ایک حادثہ ہزاروں کہانیوں کو جنم دے جاتا ہے!
30 May 2020 (14:33) 2020-05-30

آج بڑے عرصے بعداستاد جی سے اچانک ملاقات ہوئی، اداس بیٹھے تھے۔ پوچھا، کیا ہوا، آج خیر ہے؟ استاد جی بولے!

ایک حادثہ ہزاروں کہانیوں کو جنم دے جاتا ہے۔

جانے والے نے تو شائد ایک بار ہی جانا ہے پیچھے رہ جانے والے دنیا کے نشیب و فراز اورمشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جب تک رب چاہتا ہے یہ میرے رب کے فیصلے ہیں۔ انسان بے بس ہے،مٹی کا پتلا ہے۔

بات تو ان کی گہری تھی غور کیا تو اندازہ ہوا کہ اللہ کی حکمتیں اللہ ہی جانے،کسی کا وقت مقرر نہ ہو تو وہ موت کی وادی تک پہنچ کرخود ہی پلٹ آتا ہے اور جس کا وقت پورا ہوجائے تو پھر وہ خود ہی اپنی موت کے پاس چلا جاتا ہے۔ موت کا جب وقت آجائے تو پھر وہ عمر دیکھتی ہے نا موقع نا تہوار نا امیدوں کا لشکر نہ آرزووں کا سیلاب، اس نے تو بس تعمیل کرنی ہوتی ہے خدا کے حکم کی جس کے بغیر ایک پتّا بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ حکم ہے کہ جس کو وہ بچانا چاہے تو پھر ایک ائیر ہوسٹس اپنی ڈیوٹی پر تاخیر سے پہنچتی ہے اورسارے راستے خود کو ملامت کرتی ہے کوستی ہے اور پھر وہ طیارہ جب تباہ ہوتا ہے اور اس کی موت کی خبر چل رہی ہوتی ہے تو وہ خود آ کر اپنے زندہ بچ جانے کی نوید سناتی ہے۔ ایک حادثہ کہنے کو ایک سانحہ مگر اپنے ساتھ ہزاروں یادوں قصوں اور سانحوں کوجنم دے جاتا ہے۔ کاش یہ نا ہوتا کاش وہ نہ ہوتا۔ ہم سب یہی سوچتے رہ جاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہونا تو وہی ہے جو اس رب کی مرضی ہے۔ وہ جو خود کو گھروں میں بیٹھے بڑے محفوظ سمجھتے ہیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ابھی ایک طیارہ گرے گا اور ان کے گھر افطاری بنانے سے پہلے سے صف ماتم بچھ جائے گی۔ کہاں طیارے کے تمام مسافرگرتے ہیں مگر حکم ربی سے بس دو ہی بچتے ہیں۔ کہیں کسی صدقے کا معجزہ نظر آتا ہے کہیں قرآن مجید کسی گھر کو بچانے کا سبب بن جاتا ہے۔ کسی کو ضروری کام پڑجاتا ہے وہ فلائٹ کینسل کردیتا ہے کوئی ڈبل پیسے دے کر مہنگی ٹکٹ لے کر اپنی موت خرید رہا ہوتا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ اگلے پل کیا ہوجائے؟

ایک بندہ اپنی پوری فیملی کو لندن سے عید کے لیے لاہوربلاتا ہے پھر ان کو لینے خود لاہور جاتا ہے اور پھر پوری کی پوری فیملی میاں بیوی بچے حادثے میں شہید ہوجاتے ہیں۔ ان کا اپنا جو بھی پلان ہو لیکن قدرت تو

اپنے منصوبے پر کام کررہی تھی جس کا وقت پورا ہوگیا پھر وہ خود موت کی طرف کھنچا چلا آیا۔ موت کب کسی کو دیکھتی ہے اس نے تو بس آنا ہے چاہے صحافی ہو، ماڈل ہو، بنک ملازم ہو، قاری ہو، بچہ ہو، باپ ہو عورت ہو یا کوئی پاسنگ آئوٹ پریڈ کے بعد پہلی بار اپنے گھر کو لوٹنے والا لڑکپن کو چھوتا سپاہی ہو۔ ہم یہ تو اندازے لگا سکتے ہیں کہ اگلے ایک ہفتے میں کرونا کے اتنے مریض ہوں گے مگر یہ نہیں جانتے کہ جب اللہ کا حکم ہو گا تو ایک ہی لمحے میں اتنی لاشیں گننے کو ملیں گی۔ کتنا دکھی کردیتا ہے وہ لمحہ جب منزل سامنے ہو بس چند سیکنڈ کے فاصلے پر ہو اور گھر میں سب منتظر ہوں کہ بس اب آدھے گھنٹے میں پیارے آنے والے ہوں گے اور اس کے بعد آناً فاناً سب تباہ ہوجائے۔ سوچتی ہوں ان پر کیا بیتی ہوگی جو خوشی خوشی اپنے پیاروں سے ملنے جارہے تھے عید کے ہزاروں خواب لیے اور جب ایک دم سے جہاز لڑکھڑانے لگا ہوگا تو پھر ان پر کیا بیتی ہوگی کتنی دلخراش کیفیت ہوگی یہ سوچ کر بہت خوف آتا ہے!

