقتور دور بین ہوتی ہے وہ دیکھ لیتے ہیں کہ جہاز کے خود کار ہائیڈرالک سسٹم کی مدد سے لینڈنگ وہیل کھل گئے ہیں یا نہیں وہیل کھلے دیکھنے کے بعد لینڈنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔

8303 PK پرواز کا لینڈنگ گیئر نہیں کھلا تھا اور اس صورت میں پائلٹ کو اس کی نشاندہی نہ کرنا یا لینڈنگ کی اجازت دینا تباہی کا سامان تھا۔ پائلٹ نے جیسے ہی زمین کو ٹچ کرنے کی کوشش کی جہاز کے دونوں انجن رن وے کے ساتھ رگڑ کھانے لگے جھٹکے اور غیر معمولی شور کے ساتھ ہی پائلٹ نے ہوشیاری سے لینڈنگ مؤخر کر کے جہاز کو اوپر اٹھا دیا لیکن جہاز کا کام تمام ہو چکا تھا دونوں انجن بری طرح زمین سے رگڑ کھانے سے متاثر ہو چکے تھے رن وے پر انجن کے رگڑ کھانے اور انجن کے اکھڑے ہوئے پیچ Recover ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ایئر پورٹ پر ہنگامی حالت کا اعلان ہونا چاہیے تھا کہ جہاز کو کیسے اتارا جائے اس کو سادہ الفاظ میں آپ سمجھیں کہ جہاز نے اب پیٹ کے بل یا Belly Landly کرنی تھی اس میں رن وے پرفائر پروف فوم بچھا دیا جاتا ہے اس طرح جہاز کو نقصان کم پہنچتا ہے اور بہت سے مسافر زندہ بچ جاتے ہیں یہ دنیا میں کئی بار ہو چکا ہے مگر کراچی میں ایسا کچھ نہ ہوا۔ رگڑ کھانے اور طیارہ گرنے میں 12 منٹ کا ٹائم تھا دونوں انجن کو آگ لگی ہوئی تھی جہاز جب چکر کاٹ کر واپس آیا تو اس دوران اسے بار بار ہدایت دی گئی کہ 3000 altitude فٹ کرو لیکن پائلٹ کا جہاز پر کنٹرول ختم ہو چکا تھا جہاز جو کہ اس وقت2000 فٹ پر تھا وہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا جیسے ہی اونچائی 1800 فٹ سے کم ہوئی کنٹرول ٹاور سے اس کا رابطہ کٹ گیا اور وہ بے قابو ہو کر رہائشی علاقے میں جاگرا۔ گرنے سے پہلے پائلٹ نے مے ڈے مے ڈے کے آخری الفاظ ادا کیے یہ کوڈ ورلڈ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے ہمیں ڈوبنے سے بچا لو۔ (کیوں اس کاڈ کا آغاز بحری جہازوں سے ہوا تھا)

یہ حادثہ بہت بڑا بلنڈر تھا جس میں پہلے تو لاہور والوں کی غلطی تھی جنہوں نے جہاز کو Air worthy یا قابل پرواز قرار دیا لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑی ناقابل معافی اور مجرمانہ غلطی کراچی کنٹرول ٹاور کی ہے جس نے لینڈنگ گیئر اور طیارے کے پہیے کھلنے کی تصدیق کیے بغیر اسے اترنے کا حکم دیا۔

پی آئی اے کے CEO کے بیان کے بعد لگتا ہے کہ جیسے گراؤنڈ پر ہونے والی Human Error یا انسانی غلطی کو چھپانے کی کوشش کی جائے گی جس وجہ سے پائلٹ ایسوسی ایشن اور مرحوم پائلٹ کے لواحقین نے اعتراض اٹھا دیا ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی اہمیت نہیں رہے گی وہ پہلے ہی متنازع ہو چکے ہیں البتہ فرانس ایئر بس کمپنی کی رپورٹ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ عوام اس بات پر بھی سیخ پا ہیں کہ اتنا بڑا حادثہ ہو گیا مگر وزیراعظم نے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کی بجائے عید کی چھٹیاں نتھیا گلی میں گزارنے کو ترجیح دی۔

حادثے کے سماجی اور انسانی پہلو کو دیکھیں تو پوری قوم کو سوگ کی حالت میں ہونا چاہیے تھا مگر عید کی شاپنگ کا رش کم نہ ہو سکا۔ پرائیویٹ ٹی وچینلز نے اپنے مونو گرام سیاہ نہیں کیے۔ نہ صرف یہ بلکہ عید پروگراموں میں ڈٹ کر جگت بازی ، مزاحیہ شاعری اور عید نشریات کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا۔ اس بے حسی پر کیا احتجاج کریں۔ البتہ باری تو سب کی آنی ہے قوم یہ یاد رکھے۔


ای پیپر