بطور انسان ہماری منصوبہ بندی یہ تھی کہ کرونا سے بچائو کے لیے ڈیڑھ سو کی جگہ ۹۹ مسافرں کو بھیجا جائے مگر کیا خبر تھی کہ کرونا سے تو بچ جائیں گے مگر پھر بھی موت تو آکر رہے گی!

اب اس سانحے پر جو بھی کہیں بس میں تویہی جانتی، کہ سامنے رن وے ہو لیکن حکم ربی نہ ہو تو پھر کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ سیلوٹ اس شہید پائیلٹ کے لیے ! موت کو سامنے دیکھ کر اتنا حوصلہ پی آئی اے کے بدقسمت طیارے 8303 کے سجاد گل جیسے باوقار پائیلٹ کا ہی ہوسکتا ہے جو ایوی ایشن ٹاور سے آخری گفتگو میں اپنا لہجہ اور سماعتیں مستحکم رکھ کر کہتا ہے۔ ـہمارے انجن ناکارہ ہوچکے ہیں سر! ایوی ایشن کی دنیا میں یہ الفاظ سب سے خطرناک الفاظ ہیں یعنی کہ ڈیتھ وارنٹ پر دستخط اور آگے موت کھڑی ہے. ''مے ڈے - مے ڈے - مے ڈے''

صرف ایک منٹ کی دوری پر منزل تھی مگر اچانک منظر بدل گیا زندگی کی جگہ موت نے لے لی۔ خواہشوں اور خوابوں کے مجسم مقبرے بن گئے۔ ہائے ہائے کیسا ماتم ہوگا جہاں ان کے پیاروں نے پہنچنا تھا وہاں ان کے لاشے بھی سلامت نہ پہنچ سکے ایک تو یہ معمولی سے خطرناک وائرس کی وجہ سے اپنوں سے عارضی دوری جو پھر بھی برداشت تو ہو رہی تھی کہ چلو خیر خبر ملتی رہے گی۔ مگر اب تو ان جسموں کے ٹکڑے بھی نہیں مل رہے۔

دکھ تو بہت سی باتوں کا ہے مگر اس موقع پر اگر کرونا اور پی آئی اے کے عین عید سے ایک دن قبل سانحے کے باعث ٹی وی پر رنگین شوز نہ لگائے جاتے تو شائد لگتا کہ واقعی ہم میں کچھ احساس ہے یا پھر ہمارے وزیراعظم اس حادثے پر دو منٹ کا تعزیتی بیان دے دیتے یا قومی پرچم سرنگوں کر دیا جاتا تو تھوڑا غم کم ہوجاتا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

کرونا نے مساجد کو ویران کیا اس حادثے نے کئی گھر اجاڑدئیے، مگر میڈیا پربھی رنگینیاں چلتی رہیں اور حکومت بھی اس دکھ میں شریک نظر نہیں آئی!

تکبر کرنے والوں کے لیے ایک پیغام ہے جو سال دو ہزار بیس دے رہا ہے کہ حقیر نہ تو جہاز کی لینڈنگ سے قبل کے ساٹھ سیکنڈ ہیں نہ ہی وہ ان دیکھا کرونا وائرس جس نے پوری دنیاکا نظام پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ غور کریں تو ان دونوں صورتوں میں حقیر انسان ہی ہے جس کو خود پر بڑاغرور ہے؟

یہ سمجھ لیجئے زندگی ایک دھوکہ ہے،توبہ کی عادت اپنالیں اور شکرادا کریں ہر اس نعمت کے لیے جو خدا نے آپ کو اس مشکل وقت میں بھی عطا کی ہوئی ہے۔ .

باقی آپ جو بھی کہیں رمضان المبارک کامہینہ،جمعتہ الوداع کی پرنور ساعتیں اور بہت سے روزہ دار مسافر اور عملہ، یقیناً یہ سب کے سب شہید ہیں اللہ ان کے لواحقین کو صبر دے اور مرنے والوں کے درجات بلند کرے۔ آمین

مسند احمدبن حنبل کے مطابق ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ سات طرح کی موت سے پناہ مانگا کرتے تھے جس کے الفاظ یہ تھے۔

اچانک اور ناگہانی موت

درندے کی چیڑ پھاڑ سے موت

جل جانے سے موت

میدان جہاد سے بھاگتے ہوئے موت

سانپ کے ڈسنے سے موت

پانی میں ڈوب جانے سے موت

کسی چیز پر گرنے یا اس پرکسی چیز کے گر جانے سے موت

انا للہ وانا الیہ راجعون

موت اٹل حقیقت سہی ، لیکن منزل سامنے دیکھ کر لاکھوں ارمان لیے مر جانا آسان نہیں ہوتا۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہرقسم کی ناگہانی مصیبتوں آفتوں اور بُری موت سے بچائے۔آمین


ای پیپر